A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

جنوبی پنجاب صوبہ تو باقی پنجاب میں تحریک انصاف کی اکثریت نہیں رہے گی

جنوبی پنجاب صوبہ تو باقی پنجاب میں تحریک انصاف کی اکثریت نہیں رہے گی

Aug 20, 2018

قدرت اللہ چوہدری

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

بڑی خوشی کی بات ہے کہ جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین علاقے سے تعلق رکھنے والے سردار عثمان بزدار پورے پنجاب کے وزیر اعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں، ان کے والد محترم تین بار پنجاب اسمبلی کے رکن رہے اور اس سے بھی پہلے مجلس شوریٰ کے بھی رکن تھے جس کے ارکان چن چن کرنامزد کئے جاتے تھے اس مجلس شوریٰ کو بھی چلایا تو اسمبلی کی طرح جاتا تھا لیکن اس کے ارکان منتخب نہیں ہوتے تھے بس یوں سمجھ لیں کہ پورے ملک سے نایاب گوہروں کو خفیہ اداروں کی رپورٹوں کی روشنی میں منتخب کیا جاتا تھا، یہ مجلس شوریٰ جنرل ضیاء الحق کی اتنی پسندیدہ تھی کہ انہوں نے منتخب پارلیمنٹ کا نام بھی مجلس شوریٰ رکھ دیا اور آج تک فنی طور پر یہی نام چلا آ رہا ہے، پنجاب کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ متحدہ ہندوستان کا یہ صوبہ اتنا بڑا تھا کہ اس کا چیف ایگزیکٹو وزیر اعظم کہلاتا تھا قیام پاکستان کے پہلے یہی نام تھا، بعد میں جب یہ صوبہ ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم ہو گیا، تو وزیر اعظم کا منصب بھی وزیر اعلیٰ کا ہو گیا، بھارتی پنجاب کو تو تقسیم در تقسیم کر کے تین صوبے بنا دیئے گئے لیکن پاکستانی پنجاب آج تک متحد ہی چلا آ رہا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے جنوبی پنجاب صوبے کی جو بحث چل رہی ہے اس میں بھی بہت سے اسقام ہیں۔ بہاول پور بھی جنوبی پنجاب میں آتا ہے لیکن بہاول پور کو علیحدہ صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی نیم دلی کے ساتھ ہی سہی کبھی کبھار کر دیا جاتا ہے، ابھی الیکشن سے پہلے محمد علی درانی صوبہ بحالی کے لئے نکلے ہوئے تھے اب وہ بھی خاموش ہیں وہ جنرل پرویز مشرف کے پورے دور میں ان کے دائیں بائیں رہے لیکن مجال ہے انہوں نے اس دور میں کبھی بہاول پور صوبے کی بات کی ہو حالانکہ وہ اگر جنرل پرویز مشرف کے کان میں اس صوبے کی بحالی کی برکتوں کا رس انڈیلتے تو ممکن ہے وہ ایک صدارتی حکم کے ذریعے بہاول پور صوبہ بنا دیتے اور اگر آئین وغیرہ راستے کی رکاوٹ بنتے تو وہ اسی طرح اسے سردخانے میں ڈال دیتے جس طرح انہوں نے جسٹس افتخار چودھری کو ہٹانے اور ڈوگر کورٹ بنانے کے لئے کیا تھا، دراصل بات ہم نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی کرتا چاہتے ہیں جو تحریک انصاف کے چیئرمین اور وزیر اعظم عمران خان کا انتخاب ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہر حالت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں یہ بھی اچھی بات ہے کہ ملک کا وزیر اعظم سردار عثمان بزدار کے ساتھ کھڑا ہے اتوار کو جب عثمان بزدار 186 ووٹ لے کر وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تو معاً یہ سوال بھی پیدا ہو گیا کہ سو دن بعد جب عمران خان کے منصوبے کے مطابق جنوبی پنجاب صوبہ بن جائیگا تو کیا انہیں ان کے ’’آبائی صوبے‘‘ کا وزیر اعلیٰ بنا دیا جائیگا؟