مسلم لیگوں کو متحد کرتے کرتے ایک نئی مسلم لیگ وجود میں آگئی

مسلم لیگوں کو متحد کرتے کرتے ایک نئی مسلم لیگ وجود میں آگئی

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

آل پاکستان مسلم لیگ کے تین رہنماؤں کے نام تو ہمیں یاد ہیں، ایک تو اس کے صدر سابق صدر اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف ہیں، دوسرے ڈاکٹر امجد ہیں، تیسرے احمد رضا خان قصوری ہیں۔ جنہیں حال ہی میں پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ پارٹی سے ان کے اخراج کی وجہ وہی بنی ہے جو اکثر لوگوں کو پارٹیوں سے نکلواتی ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر امجد پر الزام لگایا کہ وہ فیصل آباد کے جلسے میں لوگوں کو یہ وعدے کرکے لائے تھے کہ انہیں دیہاڑی دی جائے گی لیکن بعد میں یہ وعدہ پورا نہ ہوا۔ ڈاکٹر امجد نے احمد رضا قصوری کی شکایت اپنے باس سے کی، جنہوں نے انہیں پارٹی سے نکال دیا۔ یہ دیہاڑیوں والا معاملہ بہت ٹیڑھا ہے۔ اکبر ایس بابر بھی پارٹی فنڈز کا حساب مانگتے مانگتے تحریک انصاف سے نکل گئے، لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی اور یہ معاملہ مختلف فورموں پر اٹھایا ہوا ہے۔ تحریک انصاف سیدھے سبھاؤ پارٹی فنڈز کا حساب دینے کی بجائے الیکشن کمیشن کے اس اختیار ہی کو چیلنج کر رہی ہے کہ وہ پارٹیوں سے کوئی حساب نہیں مانگ سکتا، حالانکہ تحریک انصاف کے اندر تو انصاف کا اس حد تک بول بالا ہے کہ ایک پیسے کی بدعنوانی کا کوئی تصور نہیں، اس لئے پارٹی کو فنڈ کا حساب دے دینا چاہئے، کیونکہ جس کا حساب پاک صاف ہے اسے تو کسی کا خوف نہیں ہونا چاہئے لیکن تحریک انصاف اگر معاملے کو غیر معمولی طور پر لٹکاتے چلی جا رہی ہے تو کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ یہ اونٹ تو کسی نہ کسی کروٹ بیٹھ ہی جائے گا، البتہ اس موقع پر ہمیں ایک تاریخی واقعہ یاد آرہا ہے۔ ممتاز اہل حدیث عالم دین مولانا داؤد غزنوی قیام پاکستان سے پہلے کانگریس کی پنجاب شاخ کے فنانس سیکرٹری تھے، وہ یہ جماعت چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہوگئے تو پنڈت نہرو نے سید عطااللہ شاہ بخاری سے کہا کہ شاہ جی، مولانا داؤد غزنوی کانگریس چھوڑ کر مسلم لیگ میں چلے گئے ہیں، جس کا انہیں حق ہے لیکن آپ انہیں کہیں فنڈز کا حساب تو دیتے جائیں۔ شاہ صاحب کا کانگریس سے کوئی تعلق تھا، نہ مسلم لیگ سے، انہوں نے نہرو کو لطیف پیرائے میں جواب دیا، پنڈت جی، محمود غزنوی نے کوئی حساب دیا تھا، جو آپ مولانا داؤد غزنوی سے حساب مانگ رہے ہیں۔ احمد رضا قصوری، ڈاکٹر امجد سے مزدوروں کو دیہاڑی نہ دینے کے الزام پر اگر آل پاکستان مسلم لیگ سے نکل گئے تو وہ نچلے بیٹھنے والے کہاں ہیں، انہوں نے جواب میں جنرل پرویز مشرف کو ہی پارٹی سے نکال دیا ہے اور کہا ہے کہ اب وہ اے پی ایم ایل کے کرتا دھرتا ہیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ جو پارٹی مسلم لیگوں کو متحد کرنے نکلی ہے اس کے اپنے دو ٹکڑے ہوگئے، گویا ایک طرف احمد رضا قصوری ہیں تو دوسری طرف جنرل پرویز مشرف اور ڈاکٹر امجد، پارٹی کے ایک اور رہنما فواد چودھری تھے، جو بہت پہلے پارٹی کو داغ مفارقت دے گئے تھے، ویسے تو ایک زمانے میں عائشہ گلالئی بھی اے پی ایم ایل میں شامل تھیں، جہاں سے وہ تحریک انصاف میں گئیں اور آپ جانتے ہیں کہ ابھی حال ہی میں انہوں نے اس پارٹی سے بھی اپنے راستے جدا کرلئے ہیں۔ پارٹیوں میں لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان تھوڑا عرصہ پہلے پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئی تھیں۔ ان کے دو بھائی پہلے سے تحریک انصاف میں تھے، جنہوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے، اب معلوم نہیں انہیں اپنی بہن کا تحریک انصاف میں آنا پسند نہیں آیا یا ممکن ہے ان دونوں بھائیوں میں سے کوئی ایک تحریک انصاف کے ٹکٹ کے امیدوار ہوں اور اب انہوں نے سوچا ہو کہ ڈاکٹر صاحبہ کی موجودگی میں تو انہیں ٹکٹ نہیں ملنے والا، اس لئے وہ پیپلز پارٹی میں چلے گئے کہ شاید وہاں کوئی چانس بن جائے۔

