جمہوری بادشاہ

جمہوری بادشاہ
جمہوری بادشاہ

  

تحریر : ارم سرور

ایک وقت تھا جب دنیا کے بیشتر ممالک میں بادشاہت کا نظام ہوا کرتا تھا، بادشاہ آج کے دوران میں حکومت کرنیوالے صدر اور وزیراعظم کی نسبت زیادہ طاقت رکھتا تھا، وہ کسی بھی وقت کسی بھی شخص کو اس کے جرم پر یا پھر کسی معمولی بات پر اس کی گردن اڑادینے کا حکم بھی صادر کرسکتا تھا۔ عدالتیں، انتظامیہ ہر ادارہ اس کا غلام ہوتا تھا، وہ کبھی بھی کوئی بھی حکم کرسکتا تھا اور رعایا اس کے حکم پر عمل کرنے کی پابند ہوتی تھی اور کوئی بھی کسی قسم کا احتجاج نہیں ریکارڈ کراسکتا تھا، کیونکہ کسی بھی بات پر بادشاہ سے اختلاف موت کو آواز دینے کے مترادف ہوتا تھا....

اس تمام تر صورتحال میں ایک بات بڑی اہم ہوتی تھی کہ بادشاہ کے مفادات اپنی مملکت کے اندر ہی وابستہ ہوتے تھے، بادشاہ کے کچھ اصول ہوتے تھے جن پر وہ سمجھوتہ نہیں کرسکتا تھا۔ بادشاہ ہمیشہ اپنے مفادات کو اپنی سلطنت کی حدود کے اندر ہی رکھتا تھا، وہ تخت کی حفاظت کیلئے اپنی جان بھی دے سکتا تھا، کبھی جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی تو وہ سینہ سپر ہوکر اپنی سلطنت کے دفاع میں اپنا خون کا آخری قطرہ تک بہادینے میں دریغ نہیں کرتا تھا۔ وہ خود لشکر کی قیادت کرتا ہوا اور تلوار چلاتا ہوا قتل بھی ہوجاتا تھا جس کے نتیجے میں اس کی سلطنت پارہ پارہ ہوجایا کرتی تھی یا پھر کسی اور کے قبضے میں چلی جاتی تھی۔ شکست کے نتیجے میں سلطنت میں موجود اس کا مال لٹ جاتا تھا، اس کی بیویاں دوسرا بادشاہ لے جاتا تھا، بیٹوں کو قتل کروا دیتا تھا تاکہ اسے مستقبل میں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے، یہ تمام تر بربادی کی کہانیاں جانتے ہوئے بھی وہ ایسا ہی کرتا تھا کہ حملہ آور کو شکست دے دیتا یا جیت جاتا۔ دونوں صورتوں میں وہ جانتا تھا نتیجہ کیا ہوگا، ان واقعات کو آپ ذہن نشین کرلیں، اور آج کے دور میں دیکھیں جہاں جمہوریت پروان چڑھ چکی ہے، سربراہان مملکت اور وزرائے اعظم جمہوری طریقے سے عوام ہی منتخب کرتی ہے یعنی عوام کو ایک طرح سے ووٹ کے ذریعے بہت زیادہ طاقت بھی دے دی گئی ہے۔ سیاسی جماعتیں بن گئی ہیں ،وہ اپنا منشور لے کر آتی ہیں، پھر جو جیتتا ہے وہ حکومت کرتا ہے، وہ ممالک جہاں سربراہان مملکت کے مفادات اپنے ملک میں ہیں وہ ترقی یافتہ ہیں، لیکن جہاں ایسا نہیں تو سمجھ لیں وہاں اقتدار میں کوئی نہ کوئی جمہوری بادشاہ کے روپ میں موجود ہے۔

آج پاکستان کو دیکھا جائے تو ستر سالوں میں اسے آمر اور جمہوری بادشاہوں نے آگے لگا کررکھا ہے، آمروں نے تو بیڑہ غرق کیا ہی لیکن جمہوری بادشاہوں نے بھی اسے بہت نقصان پہنچایا، یہ حکومت میں نہ ہوکر بھی حکومت میں ہی ہوتے ہیں، ان کے مفادات کو دیکھیں تو وہ ا±س بادشاہ سے بالکل الٹ ہے جو آمر بادشاہ ہوتے تھے، جمہوری بادشاہ کے مفادات پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ جمہوری بادشاہ کے محلات بیرون ملک، اولاد بیرون ملک، کاروبار بیرون ملک، علاج بیرون ملک اور کسی صورت میں مصیبت آن پڑے تو وہ بھاگتا بھی بیرون ملک ہے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے اور یہ کیسے لوگ ہیں، جو صرف پاکستان پر حکومت کرنے کے غرض سے آتے ہیں، حکومت میں نہ ہوں تو اپنا وقت دبئی، سوئٹزرلینڈ اور لندن میں گزارتے ہیں، اپنے مفادات کو ملک سے باہر رکھنے والے یہ جموری بادشاہ کسی بھی طرح سے پرانے ادوار کے آمر بادشاہ سے بہتر نہیں، کم ازکم وہ اپنے سلطنت کے مفادات کیلئے ہر دم مرمٹنے کے لئے تیار رہتے تھے۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