لکڑی سے بنی پہلی کار 2020 تک سڑک پر آجائے گی

لکڑی سے بنی پہلی کار 2020 تک سڑک پر آجائے گی
 لکڑی سے بنی پہلی کار 2020 تک سڑک پر آجائے گی

  

ٹوکیو(مانیٹرنگ ڈیسک)جاپانی انجینیئروں نے لکڑی سے حاصل ہونے والے اجزا سے کار بنانے کا اعلان کیا ہے جو موجودہ گاڑیوں کے وزن کے پانچویں حصے کے برابر اور فولاد سے بھی پانچ گنا مضبوط ہوگی۔ماہرین کے مطابق درختوں سے حاصل شدہ سیلولوز نینوفائبر سے اگلے چند عشروں میں گاڑیاں بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ کیوٹو یونیورسٹی کے ماہرین اور کاروں کے پرزے بنانے والی بڑی کمپنیاں نینوفائبرز میں پلاسٹک شامل کرنے پر ایک عرصے سے کام کر رہی ہیں۔ اس کے لیے لکڑی کے گودے کے ریشوں کو مزید مختصر کرتے ہوئے کئی سو مائیکرون تک باریک کرکے استعمال کیا جائے گا۔واضح رہے کہ ایک مائیکرون ایک ملی میٹر کا بھی ایک ہزارواں حصہ ہوتا ہے۔ لکڑی کے اتنے باریک ریشوں کو سیلولیوز نینوفائبرز کہا جاتا ہے جو اب بھی سیاہی سے لے کر ٹرانسپیرنٹ ڈسپلے تک کی تیاری میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔کاروں کے لیے لکڑی استعمال کرنے کا طریقہ ’کیوٹو پروسیس‘ کہلاتا ہے جس میں لکڑی کے برادے کو کیمیائی عمل سے گزار کر اس میں پلاسٹک ملایا جاتا ہے اور اسے مزید باریک کر کے نینوفائبرز تیار کیے جاتے ہیں۔ کیوٹو پروسیس سے پرزوں کی تیاری کی لاگت گھٹ کر پانچویں حصے کے برابر ہو گئی ہے ورنہ یہ بہت مہنگا نسخہ تھا۔کیوٹو یونیورسٹی کے پروفیسر ہیرو آکی یانو اس ٹیکنالوجی کے ماہر ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ 2030 تک سیلولیوز نینوفائبر کی ایک کلو مقدار کی قیمت ا?دھی ہو جائے گی جو اس وقت 1000 روپے فی کلو ہے۔ قیمت میں کمی سے گاڑیوں کی باڈی سیلولیوز نینوفائبرز سے بنانا بہت حد تک ممکن ہو جائے گا۔

کار

مزید : علاقائی