مشرف وزارت داخلہ سے پوچھ کر نہیں گئے، عدالتوں نے انہیں بھیجا،حکومت کو ڈان لیکس پبلک کرنا چاہئے: چوہدری نثار

مشرف وزارت داخلہ سے پوچھ کر نہیں گئے، عدالتوں نے انہیں بھیجا،حکومت کو ڈان ...
مشرف وزارت داخلہ سے پوچھ کر نہیں گئے، عدالتوں نے انہیں بھیجا،حکومت کو ڈان لیکس پبلک کرنا چاہئے: چوہدری نثار

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کچھ ذی شعور لوگ مجھ پر تنقید کے نشتر چلاتے رہے ، ان لوگوں کو وزارت داخلہ کا علم نہیں ہیں اس بنیادی نقطے کو نہ جانتے ہوئے کہ وزارت داخلہ کے پاس کوئی اتھارٹی نہیں، وزارت داخلہ محض پالیسی بناتی ہے،عمل درآمد حکومت کو کرنا ہوتا ہے۔ مشرف کیس ملک کی عدالتوں میں چلتا رہا ، ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور خصوصی عدالت میں انہوں نے اپنا مئوقف دیا جس کے بعد سابق صدر کو جانے کی اجازت ملی، مشرف وزارت داخلہ سے پوچھ کر نہیں گئے۔ ٹرائل کورٹ اگر مشرف کے خلاف فیصلہ دے تو تب ہی وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ انٹرپول کے ذریعے انہیں ملک واپس لائے، تمام الزامات سیاست دانوں پر تھوپنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ڈان لیکس رپورٹ میں وزارت داخلہ کو الزام دینا کسی بھی صورت میں ٹھیک نہیں ہے کیوں کہ ڈان لیکس پر بننے والے کمیشن میں وزارت داخلہ کا ایک جونیئر افسر شامل تھا ،ڈان لیکس کی رپورٹ پبلک ہونی چاہیے اور حکومت کو چاہے کہ ڈان لیکس کو پبلک کرے۔

عدالت کا تحریری فیصلہ ملاتو پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے دیا:چوہدری نثار

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ میرے حوالے غلط رپورٹیں چلیں میں میڈیا سے گزارش کرتا ہوں کہ میرے حوالے سے کوئی بھی بات کانوں میں ڈالے مجھ سے تصدیق کریں۔ سینٹرل ایگزیکٹیو کے میٹنگ میں 45لوگ تھے اور اس میں پارٹی پالیسی سے میں نے اختلاف کیا مگر اس اختلاف کی خبر جس نے لیک کی وہ بددیانت لوگ ہیں۔ہم سچ کہنا اور سچ بولنا روایت بنا لیں تو بہت سی غلطیاں درست ہوجائیں گے۔ایک شخص سے جب اختلاف رائے ہوجائے تو اسے الگ ہو جانا چاہئے۔کوئی کونسلر کا عہدہ نہیں چھوڑتا ،میں نے وزارت داخلہ کا عہد ہ نہیں لیا کیوں کہ اس کے پیچھے کچھ وجوہات تھیں ۔ میرا خیال تھا کہ میں استعفیٰ دے کر اپنے تمام اختلافات بیان کردوں گا مگر موجودہ حالات میں پارٹی اور پارٹی قیادت پر مشکل وقت ہے، میرے اختلافات کی وجوہات بیان کرنا پارٹی کے لئے خطرناک ثابت ہوگا اسی لئے میں اس ساری صورت حال پر خاموش ہوں۔ دوستی اور تعلق کی وجہ سے میں نے سیاست سے تعلق توڑنے کا فیصلہ مئوخر کیا،میں مشکور ہوں میاں نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کا مشکور ہوں جومجھے آخری وقت تک وزارت کے قائل کر تے رہے لیکن میں اپنے اصولی مئوقف پر قائم رہا ۔

