A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر500

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر500

Aug 20, 2018 | 14:51:PM

علی سفیان آفاقی

ہیوسٹن)امریکہ (سے یک قابل احترام قاری جناب ملک عبدالوحید کا تصیح نامہ پڑھا انہوں نے بالکل درست غلطی کی نشان دہی کرائی ہے۔سب سے زیادہ ان کی جس بات نے ہمیں بوکھلا دیا وہ ان کی اپنی عمر ہے۔انہوں نے اپنے بارے میں لکھا ہے کہ ’’وہی74سالہ جوان اگر جیتا رہا تو انشاء اﷲ دسمبر کو 75سال کا جوان ہو جائے گا۔انشاء اﷲ۔‘‘

اس لحاظ سے ملک عبدالوحید صاحب ہمارے بزرگ ہیں۔ان کی یادداشت بھی ماشاء اﷲجوانوں جیسی ہے۔انہوں نے جس فلم کے بارے میں تصیح فرمائی ہے۔وہ انہیں یقیناً بخوبی یاد ہو گی کیونکہ جب یہ فلم انہوں نے دیکھی ہو گی تو وہ ہم سے عمر میں لگ بھگ سات آٹھ سال بڑے اور سمجھ دار تھے۔ہم نے یہ فلمی اپنی ابتدائی عمر میں بلکہ کچھ تو بچپن میں دیکھی تھیں جن میں سے شاید ہی گنتی کی چند فلمیں ہو گی جنہیں با شعور ہو نے کے بعد دوبارہ دیکھنے کا موقع ملا ہوگا۔اس لیے اس قسم کی غلطیاں سر زد ہو جانا ایک قدرتی امر ہے۔ہم پھر ایک بار یہ عرض کریں گے کہ یہ تحریر ہم محض اپنی ذاتی یادداشت کے سہارے لکھ رہے ہیں اور جلد بازی میں بعض اوقات نظر ثانی کا موقع بھی نہیں ملتا۔اس لیے واقعات پر دوبارہ غور کرنے کی نوبت نہیں آتی۔عبدالوحید صاحب نے بالکل صیحح لکھا ہے۔نہ جانے ہم نے یہ ’’تکیہ کلام‘‘ فلم ’’شاردا‘‘ میں واسطی سے کیوں منسوب کر دیا۔یہ اپنے دور کے عظیم کامیڈین چارلی صاحب ہی کا تکیہ کلام ہے بلکہ اب یادآیا کہ یہ تکیہ کلام بھی نہیں ہے بلکہ ایک گانے کا حصہ ہے فلم بینوں کو یہ اتنا پسند آیا تھا کہ انہو ں نے اسے تکیہ کلام اور فقرے بازی کے طور پر استعما ل کرنا شروع کر دیا۔ایک دوسرے پر نو جوان آواز کستے تھے کہ’’پلٹ تیرا دھیان کدھر ہے بھائی۔‘‘

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر499 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں  

اس فلم کا نام’’سنجوگ‘‘ تھا اور یہ ایک بہت دلچسپ کامیڈی تھی۔اس فلم میں واسطی صاحب نے بھی چارلی کے ساتھ ایک اہم کردار کیا تھا۔فلم کے دوسرے اداکاروں میں)جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے(انور حسین،اے شاہ شکار پوری بھی شامل تھے۔اے شاہ کا اس میں اہم کردار تھا۔یہ دراصل غلط فہمیوں کی کہانی ہے۔چارلی صاحب ایک شہر میں سیکریٹری کی ملازمت کے سلسلے میں جاتے ہیں لیکن انہیں اے شاہ شکارپوری راج کمار)یا کوئی اور اہم شخصیت(سمجھ لیتے ہیں۔اصلی صاحب سیکریٹری کی جگہ پہنچ جاتے ہیں اور ان کی خوب آؤ بھگت ہوتی ہے۔چارلی اس صورت حال سے جان چھڑا کر بھاگ نکلتے ہیں۔مہتاب اس فلم میں ہیروئن تھیں جو بعد میں سہراب مودی صاحب کی بیگم بن گئی تھیں اور کہتے ہیں کہ شادی ہی سہراب مودی کے روال کا سبب بن گئی کیونکہ انہوں نے زندگی بھر شادی نہ کرنے کا عہد کیاتھا۔انہوں نے’’جھانسی کی رانی ‘‘جیسی قیمتی اور نادر تاریخی فلم بنائی جس میں مہتاب نے مہارانی جھانسی کا کردار کیا تھا۔اس فلم پر انہوں نے پانی کی طرح پیسہ بہایا تھا مگر فلم فلاپ ہوگئی۔اس کے بعد سہراب مودی کے زوال کا ایسا سلسہ شروع ہوا کہ بھر دوبارہ نہ سنبھل سکے۔

