عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر51

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر51
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر51

  

مراد کے خلاف مسیحی حکومتوں کا اتحاد سربیا سے شروع ہوا۔ اس اتحاد میں سربیا، بوسنیااور بلغاریہ کے علاوہ البانیہ، ولاچیہ اور ہنگری نے بھی پوری شرکت کی۔ ’’پولینڈ ‘‘ نے بھی اپنی فوج بھیجی۔ یوں ایک صلیبی جنگ بن گئی۔یہ اتحاد بظاہر ترکوں کو یورپ سے نکال دینے کے لیے کافی تھا۔ مراد ستر سال کی عمر میں اس فوج سے نمٹنے کے لیے نکلا لیکن مراد کے پہنچنے سے پہلے ہی اتحادیوں نے بوسنیا میں عثمانی فوج پر حملہ کردیا ۔اور پندرہ ہزار ترکوں کو تہہ تیغ کرڈالا۔ ’’سربیا‘‘ اس جنگ کا قائد تھا ۔ اور اس کے بادشاہ کا نام ’’لازار‘‘ تھا۔ بہت سے معرکوں کے بعد بالآخر 1389ء میں ’’کسودہ‘‘ کے میدان میں وہ آخری مقابلہ پیش آیا جس نے اتحادیوں کا شیرازہ پراگندہ کرکے ’’سربیا‘‘ کی قسمت کا فیصلہ کردیا۔ جنگ اختتام کے قریب تھی کہ ’’میلوش کو بیلووچ‘‘ ایک سربیائی امیر عثمانی لشکر کی طرف گھوڑا دوڑاتا ہوا آیا ۔ اور اپنے بادشاہ ’’لازار‘‘ کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے اس نے یہ بیان کیا کہ مجھے کچھ نہایت اہم باتیں سلطان سے کہنی ہیں۔ چنانچہ مراد کی خدمت میں لایا گیا ۔ لیکن قدم بوسی کے وقت اس نے دفعتاً اٹھ کر مراد پر خنجر سے حملہ کردیا ۔ اپنے مقصد میں کامیاب ہوکر اس نے بھاگ جانے کی کوشش کی لیکن سپاہیوں نے چشمِ زدن میں اس کے ٹکڑے اڑا دیے۔ اب مراد تھوڑی دیر کا مہمان تھا ۔ اسی حالت میں اس نے آخری حملے کا حکم دیا۔جلد ہی اتحادیوں کو شکست ہوئی۔اور شاہِ سربیا ’’لازار‘‘ کو گرفتار کرکے مراد کے سامنے لاگیا ۔ مرادنے ’’لازار‘‘ کے قتل کا حکم دیا دیا۔ اور کچھ دیر بعد خود بھی جان بحق تسلیم ہوا۔ مراد کی شہادت کے بعد ہی ’’جنگِ کسودہ‘‘کا بھی خاتمہ ہو گیا ۔ شہزادہ ’’بایزید یلدرم ‘‘ تخت نشین ہوا تو اس نے پہلے روز ہی اپنے چھوٹے بھائی ’’شہزادہ یعقوب ‘‘ کو جس نے ’’جنگ کسودہ ‘‘ میں شجاعت کے جو ہر دکھائے تھے۔ فوراً قتل کرادیا۔ تختِ سلطنت کی خاطر آلِ عثمان میں یہ پہلاقتل تھا ۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر50 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سربیا کا بادشاہ ’’لازار‘‘ ہلاک ہوا تو ’’لارڈ سٹیفن ‘‘ حکمران بنا۔اس نے اپنی بہن شہزادی ’’ڈیسپینا‘‘ کو بایزید کے نکاح میں دے دیا اور صلح کرلی۔ اور وعدہ کیا کہ آئندہ تمام لڑائیوں میں وہ اپنی فوج لے کے شریک ہوا کرے گا۔چنانچہ آخر دم تک وہ اپنے وعدے پہ قائم رہا۔’’بایزید‘‘ نے ’’شہنشاہِ قسطنطنیہ ‘‘ سے نئی صلح کی۔ حتیٰ کہ اس صلح کے بعد ’’بایزید‘‘ نے شہنشاہ کو مجبور کیا کہ وہ خود اپنی فوج کے ذریعے ’’فلاڈلفیا‘‘کا قلعہ کرادے۔ چنانچہ یہ عبرتناک واقعہ ظہور میں آیا کہ عیسائیوں نے ’’فلاڈلفیا‘‘ پر خود حملہ کیا۔ اور اسے فتح کرکے ’’بایزید‘‘ کے حوالے کردیا۔

