احتساب عدالت میں پیشی سے انکار ،نوازشریف نے فرعونیت کی بدترین مثال قائم کی،عدالتوں کو دھمکیاں دینا اور آئین ختم کرنے کے نعرے لگانا جمہوریت نہیں:سراج الحق

احتساب عدالت میں پیشی سے انکار ،نوازشریف نے فرعونیت کی بدترین مثال قائم ...
احتساب عدالت میں پیشی سے انکار ،نوازشریف نے فرعونیت کی بدترین مثال قائم کی،عدالتوں کو دھمکیاں دینا اور آئین ختم کرنے کے نعرے لگانا جمہوریت نہیں:سراج الحق

  

کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ احتساب عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر کے نوازشریف اور ان کے بیٹوں نے فرعونیت کی بدترین مثال قائم کی ہے ،جو قانون حکمرانوں پر لاگو نہیں ہوسکتا  وہ عوام پر کیسے مسلط کیا جاسکتاہے ؟ اگر امیروں اور وی آئی پیز کا محاسبہ نہیں ہوسکتاتو پھر کسی غریب کو بھی عدالتوں میں طلب نہیں کیا جاسکتا ، جس نظام میں عوام کو حکمرانوں سے اِن کے ذرائع آمدنی پوچھنے کا حق نہ ہو ، ہم ظلم و جبر کے اس نظام کے باغی ہیں ، نوازشریف جن عدالتوں پر برس اور دھمکیاں دے رہے ہیں اگر وہ عدالتیں ان کے حق میں فیصلہ دیتیں تو ان کا رویہ مختلف ہوتا۔ جی ٹی روڈ پر آ کر عدالتوں کو دھمکیاں دینا اور آئین ختم کرنے کے نعرے لگانا جمہوریت نہیں ، ڈائیلاگ کرپشن بچانے کے لیے نہیں کرپشن کے خاتمہ ، عوام کو زندگی گزارنے کی سہولتیں دینے اور ظلم و جبر اور شخصی آمریت کے خاتمہ کے لیے ہونے چاہئیں ، 21 اگست کو اسلام آباد میں کرپشن فری پاکستان تحریک کے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا ۔

تفصیلات کے مطابق مسانی کوئٹہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان کی سیاست کو چند خاندانوں نے یرغمال بنارکھاہے، ان خاندانوں کو عالمی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل اور یہ غریب عوام کی عزت اور پیسے کو اپنے لیے حلال سمجھتے ہیں ، ان کے اثاثوں اور کارخانوں میں ہونے والے بے تحاشا اضافہ کے بارے میں کوئی پوچھ لے تو یہ سیخ پا ہو جاتے ہیں ۔ جب ہم احتساب کی بات کرتے ہیں تو یہ چیخنے چلانے لگتے ہیں کہ جمہوریت کو خطرہ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جمہوریت کو احتساب سے نہیں کرپشن اور لوٹ مار کے نظام سے خطرہ ہے جو حکمرانوں نے مسلط کر رکھاہے ۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ، نظریاتی کرپشن کی وجہ سے پاکستان دولخت ہوا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا ،  لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر بننے والے پاکستان کو قومیتوں ، مسلکوں اور علاقوں کی بنیاد پر تقسیم کیا جارہاہے اور اسی کرپشن کا نتیجہ ہے کہ ملک میں سودی نظام ، طبقاتی نظام تعلیم اور غریب بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم پہلے دن سے سب کے احتساب کا مطالبہ کررہے ہیں وہ سیاسی اور غیر سیاسی ہو یا کوئی جرنیل ، جج یا بیوروکریٹ سب پر احتساب کا قانون لاگو ہوناچاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ کسی فرد کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اپنی مرضی کا قانون بنائے ،اگر کوئی صادق اور امین نہیں بن سکتا تو اسے اسمبلی کا رکن اور وزیر بننے کا بھی حق نہیں ، وفاقی وزاءکہتے ہیں کہ باسٹھ تریسٹھ آئین میں تجاوزات ہیں ، کل کو یہ پورے آئین کو لپیٹ دینے کا مطالبہ کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ کوئی بھی صاحب اختیار آئین سے بالاتر نہیں ، جو لوگ سمجھتے ہیں کہ نوازشریف کی نااہلی کے بعد رات گئی بات گئی والا معاملہ ہوگیاہے ، انہیں بتانا چاہتاہوں کہ احتساب کی یہ تحریک آخری چور اور لٹیرے کے پکڑے جانے تک جاری رہے گی اور وہ وقت دور نہیں جب عوام کا ہاتھ کرپٹ مافیا کے گریبانوں تک پہنچے گا ، ہم بنکوں سے قرضے لے کر ہڑپ کرنے ، آف شور کمپنیاں بنانے اور پانامہ لیکس میں موجود دیگر 436 ملزموں کے احتساب کی جنگ عدالتوں ، ایوانوں اور ملک کے گلی کوچوں میں لڑیںگے ۔

مزید : قومی