’’سنجوگ‘‘میں ایک اور بہت دلچسپ گانا بھی تھا۔’’لوٹ کے بُدّھو گھر کو آئے‘‘اس کے بول کچھ اس طرح تھے۔

سستے چھوٹے نہیں تو اے مہاراج 

ہم ہوتے اور گھمرّ گھمرّ جیل کی چکّی آج

ایسی خاطر بھاڑ میں جائے

جان بچی اور لاکھوں پائے

لوٹ کے بُدّھو ھو گھر کو آئے

پرانے زمانے کی فلموں میں عموماً کسی کردار کا ایک تکیہ کلام ہوتا تھا جو بے حد مقبول ہو جاتا تھا۔کئی بار تکیہ کلام کی شہرت کے باعث فلم بہت زیادہ کامیاب ہو جاتی تھی۔پاکستانی فلموں میں بھی آغاز کے دنوں میں’’تکیہ کلام‘‘رکھا جاتا تھا۔خاص طور پر شباب کیرانوی صاحب کی فلموں میں۔وہ تکیہ کلام کو بہت اہمیت دیتے تھے۔جیسے زینت کل تکیہ کلام۔

’’میں تو کہتی ہوں کھری بات چاہے کسی کو بری لگے‘‘

رنگیلا کا تکیہ کلام’’میں نے ہانگ کانگ کے نلکوں کا پانی پیا ہے‘‘وغیرہ۔

پرانے زمانے کی انڈین فلموں میں کہنیا لا ل کو دیکھ کر گاؤں کے دوسرے لوگ کہا کرتے تھے’’چاچا پسینہ آرہاہے‘‘تو وہ کہتے تھے ’’ہاں بیٹا ۔آرہا ہے اور آتا رہے گا۔‘‘

فلم’’نجمہ‘‘)یا زینت(میں اداکار یعقوب کا تکیہ کلام بہت مقبول ہوا تھا۔ہم کو دعائیں دو تمہیں قاتل بنا دیا۔بھارتی اور پاکستانی فلموں میں ایسی بہت سی مثالیں پائی جاتی ہیں۔پاکستان کی پنجابی فلموں میں بھی یہ رجحان بہت مقبول ہوگیا تھا اور ظریف،منو ر ظریف،رنگیلا ا ور ننھا کے تکیہ کلام فلم بینوں میں بہت پسند کیے جاتے تھے۔مظہر شاہ ولن تھے مگر حزیں قادری اور دوسرے مکالمہ نگار ان کی فلموں میں دبنگ قسم کے فقرے بطور تکیہ کلام ضرور رکھا کرتے تھے۔جو بے حد پسند کیے جاتے تھے اور کئی فلموں کی مقبولیت میں اضافے کا سبب بن جاتے تھے ۔ان کی ’’بڑک‘‘بھی بہت پسند کی جاتی تھی۔وہ بہت طرح دار،بانکے چھیلے اور شان دار انسان تھے ۔اداکار بھی بہت اچھے تھے مگر فلم سازوں نے )اور قسمت نے(انہیں ولن بنا دیا تھا۔

ایک رکات ہم مطالعے میں مصروف تھے کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ٹیلی فون اٹھایا تو دوسری طرف سے ایک بھاری مردانہ آواز سنائی دی۔ انہوں نے پوچھا’’یہ آفاقی صاحب کا مکان ہے؟‘‘

’’جی ہاں۔میں بول رہا ہوں۔‘‘

’’السلام علیکم۔میرا نام انجینئر ظہورالدین ہے۔‘‘

وہ پشاور سے بول رہے تھے۔انہیں شکایت تھی کہ ہم نے دو مشہو ر و معروف پٹھان اداکاروں گل حمید اور اختر نواز کے بارے میں نہیں لکھا تو کیوں نہیں لکھا۔اپنے تعارف میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ باقاعدگی سے فلمی الف لیلہ کا مطالعہ کرتے رہے ہیں۔

