بھارت سرحدی معاہدوں کی پابندی کرے: چین

بھارت سرحدی معاہدوں کی پابندی کرے: چین
بھارت سرحدی معاہدوں کی پابندی کرے: چین

  

بیجنگ (آئی این پی) چینی سرحدی دستوں نے ہمیشہ چین بھارت سرحدی علاقے میں امن قائم رکھنے کی کوشش کی ہے تا ہم بھارت نے ڈانگ لانگ (ڈوکلم ) کے علاقے میں 18جون کو غیر قانونی طورپر مداخلت کی اور بھارتی فوجی دستے اس علاقے میں گھس آئے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ہواچن ینگ نے بھارت پر زوردیا ہے کہ وہ موجودہ معاہدوں اور ضوابط کی پابندی کرے لیکن بھارت نے اب تک اپنے فوجی دستے اور فوجی سامان واپس نہیں منگوایا اور اس نے چینی علاقے میں غیرقانونی طورپر مداخلت کی ہے .

چین اب یہ دعویٰ کررہا ہے ڈوکلم کا علاقہ متنازعہ ہے حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے ،برطانیہ اور چین کے درمیان سکم اور تبت کے بارے میں کنونشن پر دونوں ممالک نے 1890ءمیں دستخط کئے تھے جس کے ذریعے تبت کے چینی علاقے اور بھارتی ریاست سکم کے درمیان سرحد قائم کی گئی تھی جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ڈوکلم چینی علاقہ ہے ، بھارتی حکومت بھی مسلسل اس سرحدی نشاندہی کو تسلیم کرتی رہی ہے تا ہم یہ حقیقت اب سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے کہ بھارت اپنے سابقہ موقف سے کیوں ہٹ رہا ہے اور اب وہ اپنی پرانی حرکتیں شروع کررہا ہے۔

مزید : بین الاقوامی