مسلم لیگوں کو متحد کرنے کی کوششیں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکیں، جنرل پرویز مشرف کی بڑی خواہش ہے کہ اگلے انتخابات سے پہلے پہلے وہ ایک تیسری سیاسی قوت بنا لیں جو اگلے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرے، لیکن ابھی تک مسلم لیگیں ہی متحد نہیں ہورہیں تو باقی جماعتوں کا اتحاد کیسے وجود میں آئے گا؟ جنرل صاحب خود دبئی میں مقیم ہیں اور اظہار خیال کے لئے سیاسی رہنماؤں کو وہیں بلا لیتے ہیں، اندرون ملک چودھری شجاعت حسین بھی مسلم لیگوں کو متحد کرنے کے لئے خاصے سرگرم عمل ہیں لیکن انہیں بھی فی الحال کامیابی نہیں ملی، گزشتہ دنوں وہ کراچی میں تھے، ان کے مسلم لیگ (ف) کے صدر پیر صاحب پگارہ سے اتحاد کے موضوع پر مذاکرات ہوئے جن کا تاحال کوئی نتیجہ تو نہیں نکلا لیکن چودھری صاحب مایوس نہیں ہیں ان کا خیال ہے کہ انتخابات وقت مقررہ پر ہوتے نظر نہیں آتے، اس لئے ان کے پاس اتحاد کے لئے کافی وقت ہے۔ دوسری جانب آج لاہور ہی میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اگلے انتخابات جون 2018ء میں ہوں گے، لیکن جن جماعتوں کو یقین ہے کہ قومی اسمبلی میں ان کی نشستیں دوچار سے زیادہ نہیں ہیں، ان کے لئے انتخابات 2018ء میں ہوں یا 2020ء میں، موسم ایک جیسا ہی رہے گا۔ اس لئے ایسی جماعتیں ہمیشہ ایسے مواقع پر احتساب پہلے یا انتخاب کی بحث چھیڑ دیتی ہیں، ہمیں یاد ہے جب جنرل ضیاء الحق بھٹو حکومت کا تختہ الٹ کر برسراقتدار آئے تو انہوں نے مقررہ مدت کے اندر انتخاب کا اعلان کیا تھا، امیدواروں نے کاغذات نامزدگی بھی داخل کئے لیکن جونہی یہ مرحلہ مکمل ہوا، جنرل ضیاء الحق نے انتخاب ملتوی کر دئے کیونکہ اس وقت کی سیاسی جماعتیں اور سیاستدان انتخاب سے پہلے احتساب کا مطالبہ کر رہی تھیں، ممکن ہے ان کا اپنا ارادرہ بھی انتخاب ملتوی کرنے ہی کا ہو، لیکن انہوں نے احتساب کے نام پر انتخاب ملتوی کر دئے، بعد میں انہوں نے انتخابات کو مثبت نتائج سے مشروط کر دیا اور اس بنیاد پر دوسری بار بھی انتخابات ملتوی کر دئے اور اگر کرائے بھی تو غیر جماعتی بنیادوں پر جن کا اکثر سیاسی جماعتوں نے بائیکاٹ کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اس فیصلے پر جنرل ضیاء الحق بہت خوش ہوئے تھے، انہیں یقین تھا کہ سیاسی جماعتیں ایسا ہی کریں گی، چنانچہ انہوں نے اپنی پسند کے مطابق غیر جماعتی انتخابات کرا دئے جن میں نئی قیادت ابھر کر سامنے آگئی اور یوں مثبت نتائج بھی نکل آئے۔ البتہ نئی قومی اسمبلی نے ایوان کے اندر سے مسلم لیگ تخلیق کر دی جس کے سربراہ (وزیراعظم) محمد خان جونیجو بن گئے۔ اب مسلم لیگوں میں تو اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے لیکن اتحاد کا امکان دور دور تک نظر نہیں آتا، لیکن دنیا امید پر قائم ہے۔ چودھری شجاعت حسین مسلم لیگوں کو متحد کرنے اور جنرل پرویز مشرف تیسری سیاسی قوت کے مشن پر ڈٹے ہوئے ہیں، کوئی نہ کوئی نتیجہ تو نکل ہی آئے گا۔ فی الحال تو مسلم لیگوں کو ایک نئی مسلم لیگ مبارک ۔

مزید : تجزیہ