عرض کی کہ ان دونوں حضرات کے بارے میں لکھا جا چکا ہے۔گل حمیدکے بارے میں ہم نے بہت تفصیل سے لکھا تھا کیونکہ لاہور میں ہم ان سے ملتے رہے تھے۔وہ ایک انگریزی سینما کے منیجر تھے اورنہایت شاندار شخصیت کے مالک تھے۔لمبا قد،گور چٹا رنگ،سیاہ بال، پٹھانی ناک نقشہ،رعب دار آواز اور بے حد اسمارٹ۔گرمیوں میں عموماًسفید قمیض اور پتلون پہنا کرتے تھے۔بے حد خوش لباس،خوش اخلاق اور جامہ زیب انسان تھے۔بعد میں ان سے بار ہا ملاقاتیں ہوتی رہیں پھر وہ ہمارے دوست ثنااﷲخاں گنڈا پور کے خسر بھی بن گئے ۔ایورنیو اسٹوڈیو،ایور نیو۔۔۔پکچرز کے دفتر میں ان سے اکثر ملنا ہوتا رہتا تھا۔وہ تھے تو پٹھان مگر بالکل انگریز تھے۔با اصول،مہذب اور کھرے۔آغا جی اے گل سے بھی صاف صاف بات کر لیتے تھے اور کیوں نہ کرتے۔وہ کلکتہ میں ہیرو تھے تو اس زمانے میں انہوں نے انڈین فلموں کے بے تاج بادشاہ سیٹھ کر نا نی سے دشمنی مول لے لی تھی اور اختلاف کی بنا پر نوکری کو لات مار کر چلے آئے تھے۔ 

سیٹھ نے کہا تھا میں اسے فلموں اور کلکتہ میں نہیں رہنے دوں گا۔اختر نواز صاحب نے ڈیری فارم کا بزنس شروع کر دیا اور کلکتہ ہی میں رہے۔بہر حال۔ان کے واقعات بہت تفصیل سے ہم سپرد قلم کر چکے ہیں۔ چند دن پہلے ان کا عنایت نامہ موصول ہوا۔انہوں نے ٹیلی فون پر بھی بتایا تھا اور اس خط میں بھی لکھا کہ وہ گل حمیداور اخترنواز کے بہت بڑے پرستارہیں۔گل حمید کے بارے میں انہوں نے ایک مضمون بھی لکھا تھا۔اس کی فوٹو کاپی انہوں نے ہمیں ارسال کی ہے۔اس مضمون میں انہوں نے گل حمید کے بارے میں بہت سی ایسی معلومات فراہم کی ہیں جو ہم حاصل نہیں کر سکے تھے۔

گل حمید کی ذاتی زندگی کی کہانی بھی کسی فلم کی کہانی سے کم دلچسپ نہیں ہے۔ظہور صاحب نے ان کے بارے میں اپنا جو مضمون ارسال کیا ہے اس میں فراہم کردہ معلومات کی بنا پر بر صغیر کے اس عظیم ہیرو کے بارے میں یہ سطور لکھی جارہی ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گل حمید اپنے زمانے میں برصغیر کے مقبول ترین ہیرو تھے۔وہ پٹھان تھے۔ان کی مادری زبان پشتو تھی۔ضلع نوشہرہ کے موضع پیر پیائی میں انہوں نے جنم لیا تھا۔بد قسمتی سے ہمارے ملک میں نا قدری اور نفسانفسی کا عالم ہے۔یہاں تک کہ متعلقہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے تک تاریخی ریکارڈ اکٹھا کر کے عوام کو ماضی کے فنکاروں اور تخلیق کاروں کے بارے میں مغلومات فراہم کرنے اور انہیں باخبر کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔جو قومیں اپنے ماضی کو یاد نہیں رکھتیں وہ ہمیشہ گھاٹے میں رہتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب وہ ہالی ووڈ اور اب بھارت میں پرانی فلمی ہستیوں کے بارے میں لکھی جانے والی کتابیں اور خصوصی طور پر بنائی جانے والی ویڈیو فلمیں دیکھتی ہیں تو ان میں احساس کمتری پیدا ہو جاتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ انہیں کسی نے یہ بتانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی خود ان کا ماضی کس قدر تابناک اور قابل فخر رہا ہے اور اس خاکستر میں کیسی کیسی چنگاریاں اور شعلے محو خواب ہیں۔ (جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر501 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں