جمعیت علماء پاکستان شوریٰ کا اجلاس طلب کرنے پر اختلافات سامنے آگئے

جمعیت علماء پاکستان شوریٰ کا اجلاس طلب کرنے پر اختلافات سامنے آگئے

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) جمعیت علماء پاکستان میں مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس طلب کئے جانے پر اختلافات کھل کر سامنے آگئے ، جے یو پی کے راہنما قاری زوار بہادر نے آج 20جولائی کو مرکزی شوریٰ کا اجلاس طلب کر لیا جبکہ دوسری طرف جمعیت علماء پاکستان کے پیر اعجاز ہاشمی اور صاحبزادہ شاہ انس نورانی نے قاری زوار بہادر کی طرف سے بلائے گئے ارکان شوری کے اجلاس سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے جس سے جے یو پی کے دو دھڑوں کے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں ۔واضح رہے کہ جمعیت علما پاکستان( پیر اعجاز ہاشمی) گروپ کی طرف سے الیکشن کمیٹی کے چیئرمین پیر عبدالخالق (چونڈی شریف) نے مرکزی عہدیداروں کے انتخاب کے لئے اتوار 10 ستمبرکو مجلس شوریٰ کا اجلاس لاہور میں طلب کر رکھا ہے جس میں نئے مرکزی صدر، سینئرنائب صدر اور مرکزی سیکرٹری جنرل کے عہدوں کے لئے ملک بھر سے خادمین جمعیت کو بلا لیا گیا ہے ۔ترجمان جے یو پی (پیر اعجاز ہاشمی گروپ ) نے واضح کیا ہے کہ ضلعی اور صوبائی سطح کے پارٹی انتخابات کے بعد مرکزی انتخابات مکمل کئے جارہے ہیں،آج (20 اگست اتوارکو ) جے یو پی کا لاہور میں کوئی اجلاس طلب نہیں کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق اس اجلاس کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم کی جماعت پیر اعجاز ہاشمی اور صاحبزادہ شاہ اویس نورانی کی قیادت میں متحد ہے،پارٹی میں نفاق کا باعث بننے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ دوسری طرف جے یو پی کے راہنما قاری زوار بہادر نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ 5مارچ 2017کو جے یو پی کے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں پارٹی کے تمام عہدوں کو ختم کر کے صدر اور سیکرٹری کے لئے انتخابات طے کئے گئے تھے ،پیر اعجاز ہاشمی نے جماعت کے الیکشن کے لئے 20جولائی کا اعلان کیا تھا لیکن 20جولائی سے قبل ہی الیکشن ملتوی کر کے 20اگست کا اعلان کر دیا گیا اور اب ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے ستمبر میں الیکشن کی کی تاریخ دے دی گئی ہے ۔قاری زوار بہادر نے کہا کہ جماعت کے شوریٰ کے اراکین نے باہم مل کر یہ اجلاس بلایا ہے اور اجلاس میں تنظیم کے سینئر رہنما اور ارکان شوریٰ جامعہ محمدیہ رضویہ گلبرگ میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کریں گے ۔قاری زوار بہادر کے مطابق اجلاس میں جے یو پی کا آئندہ سیاسی کردار اور تازہ ترین ملکی صورت حال پر پالیسی طے کی جائے گی۔ واضح رہے کہ اس ساری صورتحال کے بعد جمعیت علماء پاکستان میں ایک نیا دھڑا وجود میں آنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر