پنجاب کی عدالتوں میں 18لاکھ کے قریب مقدمات زیرالتو ہیں: ڈاکٹر عمر سیف چیمہ

پنجاب کی عدالتوں میں 18لاکھ کے قریب مقدمات زیرالتو ہیں: ڈاکٹر عمر سیف چیمہ

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ڈاکٹر عمر سیف چیمہ نے پنجاب کی عدلیہ اور پولیس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ثمرات کے حوالے سے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی عدلیہ میں 18 لاکھ کے قریب مقدمات زیر التواء ہیں اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ آئی ٹی سسٹم کے بغیر اتنی کثیر تعداد میں زیر التواء مقدمات کو نمٹانا ممکن نہیں تھا، ڈاکٹر عمر سیف چیمہ نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد انٹرپرائز سسٹم کو جلد از جلد مکمل کرنے کو کہا، انٹرپرائز آئی ٹی سسٹم حکومت پنجاب نے پی آئی ٹی بی کی معاونت سے عدلیہ میں شروع کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے سنگاپور سے کنسلٹنٹ ہائی سوفٹ کنسلٹنگ کو ہائر کیا گیا کیوں کہ سنگاپور کا عدالتی نظام پاکستان کے عدالتی نظام کے ساتھ ملتا جلتا ہے اور وہاں انٹرپرائز آئی ٹی سسٹم کامیابی سے جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی تعطیلات کے بعد انٹرپرائز کیس فلو مینجمنٹ لاہور ہائی کورٹ پرنسپل سیٹ کی تمام عدالتوں میں یکساں طور پر کام شروع کر دے گا لیکن ہر نئی چیز کو اوائل میں کچھ مسائل کا سامنا ہوتا ہے اور ہر سسٹم کو سٹریم لائن ہونے میں وقت لگتا ہے، بہت جلد یہ سسٹم بہترین انداز میں کام شروع کر دے گا، انہوں نے کہا کہ اس نظام کے تحت کوئی بھی کیس غیر معینہ مدت تک ملتوی نہیں ہو سکے گا اور نہ ہی جعلی وبلاجوازمقدمات دائر ہوں گے ۔ شفافیت کے مد نظر رکھتے ہوئے آن لائن کیس فائلنگ، تمام ڈاکومنٹس کو سکین کرنا، آن لائن مصدقہ نقول کی فراہمی اور سائلین کو ان کے مقدمات سے متعلق معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

مزید : صفحہ آخر