”عمران خان کے ساتھ ہاتھ ملانے کو تیار ہیں اگر۔۔۔“ خواجہ سعد رفیق نے انتہائی حیران کن بات کہہ دی، مسلم لیگ (ن) کے والے بھی حیران پریشان رہ گئے

”عمران خان کے ساتھ ہاتھ ملانے کو تیار ہیں اگر۔۔۔“ خواجہ سعد رفیق نے انتہائی ...
”عمران خان کے ساتھ ہاتھ ملانے کو تیار ہیں اگر۔۔۔“ خواجہ سعد رفیق نے انتہائی حیران کن بات کہہ دی، مسلم لیگ (ن) کے والے بھی حیران پریشان رہ گئے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اگر میثاق جمہوریت کر سکتی ہیں تو پی ٹی آئی کیساتھ بھی ہاتھ ملایا جا سکتا ہے۔وہ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے جس دوران میزبان نے کہا کہ آپ پی ٹی آئی سے تو ہاتھ نہیں ملائیں گے۔ اس پر خواجہ سعد رفیق نے برجستہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”کیوں نہیں ملائیں گے، کیوں لڑیں گے۔۔۔ “

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ ”عمران خان نے مجھے بھی نازیبا پیغامات بھیجے“ عائلہ ملک بھی میدان میں آ گئیں لیکن ۔۔۔

خواجہ سعد رفیق نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ”بھائی جی بات سنیں، اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میثاق جمہوریت کر سکتے ہیں، دونوں اسٹیبلشمنٹ کیساتھ مل کر ایک دوسرے کی حکومتیں گراتی رہیں، سیکیورٹی رسک پہنچایا، یہ حقیقت ہے اور میرے منہ سے سچ نکل رہا ہے۔ یہ تاریخ کا ایک کڑوا سچ ہے، اس کے بعد حالات کے جبر اور وقت کی گردش نے ہمیں ایک ٹرک پر بھی چڑھایا، اے آر ڈی بھی بنائی اور اس کے بعد میثاق جمہوریت کیا جو نواز شریف اور بینظیر بھٹو شہید کا بہت بڑا احسان اور کارنامہ ہے 1973ءکے آئین کے بعد، یہ سب سے اہم دستاویز ہے۔

تو پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی لڑائی جو ایک قبائلی لڑائی کی طرح بن گئی تھی، وہ اگر لائن میں آ سکتی ہیں تو پھر اگر پی ٹی آئی بچ گئی تو اس کیساتھ ہی ہاتھ ملایا جا سکتا ہے۔ لیکن لگتا نہیں ہے کہ پی ٹی آئی بچے گی کیونکہ عمران خان سیاستدان نہیں ہے اور وہ سیکھ نہیں رہا۔ پی ٹی آئی کا اینٹی کلائمکس جلدی آ گیا ہے، اتنی جلدی آنا نہیں چاہئے تھا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ کاﺅنٹی میچ میں فیلڈر نے محمد عامر کا کیچ چھوڑا تو وہ شدید غصے میں آ گئے اور پھر ایسی حرکت کر دی کہ کھلاڑیوں سمیت سٹیڈیم میں موجود شائقین کے بھی منہ کھلے کے کھلے رہ گئے، کمنٹیٹر بھی پریشان ہو گئے

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد حکومت نواز شریف کے کارکن ہی کر رہے ہیں۔ ایک کارکن وزیراعظم ہے اور دوسرا وزیراعلیٰ۔ یہ تو شر سے خیر کا پہلو نکل آیا ہے۔ اب ہمارے لیڈر نواز شریف ہمارے پاس ہیں اور ان کیساتھ جگہ جگہ جا کر سیاست کریں گے اور جو کمی رہ گئی ہے وہ دور کر لیں گے۔

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

مزید : لاہور