بدل دیجئے

بدل دیجئے
بدل دیجئے

  

پاکستانی تاریخ کےالٹتے   ہوئے اوراق اور اخلاقیات کے سب اسباق پریشان ہیں کہ کیوں ہمیں  سفر کو ایک ہموار شاہراہ میسر نہیں آتی  -کیوں ہماری پرواز ہمیشہ سے بے یقینی کا شکار رہی ہے- کیوں ہمارے بحر میں تلاطم مچاتی لہریں پرسکون نہیں ہوتیں –  کیوں غیر متوازن سے ہوکر ہم  تنزلی  کی گہرائیوں میں گرتے ہی جا رہے ہیں – کیوں پاکستان کی ستر سالہ تاریخ اسی اتار چڑھاؤ اور نشیب و فراز کا شکار رہی ہے- کیوں ہم یہ مان نہیں لیتے کہ  بے انتہا قربانیوں کے بعدحاصل اس وطنِ عزیز  میں ہماری غیر مربوط پالیسیوں نے انسانی قربانیوں کے اس سلسلہ  کو کبھی رکنے ہی نہیں دیا- یا شاید ہمیں ہی بہتی ٹریفک کے مخالف سمت  سفر کرنے کا شوق ہے جہاں کوئی حادثہ کوئی  ٹکراؤ ہمای  را ہ تکتے کبھی مایوس نہیں ہوتا –

اپنی تفویض ذمہ داریوں میں تو شاید ہم اتنے ماہر نہیں جتنا ہم دوسرے کی راہ میں ٹانگ اٹکانے کے ماہر ہو چکے ہیں – ایک دوسرے سے دست و  گریباں ہم نے  ملکی ادارے شخصیات کے تابع ہی رہنے دیے ہیں اور ان کی خود مختاری   کبھی ہماری اولین ترجیح رہی ہی نہیں ہے- جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول پہ  چلتا پاکستان اب تھک چکا ہے -مورخ ہماری تباہی و زبوں حالی کی داستانیں لکھتا ہواتنگ آ چکا ہے اور تاریخ کے اوراق ایک ہی کہانی کو نوشتہ ء  تقدیر  دیکھ کر پریشان ہو رہے ہیں کہ کیوں  اداروں میں ٹکراؤ   ہی  ہر دفعہ ہماری قسمتوں  کے ایک اچھے مستقبل کے خواب کو شرمندہء تعبیر نہیں ہونے دیتا- جنرل ضیاالحق کے دور ِمارشل لاء  میں قوم کی کمر پہ برستے کوڑوں نے شاید اس سے سمت اور یکجہتی کی اہمیت ہی چھین لی ہے جو کسی قوم کو ایک سیسہ پلائی اکائی بنایا کرتی ہے- وہی  برستی لاٹھی ، وہی  اس  لاٹھی کا   عملبردار ایک مردِ حق ، جس کےروپ  میں بسے بہروپ نے ہر ایک قانون توڑا ، آئین کی دھجیاں اڑائی ، کسی کو بیگناہی میں پھانسی چڑھایا مگر پھر بھی  کسی کا پیر و مرشد اور کسی کا مسیحا کہلایا- ستر سال کی اس مختصر تاریخ کے اوراق میں ہم دو لخت ہوئے – دو نیم ہوئے ، بے حال ہوئے ، بے جان ہوئے  لیکن ہم نے کیا سبق سیکھا – وہی جنگل کا قانون اور وہی چڑھتے سورج کو سلام- جہالت بھی ایسی کہ جس کاتصور بھی اب مہذب دنیا میں نہیں ملتا – برداشت کی کوئی حد ہوتی ہے لیکن شاید ہماری کوئی حد ہی نہیں اسی لئے تو آمریت کو جائز قرار دینے کے لئے قانون موم کی ناک بن جاتا ہے - سیاست دان بھی  جب ہمنوا ٹھہرتے ہیں تو  ایک آمر ہی  ایک آئینی صدر بنتا ہے ،پھر اس کی پذیرائی کو انتخابات ہوتے ہیں اور  ایک پاکستانی پاسپورٹ  سے محروم  مملکتِ خداداد  کا ہر دلعزیز وزیرِاعظم  چنا جاتا ہے اور اس کی ایک سیاسی کابینہ  بھی اس جمہوریت کے ماتھے پہ سجائی جاتی ہے – پھر دور بدلتا ہے اور  سیاست دانوں کو جب  آمرانہ  دور کے بعد موقع ملتا ہے تو جوتیوں میں دال بٹتی ہے – گندے کپڑے بیچ چوراہے دھوئے جاتے ہیں – ہن کی برسات برستی ہے جس میں نہا کر وہ  سب پوتر ہوتے ہیں اور  جائیدادیں بناتے اقتدار سے رخصت ہو تے جاتے ہیں-