’’بایزید‘‘ کے دور میں ’’ایدین‘‘ ، ’’امنتشا‘‘ اور سارو خاں‘‘ کے شہر فتح ہوئے ۔1390ء میں بایزیدنے جزیرہ ’’قیوس، پر حملہ کیا ۔ اسی طرح ’’سمرنا‘‘ اور ’’کرمانیا‘‘ بھی بایزید کی تلوار سے نہ بچ سکے۔ بایزید نے اپنی زندگی میں دوبار ’’قسطنطنیہ ‘‘ کا محاصرہ کیا۔ پہلی بار محاصرہ سات مہینے تک جاری رہا۔ پھر چونکہ بایزید کو شاہِ ہنگری’’سجمنڈ‘‘ جو ’’ہونیاڈے‘‘ کا باپ تھا کے خلاف فوجیں درکار تھیں۔ اس لیے اس نے دس سال کے لیے صلح کرکے محاصرہ اٹھالیا۔ شرائطِ صلح بہت سخت تھیں۔ سالانہ خراج کی رقم ’’تیس ہزار طلائی کراون‘‘ مقرر ہوئی۔ مسلمانوں کے لیے قسطنطنیہ میں ایک شرعی عدالت قائم کی گئی۔ جس میں بایزید نے ایک ترکی قاضی مقرر کیا۔ اور کلیسائے مشرق کے اس مرکز میں ایک عالیشان مسجد بھی تعمیر کروائی۔ قیصر قسطنطنیہ کے ’’مینوئل‘‘ نے شہر کے سات سو مقامات بھی مسلمانوں کو دے دیے۔ اور’’ غلطہ‘‘کا نصف حصہ بایزید کے حوالے کردیا۔جس میں چھ ہزار عثمانی فوج متعین کی گئی۔ اسی وقت سے عثمانیوں نے قسطنطنیہ کو ’’استنبول ‘‘ کہنا شروع کیا۔

پھر ’’والیشیا‘‘ فتح ہوا۔ اور پھر یکے بعد دیگرے’’ نائیکوپولس‘‘ اور بلغاریہ‘‘ کی فتوحات ہوئیں۔ بایزید اب ہنگری پر حملہ کرنے والا تھا۔ لیکن دفعتاً اسے ایشیائے کوچک کی جانب متوجہ ہونا پڑا۔ ’’امیر کرمانیا‘‘ نے پھر بغاوت کردی تھی۔ سلطان بایزید یلدرم نے ’’انگورہ اور ’’بروصہ‘‘ کے درمیان ’’امیر کرمانیا‘‘ کے ساتھ لڑائی کی ۔ لیکن اس لڑائی میں بایزید کے لشکر کو شکست ہوئی۔ یہ سن کر بایزید خود جنگ میں شامل ہوا۔ اور ’’امیر کرمانیا‘‘ سے شکست کا بدلہ لیا۔ اس جنگ میں ’’امیر کرمانیا‘‘ کے دو لڑکے بھی قتل کیے گئے۔

سلطان ’’بایزید یلدرم ‘‘ سے پہلے عثمانی فرمانروا امیر کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ لیکن بایزید نے پہلی مرتبہ مصر کے عباسی خلیفہ کی اجازت سے سلطان کا لقب اختیار کیا۔ بایزید دوسرے فرمانرواؤں کی نسبت عیاش بھی تھا ۔ اس نے اپنی بیوی شہزادی ’’ڈیسپینا‘‘ کی ترغیب سے شراب بھی شروع کردی تھی۔ اسی اثناء میں ہنگری کے بادشاہ ’’سجمنڈ‘‘ نے ایک مرتبہ پھر صلیبی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی۔ ہنگری قسطنطنیہ کے مذہبی مرکز کی بجائے کلیسائے رومہ سے وابستہ تھا ۔ اس لیے پاپائے روم نے بھی اس کی مدد کی۔ ’’سجمنڈ‘‘کی خاص کوشش سے ’’فرانس‘‘ اور ’’برگنڈی‘‘ بھی اس جنگ میں شامل ہوئے۔ یہ ایک لشکر جرارتھا ۔ جو درِدانیال کو عبور کرکے’’شام میں داخل ہوتا ۔اور ارضِ مقدس کو آزاد کرواتا۔ یہ لشکر جرمنی سے گزرا تو جرمنی کے اعلیٰ دستے بھی اس میں شامل ہوئے۔ یہ اتحاد پوری عیسائی دنیا کا اتحاد تھا۔ ’’سجمنڈ‘‘ کا لشکر جب سربیا پہنچا ، تو انہوں نے بایزید کے دوست اور وفادار ’’لارڈ سٹیفن ‘‘پر حملہ کرکے سربیا میں وحشیانہ قتل و غارت گری کی۔اس لشکر نے کامیابی کے ساتھ’’سسٹودا‘‘ ،’’ویدین‘‘ اور ’’ارسووا‘‘ پر قبضہ کرلیا ۔ یہ لشکر ’’نائیکو پولس‘‘ پہنچا ۔ اور شہر کا محاصرہ کرلیا۔ ’’نائیکو پولس‘‘ کے کمانڈر ’’یوغلان بے‘‘ نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔اسے یقین تھا کہ بایزید اس کی مدد کو ضرور پہنچے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ اور اور بایزید برقی سرعت کے ساتھ محاصرے کے سولہویں دن ’’نائیکوپولس ‘‘پہنچ گیا۔ فرانسیسیوں کو گمان بھی نہ تھا کہ بایزید اس قدر جلد آپہنچے گا۔ وہ سمجھتے تھے کہ بایزید ’’ابنائے باسفورس‘‘ عبور کرنے کی جرأت بھی نہ کرسکے گا۔

