جموں کشمیر کے آزادی پسند عوام کو کالے قوانین کے تحت قید کیا جارہا ہے، قائدین

جموں کشمیر کے آزادی پسند عوام کو کالے قوانین کے تحت قید کیا جارہا ہے، قائدین

سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر کے مشترکہ آزادی پسند قائدین سید علی گیلانی، میرواعظ ڈاکٹر محمد عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے معروف عالم دین، اسلامی اسکالر، مبلغ اور مصنف الطاف حسین ندوی کو فیس بُک پر ملی قتل کرنے کی دھمکی پر انتہائی اور گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا الطاف حسین ندوی علماء حق کے سرخیلوں میں سے ہیں اور تحریک آزادی اور اسلام کے بے لوث سپاہی ہیں۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی اسلام کی اشاعت اور پھیلاؤ کے لیے رضاکارانہ طور وقف کی ہے۔ مولانا موصوف ایک معروف کالم نویس بھی ہیں۔ وادی کے حالات اور مسلکی منافرت پھیلانے والوں پر دردانگیز مقالے بھی لکھتے رہے ہیں۔ اختلاف رائے کرنا ہر ایک کا حق ہے، مگر اختلاف رائے رکھنے کی بنیاد پر اُن کو قتل کرنے کی دھمکیاں دینا کسی بڑی سازش کا ہی نتیجہ ہے۔ مولانا موصوف کو اس طرح کی دھمکیاں دینا کسی بھی طور مسلمان کا کام نہیں ہوسکتا ہے، بلکہ ایسی دھمکیاں کسی دشمن ہی کی طرف سے دی جاسکتی ہیں، جو تحریک آزادی اور اسلام کی آڑ میں ایسے گھناؤنے منصوبے انجام دینے کی تاک میں ہوں۔اس دوران میں مشترکہ قیادت نے سیاسی قیدیوں کی حالت زار اور ان کی غیر قانونی اور غیر انسانی نظربندی کو طول دینے کی کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ظالمانہ اور بے رحمانہ پالیسیاں صرف اور صرف انتقامی گیری ہے۔

جس کے تحت یہاں کے سیاسی راہنماؤں اور نوجوانوں کو ریاست میں ہی نہیں، بلکہ ریاست سے باہر کی جیلوں میں قید کرکے رکھا جارہا ہے۔ انہوں نے سیدہ آسیہ اندرابی کی امپھلہ جیل میں بگڑتی صحت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انتقام گیری کی یہ ایک انتہا ہے کہ صنفِ نازک کو بیماری کے باوجود بھی وادی سے باہر حراست میں رکھا جارہا ہے اور اس کو اچھی طرح سے طبی امداد سے بھی محروم رکھا جارہا ہے۔ قائدین نے مسرت عالم بٹ، سیدہ آسیہ اندرابی، امیرِ حمزہ شاہ، محمد یوسف فلاحی، میر حفیظ اللہ، بشیر احمد بویا، رئیس احمد میر، محمد یوسف لون، عبدالغنی بٹ، عبدل احد پرہ، محمد رفیق گنائی،فاروق توحیدی، سلمان یوسف، تنویر احمد، حکیم شوکت، حاجی محمد رستم بٹ، شکیل احمد یتوسمیت تمام قیدیوں اور نوجوانوں کی فوری رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی نظربندی کو طول دینے سے ان کے جذبے اور عزم کو توڑا نہیں جاسکتا ہے اور نہ انہیں تحریک آزادی سے دستبردار کیا جاسکتا ہے۔ کٹھوعہ جیل میں محبوس کشمیری نوجوانوں خاص کر عاطف حسین اور عرفان احمد کا تذکرہ کرتے ہوئے قائدین نے کہا کہ انہیں 24 گھنٹے سیل میں بند رکھا جارہا ہے، جس کی وجہ سے اکثر قیدیوں کی حالت ابتر ہوچکی ہے۔ مزاحمتی قائدین نے کہا کہ جموں کشمیر کے آزادی پسند عوام کو کالے قوانین پی ایس اے کے تحت قید کرلیا جاتا ہے، اگر ان کے پی ایس اے کو عدالتِ عالیہ کاش بھی کرتی ہے، لیکن ان پر اس کا اطلاق بار بار کیا جاتا ہے، تاکہ ان کی نظربندی کو غیر ضروری طور طول دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عالمی سطح پر اس کو ’’غیر قانونی قانون‘‘ قرار دیا گیا ہے، مگر اس کا یہاں بے دریغ استعمال جاری ہے۔ مشترکہ قیادت نے اپنے بیان میں بھارتی تحقیقاتی ایجنسی (NIA)کے ذریعے گرفتار کئے گئے حریت راہنماؤں شبیرا حمد شاہ، پیر سیف اللہ، شاہد الاسلام، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، راجہ معراج الدین، نعیم احمد خان اور فاروق احمد ڈار کی تہاڑ جیل میں حالتِ زار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی انتقام گیری کی پاداش میں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جارہا ہے جو ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔

مزید : عالمی منظر