وزیر اعلیٰ کی جی ڈی اے کے رولز آف بزنس کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت

وزیر اعلیٰ کی جی ڈی اے کے رولز آف بزنس کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویزخٹک نے گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے رولز آف بزنس کوجلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلیات کی تیز رفتار ترقی کیلئے رولز ضروری ہیں۔ رولز کی عدم موجودگی ترقیاتی کام میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے جی ڈی اے ٹاؤن کی ترقی اور اس تک رسائی کیلئے سڑک کو بطور ایک پراجیکٹ مشتہر کرنے کی بھی ہدایت کی تا کہ اس پر کام شروع کیا جا سکے۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ ممبر صوبائی اسمبلی سردار ادریس، سیکرٹری بلدیات، سٹریٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو اتھارٹی کے رولز آف بزنس، جی ڈی اے ٹاؤن اور جی ڈی اے ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایکٹ میں دو ترامیم تجویز کی گئی ہیں جبکہ اسکے رولز آف بزنس کا نظر ثانی شدہ مسودہ بھی تیار ہے۔ بلڈنگ کنٹرول اور ٹریبونل رولز سمیت چار قسم کے رولز بنائے گئے ہیں وزیراعلیٰ نے رولز کا نظر ثانی شدہ مسودہ حتمی ویٹنگ کیلئے محکمہ قانون کے حوالے کرنے جبکہ ایکٹ میں مجوزہ ترمیم کی سمری جلد پہنچانے کی ہدایت کی۔جی ڈے اے ٹاؤن کے حوالے سے بتایا گیا کہ ٹاؤن کیلئے رقبے کی نشاندہی کی جا چکی ہے جبکہ ٹاؤن تک آسان رسائی کیلئے سڑک کی تعمیر بھی ضروری ہے ۔ وزیراعلیٰ نے ٹاؤن میں ترقیاتی کاموں اور مذکورہ سڑک کی تعمیر پر مشتمل ایک ہی پراجیکٹ تشکیل دے کر مشتہر کرنے کی ہدایت کی ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ گلیات کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہونی چاہیئے ۔اس موقع پر وزیراعلیٰ کو اتھارٹی کے تحت گلیا ت میں ریسٹ ہاؤسز سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ کل 49 ریسٹ ہاؤسز ہیں جن میں سے دو ریسٹ ہاؤسز لوکل گورنمنٹ کے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے مذکورہ دو ریسٹ ہاؤسز کو لیز پر جی ڈی اے کے حوالے کرنے اور اس سلسلے میں سمری بھیجنے کی ہدایت کی ۔

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے واٹر سپلائی اینڈ سینٹیشن کمپنی ایبٹ آباد کیلئے 5 کروڑ روپے کی گرانٹ ریلیز کرنے جبکہ کمپنی کی ضروریات پر مبنی 50 کروڑ روپے تک کا مکمل پی سی ون جلد ازجلد پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ڈبلیو ایس ایس اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔سنیئر صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ،صوبائی وزیرمشتاق غنی ، وزیراعلیٰ کے مشیر قلندر لودھی، ایم این اے ڈاکٹر اظہر جدون، صو بائی سیکرٹریز لوکل گورنمنٹ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، چیئرمین ڈبلیو ایس ایس اے کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس میں بورڈ کے سابقہ اجلاس کے منٹس کی منظوری دی گئی اور اہم فیصلے کئے گئے ۔اجلاس میں ڈبلیو ایس ایس اے کی کارکردگی بہتربنانے کیلئے بھی تفصیلی غور و خوض کیاگیا ۔وزیراعلیٰ نے کمپنی کیلئے واٹر سپلائی اینڈ سینٹیشن کمپنی پشاور کا ماڈل اختیار کرنے اورکمپنی کو آؤٹ سورس کرکے پرائیوٹ سیکٹر کو رول دینے کی ہدایت کی ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ بورڈ مکمل بااختیار ہونا چاہیئے جب آؤٹ سورس کریں گے تو اُس کے بعد ہی اخراجات کا صحیح اندازہ لگانا ممکن ہو گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پی سی ون ہر لحاظ سے مکمل ، بہترین آپشنز پر مشتمل اور ضرورت سے ہم آہنگ ہونا چاہیئے ۔ غیر ضروری آلات کی خریداری سے اجتناب کریں ۔ آؤٹ سورس کرکے ضروریات کا از سر نو جائزہ لیں اور حقیقت پسندانہ پی سی ون تیار کرکے دیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ عوامی فلاح پر اخراجات کے نتائج نظر آنے چاہئیں ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ واٹر سپلائی اینڈ سینٹیشن کمپنیوں کے صوبائی سطح پر بورڈ کا متعلقہ وزیر سربراہ ہو گا۔ مقامی نمائندوں کو بھی بورڈ میں شامل کریں تاکہ ہر سطح پر نمائندگی ممکن ہو سکے ۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر چلانے کی بھی منظوری دی۔

مزید : کراچی صفحہ اول