کیا انتخابات ہوں گے؟

کیا انتخابات ہوں گے؟
 کیا انتخابات ہوں گے؟

  

’کیا انتخابات ہوں گے‘ ، بھولے نے مجھ سے پوچھا، ’ کیوں نہیں ہوں گے‘، میرا سوال کے جواب میں سوال تھا اور بھولے کا موقف تھا کہ حالات اس قسم کے بن رہے ہیں کہ انتخابات کا بروقت انعقاد مشکل ہو سکتا ہے ، کڑے احتساب اور مو ثرنظام کی تشکیل کے لئے انتخابات کو ملتوی کیا جا سکتا ہے تاکہ آئین کی منشاء کے عین مطابق دفعہ باسٹھ اور تریسٹھ پر پورے اترنے والے ہی سیاستدان ہی ارکان بن سکیں اور لٹیروں کا راستہ روکا جاسکے، اس کے پاس بہت بڑے دانشوروں کی ٹی وی چینلوں پر دی گئی افواہیں تھیں جو حالات خراب ہونے اور ٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم ہونے کے امکانات بیان کر رہے ہیں۔ میرا جواب تھا کہ ہماری تاریخ میں ہمیشہ بھولوں کو ایسی چکنی چپڑی باتوں سے ہی بے وقوف بنایا جاتا رہا ہے اور وہ ہنسی خوشی بنتے رہے ہیں ، کبھی کبھار تو اس میں مذہب کا تڑکا بھی لگا دیا جاتا رہا ہے تاکہ آمریت کا درخت مقدس بن جائے اور کوئی اس کے تنے پر کلہاڑا نہ چلا سکے۔ اگر ہمارے کچھ نام نہاد دانشور ایسی باتیں کر رہے ہیں تو انہیں یہ بھی بتانا ہو گا کہ انتخابات کا التوا کیسے ممکن ہے، ٹیکنو کریٹس کی حکومت آئین کی کس شق کے تحت قائم ہو سکتی ہے کہ آئین میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں، اگر آپ لمبے عرصے کے لئے ٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں تواس کے لئے آپ کو مارشل لاء لگانا پڑے گا ، مگر یہ عمل آئینی ہرگز نہیں ہو گا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کے رہنما نے ’ نااہل‘ ہونے کے باوجود ملک میں جاری آئینی ، جمہوری اور سیاسی نظام کو معطل نہیں ہونے دیا، اس سیاسی جماعت نے سول نافرمانی جیسی کوئی کال بھی نہیں دی لہذا امن و امان سمیت کسی قسم کا کوئی مسئلہ بھی پیدانہیں ہوا۔

بھولے کا کہنا تھا کہ اگر اسمبلیاں ٹوٹ جائیں تو پھر ٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم ہو سکتی ہے، میرا سوال تھا کہ میاں نواز شریف کی مرضی کے بغیر اسمبلیاں نہیں ٹوٹ سکتیں، سوچنے کی بات ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی قومی اسمبلی اور وزرائے اعلیٰ صوبائی اسمبلیاں کیوں توڑیں گے، اگر مسلم لیگ نون سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی تو پیپلزپارٹی سے بھی یہ امید عبث ہے، تحریک انصاف نے دھرنوں میں قومی اسمبلی ختم کروانے کی یہاں تک کوشش کی کہ اس کے تمام ایم این اے مستعفی ہو گئے مگر انہوں نے اپنی صوبائی اسمبلی توڑنے کی حماقت اس وقت بھی نہیں کی۔ تحریک انصاف کو اچھی طرح علم ہے کہ خیبر پختونخوا میں پشتون بھائیوں نے کبھی کسی سیاسی جماعت کو تسلسل کے ساتھ دوبارہ موقع نہیں دیا لہٰذا وہ ان آٹھ، دس مہینوں کے موج میلے کو کبھی لات نہیں ماریں گے۔

میاں نواز شریف نے تو اس وقت بھی اسمبلی تحلیل نہیں کی تھی جب ان کے اوپر بندوق کی نوک رکھ دی گئی تھی او راب بھی ان سے ایسے کسی فیصلے کی توقع نہیں کی جا سکتی اور دوسرے اگر اسمبلیاں تحلیل بھی کر دی جائیں تو اس کے بعد حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت سے ایک نگران حکومت بنے گی جس کا آئین کے مطابق واحد مینڈیٹ ہی انتخابات کا انعقاد ہو گا۔ ہم نے آج تک آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے جتنے بھی بیانات سنے ہیں ان میں وہ آئین اور نظام کے ساتھ اپنی کمٹ منٹ کا اظہار کرتے ہوئے نظر آ ئے ہیں اور جہاں تک باسٹھ ،تریسٹھ کے مطابق نیک اور اچھے امیدواروں کا سوال ہے تو یہ مقصد محض کاغذات کی سکروٹنی سخت کر کے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے، اس کے لئے ٹیکنوکریٹس کی کسی بھی طویل مدتی حکومت کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے خیال میں مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے بعد تیسری بڑی جماعت تحریک انصاف کو بھی ٹیکنوکریٹس کی حکومت قابل قبول نہیں ہو گی کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاست میں دوسری دونوں جماعتیں اسے ٹف ٹائم دے سکتی ہیں۔ اب وہ وقت گزر گئے جب آپ اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر جماعت کا تاثر دے کر انتخابات جیت لیا کرتے تھے، اب یہ صلاحیت مثبت کی بجائے منفی ہو چکی ہے۔

بھولے کا دوسرا سوال تھا کہ کیا ایسے شفاف انتخابات ہو سکتے ہیں جن میں مسلم لیگ نون دھاندلی نہ کر سکے، میرے لئے یہ سوال مضحکہ خیز تھا، میں نے بھولے سے پوچھا کہ جو جماعت پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ لینے اور سب سے زیادہ تجربہ رکھنے کے باوجود اپنے سربراہ کو نہیں بچا سکی تو وہ انتخابات میں دھاندلی کیسے کر سکے گی۔ انتخابات میں دھاندلی کا الزام بھی اس جماعت پر ہی لگایا جا سکتا ہے جو کنگز پارٹی ہو اور اس وقت کنگز پارٹی کا درجہ تحریک انصاف کو حاصل ہے جس کا ہر رہنما اپنے طور پر ہی آئی ایس پی آر بنا پھرتا ہے۔ انتخابی نظام پر عدم اعتماد کا جذباتی اظہار اور انتخابی اصلاحات کامطالبہ اپنی جگہ پر مگر اس کی عدم موجودگی میں بھی موجودہ نظام کسی طور بھی دھاندلی کی اجازت اور موقع نہیں دیتا، ہاں، یہ ضرور ہوتا ہے کہ جو ہار جاتا ہے وہ اپنی شکست تسلیم کرنے کی بجائے دھاندلی کا شور مچانے لگتا ہے۔ اس وقت ہماری ووٹرز لسٹیں کمپیوٹرائزڈ ہیں، ان پر ووٹروں کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نمبر ہی نہیں بلکہ ان کی تصویریں تک موجود ہیں۔ آپ اپنے موبائل فون سے کسی بھی ووٹر کی تفصیل اپنے فون پر معلوم کر سکتے ہیں۔ جب انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے تو انہی تفصیلات پر مبنی ووٹر کی پرچی جاری کی جاتی ہے، پولنگ اسٹیشن کے اندر جاتے ہوئے اصلی شناختی کارڈ دیکھا جاتا ہے، پولنگ اسٹیشن کے اندر تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں، پہلی قسم پولنگ کے سرکاری عملے کی ہے جو پرچی اور شناختی کارڈ دیکھ کر ووٹ کا اندراج کرتا ہے،یہ ضروری نہیں کہ یہ عملہ سابق حکمران جماعت کا ہی ہمدرد ہو، دوسرے پولنگ ایجنٹ ہوتے ہیں جو اپنی اپنی سیاسی جماعت کے وفادار اور مفادات کے محافظ ہوتے ہیں اور تیسرے فوجی جوان ہوتے ہیں اور ایسے میں جونہی کسی ووٹر پر شک ہوتا ہے اس کو ووٹ ڈالنے سے روک دیا جاتا ہے لہذا جعلی ووٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ووٹنگ کے بعد گنتی کا مرحلہ شروع ہوتا ہے تو اس وقت بھی پولنگ اسٹیشن کے باہر تمام جماعتوں کے سرگرم کارکن اور اندرفوجی جوانوں کے ساتھ پولنگ ایجنٹ ہوتے ہیں، گنتی میں ایک ایک ووٹ کو سب دیکھتے اور اس کی ڈھیریاں لگاتے ہیں، اس کے بعد فارم چودہ بھرا جاتا ہے اور تمام متعلقہ لوگوں کے اس پر دستخط کروائے جاتے ہیں لہذا اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پریذائیڈنگ افسران تک معاملہ ٹھیک ہے اور ریٹرننگ افسران یعنی آر اوز نتیجہ تبدیل کر سکتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ ہولڈر تمام پولنگ اسٹیشنوں کے فارم چودہ سنبھال کے رکھیں اور جیسے ہی انہیں یہ لگے کہ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی گنتی سے مختلف نتیجہ کا اعلان کر دیا گیا ہے تو فوری طور پر خو د ہی جمع تفریق کر لیں۔ ہمارا المیہ ہے کہ ہمارے سیاستدانوں میں سپورٹس مین سپرٹ نہیں ہے ، چاہے وہ خود کبھی کھلاڑی ہی کیوں نہ رہے ہوں، وہ شکست کو تسلیم نہیں کرتے۔ گذشتہ عام انتخابات میں بھی تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی نے پنجاب میں دھاندلی کا الزام لگایا جہاں سے وہ ہار گئے مگر ان دونوں کی نظر میں بالترتیب خیبرپختونخوا اور سندھ کے انتخابات صاف اور شفاف تھے۔