ستر سال سے ہم ایک دوسرے کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں- ستر سال ہوگئے ایک دوسرے سے الجھتے ہوئے- کڑھتے ہوئے اور پوچھتے ہوئے کہ  عام آدمی جس کو اس ملک کا سرمایہ کہا جاتاہے اس کے حقوق کہاں ہیں کون ہے جو اسے جینے اور رہنے سہنے کا حق دے گا- کیوں اس ملک کے نظام کو  آپ مل  جل کر  چلنے نہیں دیتے- کیوں آپ کا  ایک دوسرے سے عدم برداشت اس  ملک کو ترقی کرنے نہیں دیتا- کیوں  قومی ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور شہری انصاف سے محروم - کیوں ملک ٹوٹنے کی باتیں پھر سے کی جا رہی ہیں- کیوں ہر طرف ابتری ہی ابتری کی راہ پہ گامزن ہے- حکومت، تجارت ، سیاست، معشیت اور معاشرت  کی منزل کیا ہے- ہر طرف ایک ہی سوال ہے کہ کیا ہم پھر کسی حادثے  کے ہی منتظر ہیں- کیا پھر کوئی مہم جوئی کے حالات پیدا کئے جارہے ہیں-  یہ سب ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے- قید و بند کی ایسی گھٹی فضا ہے کہ سانس لینا دوبھر ہو رہا ہے- جینا مشکل ہو رہا ہے- بے حسی سے نکلیے – ذاتی مفادات کے خول کو توڑ دیجئے اور اپنے ملک کی تقدیر کے خود وارث بن کر فیصلہ کیجئے- اپنے حقوق مانگنے سے پہلے اپنے فرائض کا سوچئے- دشمن آپ کی سر زمیں پہ لیبیا، عراق،مصر اور ایران کی تاریخ دھرانا چاہتا ہے – وہ آپ کی ضرورتیں خریدتا ہے اور دہشت گردی پھیلا رہا ہے – روز پکڑا جانے والا جدید خود کار اسلحہ اور  فورسز پہ ہوتے خود کش حملے اس وقت تک انجام کو نہ پہنچیں گے جب تک ہم مل کر آنکھ نہ کھولیں گے- زندگی کو فروغ دیجئے اور زندہ دل شہری بن کے اس وطنِ پاکستان کی پاسبانی کیجئے- خود اپنے ہاتھوں سے اس ملک کا شاندار مستقبل لکھئے اور اپنی صفوں  میں اتحاد پیدا کرتے ہوئے سڑکوں پہ انتشار کی سیاست کو رد کیجئے –وقت  آنے پہ اپنے حقِ رائے دہی کو قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ایمانداری سے استعمال کیجئے اور بدل دیجئے اس ملک کی پہچان کو اور بنا دیجئے اسے امن و خوشحالی کا گہوارہ اور اسلام کا  وہ قلعہ جس کا وعدہ ہم نے اپنے اجداد سے کیا تھا-                                                         

مزید : بلاگ