نوازشریف اور حواریوں نے خطرناک کھیل کا آغاز کر دیا،خرم نواز گنڈاپور

نوازشریف اور حواریوں نے خطرناک کھیل کا آغاز کر دیا،خرم نواز گنڈاپور

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ نواز شریف اور ان کے حواریوں نے وفاق پاکستان ،فوج اور عدلیہ کو ٹارگٹ کرکے خطرناک کھیل کا آغاز کر دیا، نظریاتی اور معاشی دہشت گردنااہل کی قیادت میں اکٹھے ہیں، محمود اچکزئی کی کے پی کے کو افغانستان کا حصہ کہنے کے بعد کشمیر چھوڑنے کی یاوہ گوئی قابل مذمت اور قابل گرفت ہے، نواز شریف نے 4 سال میں پاکستان کو کمزور کرنے والی قوتوں کی پشت پناہی کی، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں پر اتنے حملے 70 سال میں نہیں ہوئے جتنے نواز شریف کے سوا چار سالہ سیاہ عہد اقتدار میں ہوئے۔

، انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی کا خاندان بلوچستان میں اہم عہدوں پر فائز ہے ،پارلیمنٹ میں بھی ان کی نمائندگی ہے ، یہ نمک تو پاکستان کا کھاتے ہیں مگر بولی دشمنوں کی بولتے ہیں، ایسے لالچی اور پاکستان مخالف عناصر کے معاملے میں کوئی رو رعایت نہ برتی جائے، یہ عناصر ناقابل اصلاح اور ایک مخصوص ایجنڈے پر چل رہے ہیں، پارلیمنٹ میں صرف مالی مفادات سمیٹنے کیلئے گھستے ہیں، گزشتہ روز مرکزی سیکرٹریٹ میں گفتگو کرتے ہوئے خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ اچکزئی اور ان کی ٹیم کے کپتان نواز شریف کو آج کے دن تک بلوچستان میں دہشتگردی کا نیٹ ورک چلانے والے کلبھوشن کی مذمت کرنے کی توفیق نہ ہوئی جو معنی خیز ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں پرائمری نصاب میں قابل اعتراض تبدیلیوں کے بعدثابت ہو گیا کہ شریف برادران پاکستان مخالف قوتوں کے ایجنٹ ہیں جنہوں نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے کے بعد تعلیمی نظام میں اکھاڑ پچھاڑ شروع کر دی ،برصغیر پر قابض انگریز حکمرانوں نے مسلمان قوم کو ذہنی طور پر غلام بنانے کیلئے ماہر تعلیم میکالے کی خدمات حاصل کی تھیں ،70 ء سال بعد شریفوں نے پرائمری نصاب سے’’ رحمتہ العالمین ‘‘ ’’جشن عید میلاد النبیﷺ ‘‘ ’’حضرت علیؓ ‘‘ ’’پاکستان کا نقشہ‘‘ ’’قائداعظم کا سبق‘‘ اوریوم آزادی کے حوالے سے مضامین کو نکال کر انگریز میکالے سے بڑی تعلیمی دہشت گردی کی اور آج پاکستان کے عوام کو بے سمت کرنے کیلئے اسلام اور نظریہ پاکستان سے دور کیا جارہا ہے، نصاب میں حالیہ تبدیلیاں روٹین کی غلطیاں نہیں یہ سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے، اس سارے معاملہ کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1