سردار عثمان بزدار: تختِ لاہور کی جنوبی پنجاب منتقلی

سردار عثمان بزدار: تختِ لاہور کی جنوبی پنجاب منتقلی
سردار عثمان بزدار: تختِ لاہور کی جنوبی پنجاب منتقلی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جب وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کے لئے عثمان بزدار کو نامزد کر کے سرپرائز دیا، تو کوئی اُن کا نام بھی نہیں جانتا تھا،لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف اُن کے نام کا ڈنکا بجنے لگا۔مخالفین نے اُن کی زندگی کے گڑے مردے اکھاڑے اور حامیوں نے خوشی سے بھنگڑے ڈالے۔اسی اثنا میں کسی ستم ظریف نے اُن سے مشابہت رکھنے والے ایک شخص کی ویڈیو وائرل کر دی، جس میں وہ چیئر لفٹ میں بیٹھا خوف سے دہاڑیں مار رہا ہے۔ ٹی وی چینلوں نے جو آج کل سوشل میڈیا کے زیر اثر ہیں، آؤ دیکھا نہ تاؤ وہ ویڈیو پنجاب کے نامزد وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی سمجھ کر چلا دی،ساتھ تبصرے بھی کئے اور ٹھٹھہ مخول بھی۔۔۔صحافت اِس قدر زوال پذیر ہے کہ بریکنگ نیوز میں اُس شخص کے مرنے کی خبر بھی مل سکتی ہے، جو آپ کے ساتھ جیتے جاگتے بیٹھا ہو، حالانکہ تھوڑی سی تصدیق یا غور کیا جاتا تو صاف پتہ لگ جاتا تھا کہ یہ شخص کوئی اور ہے۔ خانیوال کا یہ جام صفدر نامی شخص راتوں رات پوری دُنیا میں مشہور ہو گیا۔ پھر بیس سال پہلے وزیراعلیٰ کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر بھی نکل آئی۔کسی نے اُس کا متن پڑھا نہ مقدمے کے بارے میں غور و فکر کیا، بیس برس کے عرصے میں عثمان بزدار انتخابات میں حصہ بھی لیتے رہے اور علاقے میں موجود بھی رہے، کبھی کسی نے اِس حوالے سے شور نہیں مچایا، حتیٰ کہ اُن چھ مقتولین کے ورثاء نے بھی جن کا انتخابی مہم کے دوران تصادم میں انتقال ہوا تھا۔وزیراعظم عمران خان نے عثمان بزدار کے خلاف ساری پروپیگنڈہ مہم سے کوئی اثر قبول نہیں کیا اور واضح کر دیا کہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے لئے تحریک انصاف کے امیدوارعثمان بزدار ہی ہوں گے۔

سرائیکی خطے کے لوگ اس سارے منظر نامے کو اس تناظر میں دیکھتے رہے کہ جنوبی پنجاب کی ایک پسماندہ تحصیل سے وزیراعلیٰ نامزد ہوا ہے تو پنجابی اسٹیبلشمنٹ کو جو ہمیشہ اپر پنجاب کو اس منصب کے لئے ترجیح دیتی رہی ہے،یہ فیصلہ ہضم نہیں ہو رہا،تقریباً40سال بعد جنوبی پنجاب کو دوسرا مستقل وزیراعلیٰ مل رہا ہے۔اس سے پہلے نواب صادق حسین قریشی کو ذوالفقار علی بھٹو نے وزارتِ اعلیٰ پر فائز کیا تھا، جن کا تعلق ملتان سے تھا۔ دوست محمد کھوسہ بھی پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے،مگر اُن کے بارے میں سبھی کو معلوم تھا کہ انہیں عارضی طور پر لگایا گیا ہے۔وہ ڈیرہ غازی خان میں رہتے تھے، عثمان بزدار تو ڈیرہ غازی خان ہی کی ایک پسماندہ تحصیل تونسہ شریف میں رہتے ہیں،جس کی سب سے بنیادی صفت یہ ہے کہ وہاں خواندگی کا تناسب پاکستان میں سب سے زیادہ ہے اور وہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے ملک اور بیرون ملک اعلیٰ ترین مناصب تک پہنچے، اب اس تحصیل کو یہ اعزاز بھی مل گیا ہے کہ اس کا ایک نوجوان سپوت پنجاب کی وزارتِ علیا پر متمکن ہے۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان نے عثمان بزدار کا انتخاب ہی کیوں کیا،جو یہ کہتے ہیں کہ عثمان بزدار کو عارضی وزیراعلیٰ بنایا گیا ہے، بعد ازاں نااہلی ختم ہوئی تو جہانگیر ترین صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑ کر وزیراعلیٰ پنجاب بن جائیں گے۔ایسا نہ ہوا تو شاہ محمود قریشی بھی آ سکتے ہیں،کچھ عبدالعلیم خان کا نام بھی لیتے ہیں کہ نیب نے اگر انہیں کلیئر کر دیا تو وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں،لیکن مَیں سمجھتا ہوں کپتان نے یہ فیصلہ ان وجوہات کی بنا پر نہیں کیا۔ اس کے پیچھے ان کی گہری حکمتِ عملی نظر آتی ہے۔

جنوبی پنجاب ایک ایسا علاقہ ہے،جہاں احساسِ محرومی بہت زیادہ ہے الگ صوبہ بنانے کی تحریک بھی اپنے زوروں پر ہے۔ خود پی ٹی آئی بھی یہ وعدہ کئے ہوئے ہے کہ اقتدار میں آ کر جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے پر پوری توجہ دی جائے گی ،لیکن فی الوقت یہ آسان مرحلہ نہیں ہے اس کی راہ میں بے شمار آئینی و سیاسی رکاوٹیں ہیں تاہم اس پر صبر کی گنجائش بھی بہت کم ہے۔ پھر وہ کیمسٹری جو عمران خان نے اپنی حکومت سازی اور عہدوں کی تقسیم کے حوالے سے بنائی، اس میں ضروری تھا کہ جنوبی پنجاب کو ایک بڑا عہدہ دیا جائے۔اس کیمسٹری کے مطابق وہ خیبرپختونخوا کو سپیکر شپ، بلوچستان کو چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی سپیکر،پنجاب کو وزارتِ عظمیٰ اور کراچی کو صدرِ مملکت کا عہدہ دے چکے تھے۔ اب اگر وہ زیریں پنجاب، یعنی جنوبی پنجاب کو نظر انداز کر دیتے تو ان پر بھی یہ لیبل لگ جانا تھا کہ انہوں نے سب کچھ لاہور یا اپر پنجاب کو دے دیا ہے، سو انہوں نے ایک بڑا فیصلہ کیا اور جنوبی پنجاب کے بھی سب سے پسماندہ علاقے سے وزیر اعلیٰ چن لیا۔

جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ عثمان بزدار کے پاس انتظامی امور کا تجربہ نہیں تو اتنے بڑے منصب پر بیٹھ کر چیزوں کو سمجھنے اور سیکھنے میں وقت ہی کتنا لگتا ہے۔ عثمان بزدار ایک سرگرم وکیل رہے ہیں، بنیادی مسائل کی انہیں خبر ہے۔ پسماندگی اور محرومی کیا ہوتی ہے، اس کا انہیں ذاتی تجربہ ہے۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کے سامنے ایک واضح ایجنڈا ہے۔ وہ ایجنڈا جو تحریک انصاف نے دیا ہے اور عمران خان کا وہ وژن جو نئے پاکستان کے حوالے سے موجود ہے، گائیڈ لائن موجود ہو تو کام کرنا دشوار نہیں ہوتا۔ کاندھوں پر ذمہ داری پڑتی ہے تو اسے نبھانا بھی آ جاتا ہے۔ تحریک انصاف کا پاکستان کو بدلنے کا نعرہ ہے بھی صرف پسماندہ علاقوں کے لئے۔ لاہور کو اب کیا بدلنا، وہ تو صوبے کا سب سے ترقی یافتہ شہر ہے۔