، ظاہر ہے اگر پنجاب کا جنوبی صوبہ بنے گا تو وہ علاقے جو نئے صوبے کو محیط ہوں گے وہاں کے ارکان اسمبلی نئے صوبے کی اسمبلی کا حصہ بن جائیں گے ایسے میں سردار عثمان کا علاقہ بھی جنوبی پنجاب کا حصہ بن جائیگا تو پھر نئی اسمبلی بھی تشکیل ہو گی، اس نئی اسمبلی کا ایک سپیکر ہو گا، اس نئے صوبے کا ایک گورنر اور وزیر اعلیٰ ہو گا ، صوبے کا اپنا ہائی کورٹ اور صدر مقام ہو گا یعنی نئے صوبے میں وہ سب کچھ ہو گا جو اس وقت ہر پرانے صوبے میں موجود ہے، پنجاب کا صوبہ تقسیم ہو گا تو اس کا رقبہ ہی کم نہیں ہو گا اس کی اسمبلی بھی سکڑ جائے گی۔ اس وقت جنوبی پنجاب کے جن علاقوں کی نمائندگی پنجاب میں ہے وہ جنوبی پنجاب کا حصہ بن جائیں گے اور چونکہ یہ کام منصوبے کے مطابق تین مہینے بعد ہی ہو جاتا ہے اس لئے خیال کہتا ہے کہ عثمان بزدار کو مستقل نہیں عبوری وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے کیونکہ جب وہ نئے صوبے میں چلے جائیں گے اور موجودہ پنجاب کی جگہ نیا پنجاب وجود میں آ جائیگا تو پھر پنجاب کے تمام منصب دار از قسم گورنر، وزیر اعلیٰ ، سپیکر، چیف جسٹس، وغیرہ نئے سرے سے چنے جائیں گے اس لئے خیال ہے کہ عثمان بزدار کو عبوری وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے اس کا ایک فائدہ تو یہ ہو گا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے فوراً بعد نئے صوبے کو وزیر اعلیٰ تلاش کرنے میں دیر نہیں لگے گی بس ادھر جنوبی پنجاب کی حدود کا فیصلہ ہوا اور یہ طے پایا کہ کون کون سے اضلاع نئے صوبے کے پاس جائیں گے تو نئی اسمبلی بن جائیگی اور سردار بزدار اس کے سربراہ ہوں گے، جب کہ بچے کھچے پنجاب میں ارکان اسمبلی اپنے صوبے کا چیف ایگزیکٹو دوبارہ منتخب کر لیں گے لیکن قارئین کرام اس میں ایک مشکل ہے اس کا حل ابھی تک نہیں سوچا گیا خیر جب سر پر پڑے گی تو یہ بھی سوچ لیں گے مشکل یہ ہے کہ اگر پنجاب کی اسمبلی سے جنوبی پنجاب کی نشتیں نکل جائیں تو باقی پنجاب میں تحریک انصاف کی اکثریت نہیں بچتی اور مسلم لیگ ن سب سے بڑی پارٹی بن جاتی ہے بہ الفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہو گا کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنا تو باقی ماندہ پنجاب میں تحریک انصاف کی اکثریت باقی نہیں رہے گی اور اس طرح جو حکومت بڑے جتنوں سے تحریک انصاف کو ملی ہے وہ بھی ہاتھ سے نکل جائیگی اس لئے یہ بھی ممکن ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کا معاملہ موخر کر دیا جائے اور کسی مناسب وقت پر اس کا حل نکالا جائے۔ ویسے بھی آئینی ضرورت یہ ہے کہ صوبہ بنانے کے لئے پنجاب اور وفاق دونوں جگہ دو تہائی اکثریت کی حمایت حاصل ہونی چاہئے۔ اگر ایسا نہ ہو تو جنوبی پنجاب صوبے کے خواب کی تعبیر نہیں مل سکتی۔

جنوبی پنجاب

مزیدخبریں