معذور نوجوان نے پاؤں کے انگوٹھے سے کتاب ٹائپ کر کے ہمت کی نئی مثال قائم کردی

معذور نوجوان نے پاؤں کے انگوٹھے سے کتاب ٹائپ کر کے ہمت کی نئی مثال قائم کردی
معذور نوجوان نے پاؤں کے انگوٹھے سے کتاب ٹائپ کر کے ہمت کی نئی مثال قائم کردی

  

سنگاپور(مانیٹرنگ ڈیسک)شدید معذوری کے شکار 38 سالہ نوجوان نے عزم وہمت کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے اپنے ایک پاؤں کے انگوٹھے سے کتاب ٹائپ کر کے شائع کرا دی۔ویسلے وی پیدائشی طور پر لاعلاج سیربرل پالسی کا شکار ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید شدید ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے جسم کے اکثر حصے پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتے اور وہیل چیئر کے محتاج ہو چکے ہیں، ویسلے نہ تو خود کھانا کھا سکتے ہیں اور نہ ہی کپڑے پہن سکتے ہیں لیکن ان کے سیدھے پیر کا انگوٹھا مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہے جس سے انہوں نے 5 سال تک ٹائپ کرنے کے بعد اپنی سوانح حیات شائع کرا دی ہے۔ اس کتاب کا عنوان ’ مسائل کے برخلاف، خوشی کی تلاش‘ ہے۔شدید معذوری نہ صرف ویسلے کے لیے تکلیف دہ ہے بلکہ اسے اپنے والدین کی جانب سے بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی مسلسل دیکھ بھال سے اکتا کر اس کی والدہ نے اسے زدوکوب بھی کیا اور یہ بھی کہا تم مر ہی جاؤ تو بہتر ہے۔ اس کے والد رات کو ویسلے سے سخت ورزش کراتے تاکہ وہ چلنے پھرنے کے قابل ہو سکے۔ اسے ایک فریم پکڑ کر رات کے وقت گھر کے 10 چکر لگوائے جاتے لیکن یہ عمل اس کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا اور بولنے سے قاصر بچہ اس تکلیف کو بیان بھی نہیں کرپاتا تھا۔ اس پر اس کے والد اسے گھسیٹ کر غسل خانے لے جاتے اور بھری بالٹی میں اس کا سر ڈبو دیتے۔ اپنے والدین کی سختیوں سے تنگ آ کر ویسلے اپنے نانا کے پاس چلا گیا جو اس سے بہت پیار کرتے اور اس کی معذوری کو سمجھتے تھے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4