بھولے نے پوچھا کہ اگر یہ سب کچھ ایسے ہی ہے تو پھر اگلے انتخابات کون جیتے گا، میر اجواب تھا اس کا فیصلہ عوام کی خدمت اور کارکردگی پر ہونا چاہئے، میں ایک ووٹر کے طور پر اسی جماعت کو حکومت کرنے کا اختیار دوں گا جو عوامی خدمت میں سب سے آگے ہو گی۔ جہاں تک کرپشن کا سوال ہے تو میں کرپشن کی روک تھام کے لئے ایک موثر نظام چاہتا ہوں جو صرف سیاستدانوں کو ٹارگٹ نہ کرے۔ میرے مسائل یہ ہیں کہ مجھے پینے کا صاف پانی ملنا چاہئے، مجھے تعلیم اور صحت کی سہولتیں ملنی چاہئیں، مجھے سڑکیں اور پبلک ٹرانسپورٹ درکار ہے، مجھے اور میری آنے والی نسلوں کو روزگار کے مواقعے چاہئیں اور جو مجھے یہ دے گا میں اس کے جواب میں اسے ووٹ دوں گا ۔کسی بھی سیاستدان کا کسی بھی ملک میں سب سے بڑ ا احتساب یہی ہے کہ اگر اسے برا سمجھاجائے تو اسے ووٹ نہ دیا جائے، میں تو انتخابات میں ہی فیصلہ کروں گا کہ مجھے کون سا سیاستدان اس لئے ناپسند ہے کہ اس کی آف شوران ڈیکلئیرڈ کمپنی ہے یا کوئی دوسرا اس لئے ناپسند ہے کہ اس کی آف شور ان ڈیکلئیرڈ اولاد ہے۔

مزید : کالم