سپیکر کی ذمہ داری

سپیکر کی ذمہ داری
سپیکر کی ذمہ داری

  

قومی اسمبلی کے سپیکر نے جو ’’نکما پن‘‘ دکھایا سو دکھایا، مگر شاہ محمود قریشی نے بھی جو ’’سیاناپن‘‘ دکھایا اس پر علیحدہ داد بنتی ہے، کسی دیہات میں بکریاں چرانے والے تک کو معلوم تھا کہ اپوزیشن خاص طور ن لیگ اپنا ’’سیاپا‘‘ ڈالے گی اورخوب ڈالے گی۔۔۔ سو سپیکر پر لازم تھا کہ وہ اس سلسلے میں اپوزیشن کے ارکان کے ساتھ ملاقات کرکے اسمبلی کے ماحول کو خوش گوار بنانے کی کوشش کرتے۔ وہ اگر خواجہ آصف اور ایاز صادق کے ساتھ مشاورت کرتے خورشید شاہ کے ساتھ بات کرلیتے تو اسمبلی کا ماحول خوشگوار بنایا جاسکتا تھا۔۔۔ وہ پانچ سال تک کے پی کے میں سپیکر رہے۔ قومی یا صوبائی اسمبلی کے ایوان کو چلانے کے لئے تقریباً ایک جیسے قوانین ہیں، مگر بدقسمتی سے قومی اسمبلی کے سپیکر اپنے اس تجربے سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے، یعنی ناکامی یہ ہوئی کہ ضرورت سے زائد لوگوں کو پاس جاری کردیئے گئے اورلوگوں کی کثیر تعداد نے پوری اسمبلی بلڈنگ کے اندر اپنا قبضہ جمالیا، اسمبلی کے اندر سیکورٹی کے ذمہ داران بالکل بے بس ہوگئے اور لوگ اسمبلی کے مختلف حصوں میں گھومتے نظر آئے۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ اسمبلی کی عمارت نہیں کرکٹ گراؤنڈ ہے، سپیکر اسمبلی سے خورشید شاہ نے مطالبہ کیا کہ وہ گیلری میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو نعرے لگانے اور آوازے کسنے سے منع کریں۔ سپیکر نے گیلری میں بیٹھے لوگوں کو ایک دوبار ڈانٹا ضرور، مگر لوگ پھربھی باز نہ آئے۔ سپیکر اگر اس موقع پر شور مچانے اور نعرے لگانے والوں کو باہر نکلوا دیتے تو اس سے بہتر صورت حال پیدا ہوسکتی تھی۔۔۔ مگر وہ خاموش رہے اور اپنے اختیارات کے استعمال سے بھی گریز کیا۔

وجہ شاید یہ تھی کہ شور مچانے والے ان کے اپنے پارٹی ورکر تھے اور ایک رکن جو اب وزیر بن گئے ہیں، گیلریوں میں اشارے کر کے انہیں نعروں پر اُکسا رہے تھے وزیراعظم کے انتخاب کے بعد ن لیگ نے احتجاج شروع کیا تو جواباً پی ٹی آئی کے ارکان نے بھی نعرے لگانے شروع کردیئے اس موقع پر سپیکر اگر عمران خان یا کسی دوسرے سینئر رہنما کے ذریعے اپنے ارکان کو چپ کروا دیتے تو ممکن ہے ن لیگ والے بھی کچھ دیر بعد خاموش ہو جاتے مگر وہ ایسا نہ کرسکے اور ہنگامہ آرائی عروج پر رہی اور ن لیگ والے بھی آپے سے باہر ہوگئے۔ سپیکر کو چاہئے تھا کہ وہ اپنی پارٹی کے نو منتخب وزیر اعظم کے لئے اسمبلی میں سازگار ماحول بنانے کی کوشش کرتے، تاکہ عمران خان تحمل کے ساتھ اپنی بات مکمل کرتے، مگر شور شرابے کے اس ماحول میں عمران خان جم کے اپنی بات نہ کرسکے، ان کے لب و لہجے میں تلخی آگئی تو ان کا خطاب اپوزیشن لیڈر کی طرح کا ہوگیا۔۔۔ وہ بجائے اپوزیشن کو رام کرنے کی کوشش کرتے الٹا انہیں جلسے، جلوس اور دھرنے کی دعوت دینے لگے، انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر ن لیگ یا فضل الرحمن اسلام آباد میں ’’دھرنا‘‘ دینا چاہتے ہیں تو وہ نہ صرف کنٹینر بلکہ ان کے کھانے پینے کا بندوبست بھی کرنے کے لئے تیار ہیں، یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ بات ہے کہ نو منتخب وزیر اعظم نے خود ہی اپوزیشن کو جلسے، جلوس، یا دھرنے کا راستہ دکھایا۔ اپنے خطاب میں عمران خان نے مزید کہا کہ اگر شہباز شریف اور فضل الرحمن ایک ماہ اسلام آباد میں کنٹینر پر گزارلیں تو وہ انہیں مان جائیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر ان دونوں حضرات نے کسی نہ کسی طرح کنٹینر پر ایک ماہ گزار لیا تو کیا عمران خان مستعفی ہو جائیں گے۔

عمران خان کی تقریر میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ ’’ڈاکو‘‘ کو جیل پہنچائیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کے پاس یہ اختیار کیسے آگیا کہ وہ جیل میں بھی ڈال سکتے ہیں؟ کیا نیب کے ساتھ ساتھ ’’عدلیہ‘‘ کے اختیار بھی ان کے پاس آگئے ہیں؟ میرے خیال میں اب عمران خان کو سوچ سمجھ کے بیانات دینے چاہئیں اور ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہئے جس سے ان کی شخصیت کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہو، مثال کے طور پر انہوں نے کہا کہ میں کسی کو ’’این آر او‘‘ نہیں دونگاملک کے نومنتخب وزیر اعظم کے منہ کے یہ الفاظ بڑی اہمیت رکھتے ہیں سو قوم پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ کون این آر او مانگ رہا ہے اس کے کیا ثبوت ہیں کہ کوئی ان سے ’’این آر او‘‘ مانگ رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ انہیں قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں قوم کے نمائندوں کو یہ بتانا چاہئے کہ این آر او مانگنے والے کون ہیں اور انہوں نے کس ذریعے سے این آر او مانگا ہے۔ ان کا یہ بیان اگر حقیقی ہے تو پھر انہیں ثابت کرنا چاہئے اور اگر یہ محض سیاسی بیان ہے تو پھر ایسے بیانات وزیراعظم کے شایانِ شان نہیں ہیں۔ عمران خان کی تقریر کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے ایک ’’ضمنی‘‘ تقریر فرمائی اور کہا کہ عمران خان یہ بھی کہنا چاہتے تھے اور یہ بھی کہنا چاہتے تھے مگر اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے وہ یہ سب کچھ نہیں کہہ سکے۔ اب اگر شاہ محمود قریشی کے ’’ضمنی‘‘ بیان کو درست سمجھ لیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ عمران خان ابھی تک سیاسی طور پر اتنے میچور نہیں ہوئے کہ اگر اسمبلی کا ماحول تھوڑا بہت ’’گرم‘‘ ہو تو وزیر اعظم اس طرح کے ’’گرم‘‘ ماحول میں اپنے دل کی بات کرنے پر قدرت نہیں رکھتے اور وہ ماحول میں ڈھل جاتے ہیں۔۔۔

اور وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے کون سی بات کرنی ہے اور کون سی نہیں۔۔۔ میرے خیال میں عمران خان کواپنی اس ’’کمزوری‘‘ پر قابو پانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی تقریر کے بعد شاہ محمود قریشی کو ’’ضمنی‘‘ تقریر کی ضرورت نہیں پڑے۔۔۔ اسمبلی میں بلاول بھٹو نے اچھی تقریر کی میرے خیال میں انہوں نے عمران خان اور شہباز شریف دونوں کا چچا بننے کی کوشش کی ہے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ البتہ شہباز شریف کو اب بطور اپوزیشن لیڈر تھوڑا خود کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ ابھی تک اپنے کردار کے ساتھ انصاف نہیں کرسکے اور حقیقت یہ ہے عمران خان اور شہباز شریف دونوں کے خطاب سے ایسے لگا کہ وہ کسی انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے ہیں، مگر انہیں سوچنا چاہئے کہ اسمبلی کے فلور پر گفتگو کرتے ہوئے اپنا لب و لہجہ کیسا رکھنا ہے اور ایسی گفتگو کرنی ہے، جس سے کوئی اچھا پیغام جائے اور دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو بھی کچھ سوچنے کا موقع ملے۔۔۔

لیکن یہاں یہ بات ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ (ن) لیگ کے ممبران کو اس قدر ہنگامہ آرائی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ انہیں چاہئے تھا کہ وہ اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے بعد اسمبلی کے ماحول کو پر سکون رکھتے اور پھر اس کے بعد دونوں طرف کے لیڈروں کی تقریروں کو غور سے سنتے اور اپنی گفتگو بھی کرتے بہر حال اطمینان کی بات یہ ہے کہ اسمبلی میں کوئی ایسی بد نظمی نہیں ہوئی کہ بات ایک دوسرے کے گریبان تک پہنچ جاتی۔۔۔ البتہ سپیکر کو اب تھوڑا چاک و چوبند ہونا پڑے گا۔۔۔ وہ اگر یونہی پلیز، پلیز سے کام چلاتے رہے تو کسی دن یہ پلیز ان کے لئے مشکلات بڑھا بھی سکتی ہے۔ انہیں پی ٹی آئی کے اراکین کو اب کسی دن سمجھا دینا چاہئے کہ خدا کے بندو تم اب حکمران ہو، اپوزیشن والے کام نہ کرو۔

مزید :

رائے -کالم -