آپ ایک مجاہد کو ماریں گے،10نئے کھڑے ہوجائیں گے ، میرواعظ عمر فاروق

آپ ایک مجاہد کو ماریں گے،10نئے کھڑے ہوجائیں گے ، میرواعظ عمر فاروق

سری نگر(کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس ع کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے نئی دہلی کو متنبہ کیا ہے آپ ایک مجاہد کو ماریں گے،10نئے کھڑے ہوجائیں گے۔انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہاکہ مجاہدنوجوانوں کوجاں بحق کرنے سے کشمیرکامسئلہ حل نہیں ہوسکتا،جبکہ گزشتہ7 دہائیوں سے کشمیر کے لوگ اسی بات کو لیکر جی رہے ہیں اور مرر ہے ہیں کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور تنازعہ کشمیر کا حتمی حل ہونا باقی ہے۔ قریب2ماہ تک خانہ نظر بند رہنے کے بعد جمعہ کو میرواعظ عمر فاروق کی بندی ختم کی گئی،جس کے ساتھ ہی انہوں نے تاریخی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ پر خطبہ دیتے ہوئے سخت لہجے میں کہا کہ عسکریت پسندوں کو جاں بحق کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہاآپ ایک کو موت کی نیند سلاتے ہیں تو 10کھڑے ہو جاتے ہیں،ان کو مارنے سے بنیادی جذبے کو نہیں مارا جاسکتا، جیسا کہ ان نوجوانوں کے آخری رسومات کے موقعہ پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ آئے روز تعلیم یافتہ نوجوان مارے جاتے ہیں اور کچھ لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ سب نوجوانوں کو ختم کرکے مسئلہ حل ہوگا لیکن جو ایسا سوچتے ہیں وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ان نوجوانوں نے جبر و تشدد کا مقابلہ کرنے اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ہتھیار اٹھائے ہیں جب تک حکومت صرف تشدد اور ظلم و زیادتی سے کام لیتی رہیگی تب تک یہ سلسلہ چلتا رہیگا۔ انہوں نے کہا گزشتہ70برسوں سے کشمیری ،کشمیرکی متنازعہ حیثیت میں جنم لیتے،جیتے اورمرتے آرہے ہیں ۔انہوں نے کہا کشمیریوں کی کئی نسلوں نے مسئلہ کشمیرکے حتمی حل کاانتظارکیاہے ،اورلاکھوں لوگ اس انتظارمیں اس دنیاسے رخصت ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ حقائق کو صدق دلی کے ساتھ تسلیم کرکے فریقین ، انسانیت اور باہمی عزت و احترام کے ساتھ مسئلہ پر پوری توجہ دیں تاکہ حقیقی امن کی طرف بڑھا جاسکے ۔ میرواعظ کاکہناتھاکہ کشمیربھارت اورپاکستان کے مابین کوئی سرحدی یاعلاقائی تنازعہ نہیں ہے ،جیساکہ تاثردینے کی غلط کوشش کی جاتی رہی ہے بلکہ یہ منقسم ریاست کے آرپاررہنے والے ہزاروں اورلاکھوں انسانوں کامسئلہ ہے ،جواپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے کامطالبہ کرتے آرہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیرمسئلے کوپرامن طوراورجمہوری اندازمیں حل کئے جانے سے متعلق کئی قراردادیں منظورہونے کیساتھ ساتھ بھارت کے اولین وزیراعظم پنڈت نہرؤنے لالچوک میں خطاب کے دوران کشمیریوں کواپنے مستقبل کافیصلہ لینے کیلئے موقعہ دینے کی یقین دہانی کرائی لیکن نہ توقراردادوں پرعمل درآمدہوااورنہ وہ وعدے یقین دہانیاں ہی عملائی گئیں ۔ میرواعظ نے کہا کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں احتجاج کی وجہ سے تعلیمی اداروں کو بار بار بند کر دینے سے ان طلبا اور نوجوانوں پر یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ ان کے احتجاج کا کس طرح جواب دیا جاتا ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ اسی طرح قیادت کو ہراساں اور تنگ کرنے کیلئے تفتیشی اداروں کے ذریعے جھوٹ کا سہارا لیکر ان کیخلاف الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعہ بے بنیاد پروپیگنڈا اور ان کے افراد خانہ اور جان پہچان والوں کو ہراساں کرنے کا عمل صرف ان کو بدنام کرنے اور یہاں کے لوگوں کا حوصلہ توڑنے کی غرض سے کیا جاتا ہے۔

مزید : عالمی منظر