نواز شریف کا انکار

نواز شریف کا انکار
 نواز شریف کا انکار

  

بات یہیں نہیں رکے گی، حسین اور حسن نواز بھی لکھ دیں گے کہ وہ برطانوی شہری ہیں اور پاکستان کے قانون کے پابند نہیں ہیں ، اس لئے وہ نیب کے سامنے پیش نہیں ہو رہے ہیں۔ نون لیگ کے حلقے یہ بھی بتاتے ہیں کہ نواز شریف حلقہ 120میں بیگم کلثوم نواز کے لئے انتخابی مہم بھی چلائیں گے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ آئین میں ترامیم کی مہم بھی چلائیں گے اور اسمبلی میں اپنی اکثریت کی بنا پر آئین کو تبدیل بھی کریں گے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آئین میں ترامیم ہی ان کی اگلی انتخابی مہم کا کلیدی نکتہ ہو اور اگر وہ آئین میں ہونے والی چیرہ دستیوں کو درست کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اگلے پانچ سو سال تک پاکستان کی سیاست میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ ان حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نواز شریف بذریعہ سٹرک ملتان روڈ سے سفر کرتے ہوئے رحیم یار خان تک ایک اور ریلی بھی نکال سکتے ہیں، اس حوالے سے تمام آپشنز ابھی کھلے ہیں۔

نون لیگی حلقے بتاتے ہیں کہ میاں شہباز شریف کو اسی لئے 10ماہ کے لئے وزیر اعظم نہیں بنایا گیا کہ وہ 2018کے بعد اس عہدے کے لئے نون لیگ کے امیدوار ہوں گے، پنجاب میں مریم نواز شریف وزیر اعلیٰ ہوں گی اور ان کے بعد اگر شریف فیملی سے کوئی اس عہدے پر آسکتا ہے تو حمزہ شہباز نہیں بلکہ سلمان شہباز ہوں گے ، تب تک خواجہ محمد آصف سے لے کر ہر سینئر نون لیگی لیڈر کے بیٹے سیاست میں سرگرم ہو چکے ہوں گے اور نون لیگی سیاست اسی طرح آگے بڑھے گی ، وہ بتاتے ہیں کہ وزیر داخلہ احسن اقبال اور تہمینہ دولتانہ کے بیٹے تو عملی سیاست میں سرگرم ہو بھی چکے ہیں جبکہ خواجہ آصف کے صاحبزادے بالکل تیار بیٹھے ہیں۔ یہی حال باقی سینئر قیادت کے صاحبزادگان کا ہے۔ نون لیگی قیادت مریم نواز سے غیر معمولی حد تک مطمئن نظر آتی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز کے برعکس مریم نواز انتہائی سلجھی ہوئی خاتون کے طور پر اپنا آپ منواتی نظر آتی ہیں ۔ ایک قدرے نوجوان لیگی لیڈر جو مریم سے چار سے پانچ سال بڑے ہوں گے بتارہے تھے کہ مریم انہیں بھائی جان کہہ کر بلاتی ہیں اور جب وہ بات کررہے ہوں تو احتراماً خاموش رہتی ہیں ۔ ایسی تمام باتیں مریم کو حمزہ کے مقابلے میں ممتاز کردیتی ہیں ۔ یوں بھی لیگی لیڈر حمزہ میاں کو ’بانکے میاں ‘سے تعبیر کرتے ہیں جسے کارنر کرنے کے لئے عائشہ احد جیسی بلا کافی ہوگی۔

جہاں تک مریم نواز کا تعلق ہے تو پارٹی کا تمام تر سافٹ کارنر اس کے ساتھ ہے۔ یوں بھی سیاست میں تقدیر تدبیر پر فوقیت رکھتی ہے !لیگی حلقوں کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی طرح سلمان شہباز بھی چھپے رستم ثابت ہوں گے لیکن اگر ایسا ہے تو وقت پڑنے پر حسین اور حسن نواز بھی کچھ کم ثابت نہیں ہو سکتے۔دوسرے لفظوں میں شریف فیملی کی بقا میں ہی نون لیگ کی بقا ہے ، دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اگر نون لیگ تقسیم ہو گئی اور نون سے نواز کی بجائے نون سے نثار پڑھا جانے لگا تو کیا ہوگا، اس سے بڑھ کر یہ دیکھنا ہوگا کہ اس مخالف دھڑے کو عوام میں کس حد تک پذیرائی ملتی ہے ، وہ کس کے متوالے اور وہ کس کے جانثار ثابت ہوتے ہیں۔

لیڈر وہ ہوتا ہے جس کی بات سنی جاتی ہے اور اس وقت قوم کا بڑا حصہ نواز شریف کی بات سن رہا ہے ، انہیں رد نہیں کررہا ۔ اس سے بڑی بات یہ ہوتی ہے کہ لیڈر کو بات کہنے کا ڈھنگ آتا ہو ، نواز شریف عوام کو بتارہے ہیں کہ انہیں جس راستے سے نکالاگیا وہ راستہ غلط تھا۔ اگر عوام کو یہ بات سمجھ آگئی تو شریف فیملی آنے والی کئی دہائیوں تک راج کر سکتی ہے ، اگر وہ سمجھانے میں کامیاب ہو گئے کہ کوئی بھی فیصلہ بیس کروڑ عوام کے فیصلے پر فوقیت نہیں رکھتا تو پاکستان آگے بڑھے گاوگرنہ گاڑی پھنسی ہوئی تو ہے جسے عوام پیچھے سے اور اسٹیبلشمنٹ آگے سے دھکا لگائے جا رہے ہیں۔نواز شریف کا انکار ابھی بغاوت کے زمرے میں لیا جا رہا ہے لیکن اس انکار پر اصرار جاری رہا تو انقلاب کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے!لیکن اگر اسٹیبلشمنٹ عوام کو باور کرانے میں کامیاب ہو گئی کہ نواز شریف مودی کے یار ہیں اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں فوج کی پالیسی کے برعکس پالیسی پر گامزن ہیں اور اسی لئے انہیں اقتدار سے نکال باہر کیا گیا ہے اور اسی لئے ڈان لیکس کا سکینڈل سامنے آیا تھا جس کو کھولنے کے لئے چوہدری نثار نے پر تولنا شروع کردیئے ہیں تو پھر بے نظیر بھٹو کی طرح مریم نواز ساری عمر شریف فیملی کے ماتھے سے بھارتی ایجنٹی کا داغ دھوتے گزرے گی! پاکستان کو قائم ہوئے ستر برس گزر گئے مگر ملک کے پولیٹیکل اور نان پولیٹیکل ایکٹرز کے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے سکرپٹ تبدیل نہیں ہوئے ، اس دھکم پیل کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ایک طرف ریگل چوک پر منشیات کے عادی بھکاریوں کی تعداد میں دوبارہ سے اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف لوگ ذہنی بیماریوں کا شکار ہو کر سڑکوں پر اپنے آپ سے لڑ تے نظر آتے ہیں۔

مزید : کالم