میں نے یا میرے کسی قریبی ساتھی نے کوئی خبر لیک نہیں کی :چوہدری نثار

چوہدری نثار کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں ٹونٹی ٹونٹی پر فوکس ہوتا ہے، کسی کی ٹیسٹ پر توجہ نہیں، کسی کی کارکردگی پر توجہ نہیں دی جاتی، کسی کو جلسے جلوس کی اجازت نہ ملی تو وہ بھی مجھ پر ڈال دیا گیا، کسی کی کمزوری یا کوتاہی کی ذمہ داری بھی وزارت داخلہ پر ڈال دی جاتی ہے، سوائے ایک مرتبہ کبھی بلاجواز تنقید کا جواب نہیں دیا۔چار سالوں میں ملک میں سیکورٹی کی صورت حال کو بہتر بنایا ، 2013ءمیں روزانہ کی بنیاد پر بم دھماکے ہوتے تھے ان سے جان چھڑائی مگر اب بھی دہشت گردوں نے اپنی سٹرٹیجی بدلی ہے اور ہم بھی پہلے سے زیادہ مئو ثر کام کر رہے ہیں۔ ہم نے صدق دل سے کوشش کی کہ ملک کی سیکیورٹی میں بہتری آئے، تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوئیں تو کراچی کے حالات اور دہشت گردی کے خلاف صورت حال میں بہتری آئی ہے جب کہ کراچی آج ایک شخص کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہے۔میں نے وزیر اعظم کو رائے دی کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں لیکن طالبان سے مذاکرات پر پیپلزپارٹی، ایم کیوایم، اے این پی مذاکرات کے لیے تیار نہ تھے، جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل ظہیرالاسلام طالبان سے مذاکرات میں آن بورڈ تھے جب کہ کراچی ائیر پورٹ پر حملے کے بعد دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔ پچھلے 3 سالوں میں ملک کے حالات میں تبدیلی آئی ہے اور آج ملک میں دہشت گردوں کا کوئی نیٹ ورک موجود نہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری مراحل میں ہے، پاکستان آج ان ممالک میں ہے جہاں دہشت گردی کا گراف نیچے آیا ہے۔

آج پاکستان میں دہشتگردوں کا کوئی تربیتی کیمپ نہیں ہے:چوہدری نثار

سابق وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا وزارت داخلہ کی جانب سے 32 ہزار پاسپورٹس منسوخ کئے ، 10 ہزار سے زائد نام ای سی ایل سے نکالے گئے، 2 لاکھ سے زائد اسلحہ لائسنس منسوخ کئے گئے، طور خم بارڈر پر بغیر دستاویزات روز 30 ہزار لوگ آتے جاتے تھے ہم نے ان پر پابندی عائد کی جبکہ سرحدوں پر فینسنگ کیلئے اربوں روپے لگائے جا رہے ہیں ، حیران ہوا شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اسلحہ لائسنس پر پابندی لگائیں گے، ہم تو پہلے ہی پابندی لگا چکے تھے، میں نے اسلحہ لائسنس کی تصدیق کرائی، 2 لاکھ سے زائد ممنوعہ بور کے لائسنس منسوخ کئے، ۔ پہلی مرتبہ این جی اوز کو دائرے میں لائے، صرف 70 این جی اوز کو قانون کے مطابق کام کی اجازت دی، اسلام آباد میں غیرملکیوں کا ریکارڈ وزارت کے پاس ہے، غیرملکیوں سے چوبیس گھنٹے کے نوٹس پر گھر خالی کرائے، مجھ سے پہلے ڈرگ سمگلنگ میں ملوث افراد کو چھوڑ دیا جاتا تھا، اب کسی کو ایئرپورٹ پر ویزہ نہیں مل سکتا۔اسلام آباد میں 400 کے قریب غیرملکیوں کے گھر ایسے تھے جواپنے آپ کو رجسٹرنہیں کراناچاہتے تھے تاہم 24 گھنٹے کے اندر ان غیر رجسٹر گھروں کو خالی کرایا جب کہ اب اسلام آباد میں رہنے والے تمام غیرملکی افراد کا ریکارڈ وزارت داخلہ کے پاس موجود ہے،پہلے سفارش سے ویزے دیے جاتے تھے، پاکستان نہ تو بنانا ری پبلک ہے اور نہ ہی اب کسی کو ایئرپورٹ پر ویزا مل سکتا۔

مزید : قومی /اہم خبریں