’’ یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے۔۔۔ یہ بڑے نصیب کی بات ہے‘‘

’’ یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے۔۔۔ یہ بڑے نصیب کی بات ہے‘‘

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک)’ جسے چاہا در پہ بلالیا ، جسے چاہا اپنا بنالیا، یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے ، یہ بڑے نصیب کی بات ہے ‘اکثر لوگوں نے یہ کلام سن رکھا ہے اور مسلمانوں کی کثیر تعداد اس بات پر یقین بھی رکھتی ہے کہ پیسے کی ریل پیل کے باوجود اگر اللہ کے گھر سے بلاوا نہیں آتا تو حاضری نصیب نہیں ہوتی اور جب بلاوا آجاتا ہے تو تنگ دست لوگوں کیلئے بھی بڑے بڑے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں، ایسا ہی کچھ افریقہ کے ملک ’’ گھانا‘‘ کے الحسن عبداللہ کے ساتھ بھی ہوا جس کیلئے اللہ نے حاضری کا بلاوا بھیجا تو اس کے اسباب ترکی میں پیدا فرمادیے۔تفصیلات کے مطابق افریقی ملک گھانا کے ایک دور دراز گاؤں میں ترک چینل ٹی آر ٹی کی ٹیم ایک ڈاکیومنٹری کی شوٹنگ کر رہی تھی کہ اسی دوران ان کا ڈرون کیمرہ گرگیا جو قریب ہی موجود بزرگ دیہاتی الحسن عبداللہ نے اٹھالیا۔ جب ترک صحافی ڈورن لینے پہنچے تو عبداللہ نے ان سے دلچسپ خواہش کا اظہار کردیا۔ عبداللہ نے کہا کہ ’’ کیا یہ ڈرون تھوڑا بڑا نہیں ہوسکتا تاکہ مجھے مکہ لے جائے‘‘۔ترک صحافی نے الحسن عبداللہ کی یہ خواہش تصویر کے ساتھ ٹوئٹر پر شیئر کردی جو ترک سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی۔ جس کے بعد ترک حکومت حرکت میں آئی اور فوری طور پرالحسن عبداللہ سے رابطہ کیا اور اسے سرکاری خرچے پر پہلے ترکی بلایا جہاں اس کی خوب مہمان نوازی کی گئی اور اس کے بعد اسے سرکاری خرچ پر حج کیلئے روانہ کردیا۔ انہیں استنبول کے ایئر پورٹ سے الحسن عبداللہ کو ترک اعلیٰ حکام نے روانہ کیا۔واقعی کسی نے سچ کہا ہے کہ ’ یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے، یہ بڑے نصیب کی بات ہے‘۔

مزید : صفحہ آخر