پاکستان میں عدم برداشت کا دورہ دورہ ، ریاستی خاموشی کے سبب آئینی ادارے اپنی حدود میں رہنے کو تیار نہیں ، چیئر مین سینیٹ

پاکستان میں عدم برداشت کا دورہ دورہ ، ریاستی خاموشی کے سبب آئینی ادارے اپنی ...

 کراچی (این این آئی) چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے کہا ہے کہ آج بدقسمتی سے ملک میں عدم برداشت ہے ، ادارے جو آئین کے تحت کام کرتے ہیں وہ بھی ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور اپنی آئینی حدود میں رہنے کو تیار نہیں ۔ ان کی سب سے بڑی وجہ ریاستی خاموشی ہے۔پاکستان آزادی حاصل کرنے کے باوجود 70 سال بعد موہنجودوڑو سے بھی پیچھے ہے۔ آج کا پاکستان ایک دوسرے سے دست وگریبان ہیں، ہم مختلف گروہوں اور فرقوں میں تقسیم ہوئے ہیں،ضیاالحق کے دورمیں طلبہ یونینزپرپابندی عائد کی گئی، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لیبریونینوں کوتہس نہس کیا گیا ، اس دورمیں صرف مذہبی انتہاپسندوں کوکھلی اجازت تھی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو آرٹس کونسل میں آرٹس کونسل کے سابق سیکرٹری اور ریڈیو پاکستان کے سابق سٹیشن ڈائریکٹر یاور مہدی کی شخصیت اور کارناموں کے حوالوں سے سے سید عون عباس کی تصنیف ’’ہم کا استعارہ ‘‘ کی تقریب رونمائی سے بطور صدارت خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے پروفیسر انیس زیدی ، ڈاکٹر پروفیسر شاداب احسانی ، نثار زبیری ،سینیٹر خوش بخت شجاعت ، سابق کمشنر کراچی شفیق پراچہ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔میاں رضا ربانی نے کہا کہ ایوب خان کی آمریت کے خلاف ایک ریلہ آیا تھا مگر جب ضیاء الحق پاکستان پر مسلط ہوئے تو ملک کی ریاست نے اس بات کا جائزہ لیا کہ وہ کون سی طاقتیں ہیں جو آمریت کے سامنے کھڑی ہوتی ہے اور انہوں نے دیکھا کہ طلبہ اور مزدور یونینز ان میں پیش پیش تھیں لہٰذا جنرل ضیاء الحق نے مزدور یونینوں کا خاتمہ کردیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کا مزدور جل کر مر بھی جائے تو سرمایہ دار کو کیفرکردار تک نہیں پہنچایا جاتا اور اسی دوران طلبہ یونینوں پر بھی پابندی عائد کی گئی تاکہ یہ طبقہ جو دیوانگی میں آمر کی گولیوں کے سامنے اپنے سینے چھلنی کرواتے ہیں ان کی طاقت ختم ہو مگر بدقسمتی سے یہ پابندی ایسی تھی کہ قائداعظم کی سوچ کو پروان چڑھانے والوں پر تو پابندی تھی مگر مذہبی انتہاپسندی کو کھلی چھوٹ دی گئی اور یہی وجہ ہے کہ پوری پاکستانی قوم دہشت گردی کی صورت میں اس کا سامنا کررہی ہے اور آمریت کی ان کوششوں کی وجہ سے ٹیسٹ ٹیوب سیاست دانوں نے جنم لیا اور اب ہمارے درمیان حبیب جالب، فیض احمد فیض اور جون ایلیا جیسے لوگ اس معاشرہ کا حصہ نہیں بن پا رہے۔

چیئرمین سینیٹ

مزید : علاقائی