بالآخر 24ستمبر1396ء کو ’’کاؤنٹ دی نیورس‘‘ ، ’’سجمنڈ‘‘ اور فرانسیسی فوج کے خلاف بایزید نے طبلِ جنگ بجادیا ۔ یہ ایک مشہور صلیبی جنگ ہے۔ سجمنڈ ترکوں سے واقف تھا ۔ وہ جانتا تھا کہ ترکوں کے بہترین دستے ایک غیر منظم اور کم بہترین فوج کی آڑ میں رہ کر شریک ہوتے ہیں۔ ’’سجمنڈ‘‘ کا مشورہ تھا کہ ترکوں کی ظاہری فوج کے ساتھ لڑکر وقت ضائع نہ کیا جائے۔بلکہ اصل فوج پر حملہ کیا جائے۔ لیکن صلیبی اتحاد میں شامل دوسرے ممالک کے سالاروں نے اس تجویز پر عمل کرنے سے انکار کر دیا ۔ یہ جنگ تین گھنٹے سے زیادہ قائم نہ رہ سکی۔ اس جنگ میں شاہِ سربیہ بایزید کی حمایت میں لڑرہا تھا ۔ عیسائی فوج کا بہت زیادہ نقصان ہوا اور بایزید نے ان قیدیوں کے انتقام میں جنہیں جنگ سے پہلے عیسائیوں نے قتل کرڈالا تھا ۔ اس جنگ میں دس ہزار عیسائی گرفتار کرکے قتل کا حکم دے دیا۔ قیدیوں میں کاؤنٹ ڈی نیورس اور چوبیس مزید عیسائی امراء اور شرفاء بھی شامل تھے۔بایزید نے انہیں رہا کردیا۔ لیکن روانہ کرنے سے پہلے کاؤنٹ دی نیورس کے سامنے ایک تقریر کی:۔

’’جان ! مجھے خوب معلوم ہے کہ تو اپنے ملک میں ایک بڑا سردار اور ایک طاقتور رئیس کا لڑکا ہے۔ تو نوجوان ہے اور ابھی تیرے لیے امید کے بہت سے سال باقی ہیں۔ ممکن ہے میدانِ جنگ میں تیری اس پہلی کوشش کی ناکامی کے بعد لوگ تجھے موردِ الزام ٹھہرائیں اور تو اس اتہام کو رفع کرنے اور اپنی شہرت و نیک نامی کو دوبارہ حاصل کرنے کی غرض سے ایک طاقتور فوج اکٹھی کرکے پھر میرے مقابلے میں آئے۔ اگر میں تجھ سے ڈرتا تو تجھ سے اور تیرے ساتھیوں سے ایمان اور عزت پر حلف لے لیتا ۔ کہ تم اور تمہارے ساتھی کبھی میرے مقابلے پر نہیں آؤ گے۔ لیکن نہیں ۔ میں ایسے حلف کا مطالبہ نہیں کرونگا۔ برخلاف اس کے میں خوش ہونگا اگر تو اپنے ملک میں واپس پہنچ کر ایک فوج جمع کرے اور اسے لیکر یہاں آئے۔ تو ہمیشہ مجھے میدانِ جنگ میں اپنے مقابلہ کے لیے تیار پائیگا۔جو بات اس وقت میں کہہ رہا ہوں اسے تو جس شخص سے بھی چاہے نقل کردینا۔ ‘‘(کریسی جلد ۱ صفحہ 68) جنگ نائیکو پولس کے بعد ولاچیا، اسٹائریا، اور ہنگری پر حملے کیے گئے۔پیڑوارڈین کے شہر پر قبضہ کرلیا گیا ۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں )

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح