عمران نے قوم کی نبض پر ہاتھ رکھ کر مرض کی تشخیص اور علاج بتا دیا

عمران نے قوم کی نبض پر ہاتھ رکھ کر مرض کی تشخیص اور علاج بتا دیا
 عمران نے قوم کی نبض پر ہاتھ رکھ کر مرض کی تشخیص اور علاج بتا دیا

  

تجزیہ :ایثار رانا

 وزیر اعظم عمران خان کا خطاب ایک سچے درمند پاکستانی کا خطاب تھا، ایک ایسے پاکستان کا جس نے قوم کے تلخ حقائق نہ صرف خود اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں بلکہ ان کا سامنا بھی کیا ہے۔ اس لئے قرار دیا جا سکتا ہے یہ خطاب روایت سے ہٹ کر ریکارڈڈ پیغام یا کسی پرمپوٹر پر لکھے خطاب کی بجائے عام پاکستانی سے فی البدیہہ گفتگو ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے 1970ء میں قوم سے خطاب کے بعد کسی ملک کے وزیر اعظم کا سب سے متاثر کن خطاب ہے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ انہوں نے پاکستان کے تمام مسائل پر کھل کر بات کی، مسائل کا صرف اظہار کیا بلکہ اس کا حل بھی بتایا ، لیکن جو خواب آج انہوں نے قوم کے لئے دیکھا ہے اس کے لئے ایک عزم مسلسل کی ضرورت ہے اور عزم عمران خان کا سب جانتے ہیں۔ آج شاید پہلی بار کسی حکمران نے عام آدمی ،کھیتوں کھلیانوں، کارخانوں میں کام کرنے والے ایک پاکستانی کے علاوہ سڑکوں پر بھیک مانگنے والے پاکستانی کی بات کی۔ ان کا خطاب حقائق اور اس کے ادراک کے ساتھ ایک دردمند پاکستانی کے جذبات کا اظہار تھا۔دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے طاقتور، بالا دست طبقے، جاگیردار، سرمایہ دار، بیورو کریسی، کرپٹ مافیا، رشوت خور، سازشی عناصر عمران خان کو کام کرنے دینگے بھی یا نہیں، وزیر اعظم عمران خاں نے پہلی بار عدالتی نظام پر بھی بات کی۔ انہوں نے قوم کی نبض پر ہاتھ رکھا ہے۔ مرض کی تشخیص ہی نہیں کی اس کا علاج بھی بتایا ہے۔ وزارت عظمیٰ کی حلف بندی میں اردو کی غلطیوں کے بعد آج انہوں نے انتہائی سادہ، پر اثراور با محاورہ اردو میں اپنی غلطیوں کا ازالہ کر دیا۔ عمران خان آج کے خطاب میں انتہائی حساس معاملات کو نہایت سادہ اور آسان لفظوں میں قوم تک پہنچانے میں کامیاب رہے۔

مزید : تجزیہ