ریفرنس فائل کرنے والوں کا مقابلہ کرینگے ، زرداری کو گرینڈ ڈائیلاگ میں شامل ہونا چاہئے ، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی

ریفرنس فائل کرنے والوں کا مقابلہ کرینگے ، زرداری کو گرینڈ ڈائیلاگ میں شامل ...

 کوئٹہ( مانیٹرنگ ڈیسک228نیوز ایجنسیاں) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کسی ادارے کی کسی دوسرے ادارے کے ساتھ محاذ آرائی نہیں۔ جو بھی ریفرنس فائل ہو گا، ہم اس کا جواب دینگے اور مقابلہ بھی کرینگے، اپنا دفاع کرنا ہر ادارے کا حق ہے، صوبوں کو جتنے فنڈز دیئے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، صوبوں کو مکمل رائلٹی ملتی ہے، صوبے آج کسی طرح بھی طرح نقصان میں نہیں ہیں، گیس کے حوالے سے سارے صوبے مثبت جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں بات چیت کا سلسلہ جاری رہتا ہے، زرداری صاحب نے موقع کا فائدہ اٹھا کر بیان دیا، انہیں گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ میں شامل ہونا چاہئے۔ سیاسی جماعتوں کے اندر ہمیشہ مختلف معاملات پر بات چیت رہتی ہے، چاہے وہ آئینی ترامیم ہوں یا قانون، بات چیت جاری رہنی چاہیے۔وزیراعظم نے کہا کہ مجھے امید ہے وہ اس عمل میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن کا سال ہے ہرشخص سیاسی بیان دیتا ہے لیکن فیصلہ آئندہ سال 4 جون کے بعد الیکشن میں عوام کریں گے۔ وزیر اعظم نے گورنر بلوچستان اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ساتھ پریس کانفنرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میٹنگز میں تین معاملات پر غور کیا گیا، سب سے پہلے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر غور کیا گیا اور اس کی بہتری کیلئے ہر ممکن اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دوسرے نمبر پر صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا ، سابق وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کے شروع کردہ ہر منصوبے کو جاری رکھنے اور مزید پھیلانے کے معاملے پر غور کیا ۔ ہر ضلع میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنانا اور صوبے کے پانی کے مسائل کو حل کرنا اولین ترجیح ہے۔ کچھی کینال کا منصوبہ چند روز میں مکمل ہو جائے گا اور صوبے کی ستر ہزار ایکڑ زمین اس سے سیراب ہو گی، چھوٹے ڈیم بھی زیرتعمیر ہیں جو انشاء اللہ جلد مکمل ہو جائیں گے، ٹیوب ویلز کو سولر توانائی پر لائیں گے، ہیلتھ کارڈ سکیم کو ہر ضلع تک پھیلایا جا ئے گا۔ بہت جلد بلوچستان ملک کا امیرترین صوبہ بن جائے گا۔سیاسی جماعتوں میں بات چیت کا سلسلہ جاری رہتا ہے، زرداری صاحب نے موقع کا فائدہ اٹھا کر بیان دیا، انہیں گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ میں شامل ہونا چاہئے۔ صوبے میں نوازشریف کی اسکیموں کو آگے بڑھانے کے فیصلے بھی کیے گئے ہیں، صوبے میں پانی کے ذخائر کے لیے نیا منصوبہ بنایا جائے گا ،ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پرمنتقل کیا جائے گا۔اداروں کے ساتھ محاذ آرائی اور بازگشت سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔وزیراعظم نے کہا کہ ریفرنس فائل کرنا جس کا کام ہے وہ کرے اس کا جواب دیا جائے گا اور مقابلہ بھی کیا جائیگا۔ منتخب حکومت ہی اسٹیبلشمنٹ ہوتی ہے، جب اخبار پڑھتا ہوں تو محاذ آرائی نظر آتی ہے ورنہ نہیں ہوتی۔ مسلم لیگ ن پورے پاکستان کی جماعت ہے جس نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے۔پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے کوشاں ہیں الیکشن اگلے سال ہوں گے اور عوام فیصلہ کریں گے ۔صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے 2013ء کی نسبت آج صوبے میں حالات بہت بہتر ہیں بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بھی اجلاس ہوا ، انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کئی سال سے زیر التوا کچھی کینال کے منصوبے کو اس حکومت نے مکمل کیا ہے اور قوی امید ہے کہ دس ہفتہ میں یہ منصوبہ کام شروع کر دے گا اور بلوچستان کی 70ہزار ایکڑ زمین سیراب ہو گی اس کے دوسرے مرحلے پر بھی جلد کام شروع کر کے مکمل جائے گا۔ اجلاس میں سی پیک کے منصوبوں پر غور کیا گیا گڈانی میں خلیفہ کوسٹل کے نام سے جو ریفائنری ہوتی تھی اسے پارکو کوسٹل ریفائنری میں تبدیل کیا گیا ہے اور انشاء اللہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہو گا اس کے ساتھ ساتھ سوشل سیکٹر کی دو سکیمیں ہیں ایک ہیلتھ کارڈ کی سکیم ہے جسے نواز شریف نے خود یہاں آکر 6ضلعوں میں شروع کیا تھا اور انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ اسے مذید توسیع دی جائے گی ان کے حکم اور وزیر اعلٰی کی خواہش کے مطابق اس سکیم کو پورے بلوچستان میں پھیلایا جائے گا اور ہر ضلع میں اس کی کوریج مکمل طور پر کی جائے گی اسی طرح بی آئی ایس پی کو بھی پورے صوبے تک توسیع دی جائے گی تا کہ یہاں کے غریب لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں پاکستان مسلم لیگ ن اور نواز شریف اس صوبے کو امیر ترین دیکھنے کے خواہش مند ہیں اور پوری امید ہے کہ ہماری یہ خواہش جلد پوری ہو گی میڈیا کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم سب پاکستان کو خوشحال دیکھنا اور عوامی مشکلات کا حل چاہتے ہیں سب اسی سمت پر کام کر رہے ہیں ایک اور سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارا کام حکومت کرنا اور عوام کے مسائل کو حل کرنا ہے ۔مجھے معلوم نہیں زرداری صاحب کس بحث کا حوالہ دے رہے تھے بہرحال سیاسی جماعتوں میں ممکن ایشوز پر ہمیشہ بات چیت جاری رہنی چاہیے وہ آئینی ترامیم ہوں یا ملک میں سیاسی ماحول کے بارے میں بات چیت ، یہ بات چیت جاری رہنی چاہیے۔ زرداری کو اس میں ضرور شامل ہونا چاہیے بات چیت ہی سیاست ہے مجھے امید ہے آصف زرداری بھی اس ڈائیلاگ میں شامل ہوں گے اور دیگر جماعتیں بھی شامل ہوں گی الیکشن اگلے سال جون میں ہوں گے اور پاکستان کے عوام فیصلہ کریں گے۔زرداری نے موقع کا استعمال کیا بہرحال فیصلہ عوام 4جون کے بعد الیکشن میں کردیں گے۔ صوبائی تعصب کی نفی کرتے ہیں کہ ن لیگ پورے پاکستان کی جماعت ہے ہم نے عمل سے ثابت کیا ہے جب ہماری حکومت آئی تو صوبوں کو 1200ارب روپے سالانہ ملتے تھے اس حکومت نے 1900 ارب روپے سے زیادہ رقم پچھلے سال صوبوں کو دی۔دورہ کوئٹہ میں وزیراعظم کو بلوچستان میں امن و امان اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی، وزیراعظم نے ارکان اسمبلی اور قبائلی عمائدین سے ملاقا تیں بھی کیں۔

مزید : صفحہ اول