اصل زندگی تو جنوبی پنجاب میں سسک رہی ہے۔ اگر انسانی ترقی کو فروغ دینا ہے تو پھر اس پانچ کروڑ آبادی کے علاقے پر توجہ دینا ہو گی۔ جنوبی پنجاب کے دور دراز علاقوں میں ہسپتال بننے چاہئیں، یونیورسٹیاں قائم ہونی چاہئیں، صنعتی زون بنائے جائیں، مراعات دی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ صنعتیں لگیں اور یہاں کے لاکھوں نوجوانوں کو روز گار ملے۔ اس کے لئے کوئی ایسا حکمران ہی ضروری ہے جو علاقے کی محرومیوں کو وہاں رہ کر جانتا ہو۔ ایک آدھ گھنٹے کے دورے پر لاہور سے آنے والے حکمران بڑے فیصلے نہیں کر سکتے۔ شہباز شریف اپنے دس سالہ دورِ حکومت میں دس بار بھی جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں میں نہیں آئے ہوں گے۔ اِس لئے عثمان بزدار کی بطور وزیر اعلیٰ نامزدگی کی خبر عمومی طور پر اس خطے میں بڑے جوش اور خوشی سے سُنی گئی ہے، جب ان کے بارے میں میڈیا نے منفی پروپیگنڈہ کیا تو اسے جنوبی پنجاب کے خلاف میڈیا کی نفرت قرار دیا گیا۔

پنجاب میں دس سال تک ون مین شو چلتا رہا ہے۔شہباز شریف تن تنہا جو چاہتے فیصلے کرتے، اُن کی کابینہ میں اتنی سکت تھی کہ اُن سے کچھ پوچھ سکتی اور نہ پارٹی کی طرف سے کوئی دباؤ تھا،اسمبلی کو تو وہ خاطر ہی میں نہیں لاتے تھے۔ انہوں نے جتنے بڑے فیصلے کئے اُن کی کسی دوسرے کو بھنک نہیں پڑنے دی۔ مثلاً اورنج ٹرین کا منصوبہ، 56 کمپنیاں بنانے کا فیصلہ، صاف پانی کا منصوبہ اور سرکاری افسروں کو لاکھوں روپے کی مراعات اور تنخواہیں دینے جیسے فیصلے صرف اُن کی ذات تک محدود رہے۔ تحریک انصاف میںیہ صورتِ حال نہیں، وزیراعظم عمران خان ارتکاز اختیارات پر یقین نہیں رکھتے، البتہ اہداف بنانے کو اہمیت ضرور دیتے ہیں۔ پنجاب میں بھی ون مین شو نہیں ہو گا۔وزیراعلیٰ کی حیثیت سے سردار عثمان بزدار پارٹی رہنماؤں کی مشاورت سے فیصلے کریں گے۔

اُن کی کابینہ میں اہم وزیر موجود ہوں گے۔گورنر چودھری محمد سرور کی رہنمائی بھی حاصل رہے گی تاہم عثمان بزدار کی وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر موجودگی اِس بات کو یقینی بنا دے گی کہ جنوبی پنجاب کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔عثمان بزدار وزیراعلیٰ پنجاب بن گئے ہیں، وزیراعلیٰ جنوبی پنجاب نہیں،اِس لئے انہیں فیصلے تو پورے پنجاب کے لئے کرنے ہیں۔ البتہ ماضی کی طرح جنوبی پنجاب کو نظر انداز نہیں کرنا، نہ ہی صوبے کے بجٹ کا80فیصد لاہور پر خرچ کرنا ہے۔ایک اچھی بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان بھی پنجاب پر اپنا فوکس رکھنا چاہتے ہیں۔ ایک پسماندہ علاقے سے وزیراعلیٰ بنا کر انہوں نے اپنی ترجیحات واضح کر دی ہیں، یہاں کے دانشور اور قوم پرست جماعتوں کے رہنما یہی کہتے ہیں کہ تختِ لاہور پر بیٹھنے والا وزیراعلیٰ راجن پور، داجل، تونسہ، صادق آباد اور لیہ وغیرہ کے مسائل کیسے سمجھ سکتا ہے۔اب ایسا نہیں ہو گا، بے شک عثمان بزدار تختِ لاہور پر بیٹھیں،مگر اُن کی نظریں جنوبی پنجاب کے دور افتادہ علاقوں پر جمی ہوں گی۔ جنوبی پنجاب کے عوام وزیراعظم عمران خان کے اِس فیصلے سے خوش ہیں۔اگرچہ وزارتِ اعلیٰ ملنے سے الگ صوبے کا مطالبہ دبے گا نہیں، تاہم ترقیاتی کام ہوئے،انتظامی مسائل حل کئے گئے، پولیس کے مظالم کو ختم کیا گیا اور بے روزگاری کو ختم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے تو عوام اسے اپنی ایک بڑی کامیابی سمجھیں گے،جو انہیں تحریک انصاف کی بدولت ملے گی۔

مزید : رائے /کالم