پہلے مرحلے میں دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کرنے پر فوج کو بھی اعتماد میں لیا گیا، آئی ایس آئی اور فوج کے سابق سربراہ سے تصدیق کرسکتے ہیں:چوہدری نثار

پہلے مرحلے میں دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کرنے پر فوج کو بھی اعتماد میں لیا ...
پہلے مرحلے میں دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کرنے پر فوج کو بھی اعتماد میں لیا گیا، آئی ایس آئی اور فوج کے سابق سربراہ سے تصدیق کرسکتے ہیں:چوہدری نثار

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ 2013میں پانچ ،چھ دھماکے روزانہ ہوتے تھے مگر اس وقت کوئی پالیسی نہیں تھی ،ان دنوں خبر یہ نہیں ہوتی تھی کہ آج دھماکہ ہو گیا بلکہ خبر یہ ہوتی تھی کہ آج کم دھماکے ہوئے، آپ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف سے تصدیق کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں جون 2013میں میں وزیر اعظم کے پاس گیا اور اسٹریٹجی یہ تھی کہ ہمیں انٹرنل سیکیورٹی پالیسی کا اعلان کرنا چاہیے اور اس کے علاوہ پہلے مرحلے میں دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہیے ،اس حوالے سے میں نے وزیر اعظم سے منظوری لی ۔ان کا کہنا تھا کہ آج کہا جاتا ہے فوج کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا اس کے برعکس فوج کو مکمل اعتماد میں لیا گیا تھا،ریٹائرڈجنرل کیانی اس وقت آرمی چیف تھے اور ریٹائرڈ جنرل ظہیر السلام اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی تھے کوئی بھی جا کر ان سے تصدیق کر سکتا ہے ۔

میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں پیپلز پارٹی ،ایم کیو ایم اور اے این پی مذاکرات کے حق میں نہیں تھیں،جب وزیر اعظم ہاوس میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی تو وسیع ترین قومی مفاد میں یہ جماعتیں بھی رضا مند ہو گئیں۔چوہدری نثار نے بتا یا کہ دہشت گردوں کے ساتھ 8مہینے تک مذاکرات ہوئے لیکن یہ کامیاب نہ ہوسکے ،ہم نے دیانتداری سے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی لیکن دوسری جانب سے ڈبل گیم کی گئی،کراچی ائیر پورٹ پر حملے کے بعد ڈبل گیم واضح ہو گئی اور پھر فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ،اس بار تحریک انصاف ،جماعت اسلامی ،جمعت علما اسلام فوجی آپریشن کے مخالف تھیںلیکن وسیع تر قومی مفاد میں ان جماعتوں نے کہا کہ ہم مخالفت نہیں کریں گے ۔

مزید خبریں :”آج میں یہ چیز آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔۔۔“ چوہدری نثار نے پریس کانفرنس شروع کرتے ہی پرویز رشید کے پیروں تلے سے زمین نکال دی

مزید : قومی