گوانتا موجے جیل میں قید پاکستانی تاجر سیف اللہ پراچہ کی رہائی کی اپیل پھر مسترد

گوانتا موجے جیل میں قید پاکستانی تاجر سیف اللہ پراچہ کی رہائی کی اپیل پھر ...
 گوانتا موجے جیل میں قید پاکستانی تاجر سیف اللہ پراچہ کی رہائی کی اپیل پھر مسترد

  

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ، اظہر زمان) کراچی سے تعلق رکھنے والے دولتمند تاجر اور دل کے مریض 69 سالہ سیف اللہ پراچہ کو گوا نتا مو بے جیل میں قید ہوئے چودہ سال بیت گئے ہیں اور اس کی رہائی کی اپیل کو نظرثانی بورڈ نے ایک مرتبہ پھر مسترد کر دیا ہے۔ بورڈ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ’’ہمیشہ کے قیدی‘‘ سیف اللہ پراچہ نے چونکہ القاعدہ سے تعلق کا اعتراف نہیں کیا اس لئے اسے ہمدردی کی رعایت نہیں د ی جاسکتی جبکہ ملزم کا موقف ہے اس کی القاعدہ سے کوئی نظریاتی وابستگی نہیں ،تاہم اس نے القاعدہ لیڈروں سے مل کر صرف منافع بخش کار و با ر کیا۔نظر ثانی بورڈ نے واشنگٹن میں پینٹاگون کی عمارت سے ویڈیو لنک کے ذریعے کیوبا کے ساحل پر واقع گوانتاموبے جیل میں موجود سیف اللہ پراچہ سے انٹرویو کیا، اس موقع پرملزم کے سرکاری اٹارنی اور انسانی حقوق کے علمبردار ڈیوڈ ریمیز بھی پینٹاگون میں موجودتھے، جنہوں نے ملزم کی جانب سے مقدمے کی پیروی کی۔پینٹاگون ذرائع اور ملزم کے اٹارنی ڈیوڈ ریمیز کے مطابق سیف اللہ پراچہ کا کراچی میں امپورٹ ایکسپورٹ کا کامیاب بزنس تھا جہاں وہ اپنی اہلیہ فرحت، ایک بیٹی اور دو بیٹوں کیساتھ آسودہ زندگی گزار رہا تھا، کچھ عرصے کے بعد وہ اکیلا نیویارک میں واقع کوئنز کے علاقے میں منتقل ہوگیا لیکن کراچی اور نیویارک کے درمیان آمدورفت کے دوران اپنا کاروبار جاری رکھا۔ کوئنز میں اسکی رہائش اس گلی میں تھی جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کا گھر تھا لیکن اس سے ملاقات کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اسی ’’ہمسائیگی‘‘ کی بناء پر سیف اللہ پراچہ اپنے مقدمے میں مدد کیلئے صدر ٹرمپ کو ایک خط بھی لکھنا چاہتا ہے۔ سیف اللہ پراچہ کے پاس امریکہ کیساتھ کاروبار کیلئے امپورٹ ،ایکسپورٹ کے لائسنس تھے جس کے ذریعے آسانی سے اشیاء اور نقد رقم کا تبادلہ ہوسکتا تھا، اسلئے القاعدہ کے لیڈروں نے اپنی خفیہ کارروائیوں میں مدد کیلئے اسے موزوں سمجھ کر اس سے رابطہ پیدا کیا، سیف اللہ پراچہ نے اعتراف کیا کہ خالد شیخ محمد جس کا بھی تعلق کراچی سے ہے نے اس سے ملاقات کی اور پھر اسے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن سے ملوایا۔ سیف اللہ پراچہ کا 36 سالہ بیٹا عزیر بھی اس کاروبار میں اس کی مدد کرتا تھا۔ اس نے اپنی کمپنی کے ذریعے القاعدہ کے کچھ کارندوں اور ان کی اشیاء اور نقد رقم کو امریکہ پہنچانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اٹارنی کے مطابق سیف اللہ پراچہ کی اسامہ بن لادن اور خالد شیخ محمد سے ملاقاتیں 1999ء اور 2000ء کے قریب ہوئیں۔ اس سارے کام میں اس کا بڑا بیٹا 36 سالہ عزیر بھی شریک رہا، جو اس وقت القاعدہ کے ایک کارندے ماجد خان کو امریکہ میں غیر قانونی طور پر لانے کے جرم میں 30 سالہ قید بھگت رہا ہے۔ وہ نیویارک میں گرین کارڈ ہولڈر تھا، جب اسے مارچ 2003ء میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن مقدمہ چلنے کے بعد اسے نومبر 2005ء میں سزا سنائی گئی، جو اپنی 30 سالہ قید کے بارہ سال پورے کرچکا ہے اور اس وقت نیویارک کی ایک جیل میں قید ہے۔ اس کی ماں اور سیف اللہ پراچہ کی بیوی فرحت نے بھی نیویارک یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ عزیر پراچہ پر الزام ہے کہ اس نے القاعدہ کے کارندے ماجد خان اور عافیہ صدیقی کے مبینہ دوسرے خاوند عمار بلوچی سے اس مدد کیلئے دو لاکھ ڈالر وصول کئے تھے۔ عمار بلوچی اس وقت گوانتاموبے کی جیل میں قید ہے۔سیف اللہ پراچہ کے القاعدہ سے رابطو ں کا ایف بی آئی کو علم ہوا تو اس کے ایک ایجنٹ نے کاروباری ڈیل کے تبادلے میں اسے جولائی 2003ء میں بنکاک بلایا اور گرفتار کرکے اسے افغانستان بھیج دیا، جہاں 10 ماہ گزارنے کے بعد اسے گوانتاموبے جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ جیل میں وہ ایک نظم و ضبط کا پابند قیدی شمار ہوتا ہے، تاہم 70 سال کی عمر میں وہ دل کے عارضے، شوگر اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہوچکا ہے۔ اسکا کچھ عرصہ پہلے جیل میں خصوصی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ساز و سامان اور سرجن بلا کر دل کا آپریشن بھی کیاجاچکا ہے۔ سیف اللہ پراچہ نے گزشتہ برس اپنے اٹارنی کے ذریعے ایک درخواست میں یقین دلایا تھا اگر اسے رہا کر دیا جائے تو وہ اپنے کاروبارختم کر کے کراچی میں اپنے بیوی بچوں کیساتھ پرامن زندگی گزارے گا۔ انہوں نے ایک وقت اپنے اٹارنی جنرل کو بتایا تھا کہ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس عمر میں وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گزا ر ے گا۔ سیف اللہ پراچہ کے بارے میں استغاثہ کا موقف ہے کہ وہ ان ملزموں میں شامل ہے ’’جو اتنے معصوم ہیں کہ ان پر جرم عائد نہیں ہو سکتا اور اتنے خطرناک ہیں کہ انہیں رہا نہیں کیا جاسکتا‘‘، انسانی حقوق کے علمبردار اور برطانوی اٹارنی زاچری کیٹنلبسن نے جون 2008 ء میں حکومت پاکستان سے اپیل کی تھی کہ وہ سیاسی مداخلت کرے کیونکہ صرف اسی صورت میں ہی سیف اللہ پراچہ کو رہائی مل سکتی ہے۔

مزید : صفحہ اول