پاکستانی مجنوں ہیں فرہاد ہیں 

پاکستانی مجنوں ہیں فرہاد ہیں 
پاکستانی مجنوں ہیں فرہاد ہیں 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستانی اپنے ملک سے مجنوں سے زیادہ پیار کرتے ہیں ،انکی دیوانگی کو آزمانے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ پینسٹھ کی جنگ سے اب تک خالص پاکستانیوں نے اپنے جنون سے پاکستان کو بدلنے کی کوششیں کی ہیں ۔ایک لمبی فہرست اس ضمن میں پیش کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کو پاکستانیوں نے کس طرح نجی سطح پر بدلا ہے ۔پاکستانی فرہاد کی طرح تیشہ چلا کر پہاڑوں سے دودھ کی نہریں نکال سکتے ہیں ۔وہ پہلے بھی ایسی نہریں کھود چکے ہیں۔ اسکی مثالیں پاکستان بھر میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ایجادات و ہنرمندی کے میدان میں پاکستانیوں نے اپنے بل بوتے پر کئی ایسے کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں کہ آج کا ایٹمی پاکستان اسکی بہترین اور قابل فخر مثال ہے کہ جس نے لٹیرے حکمرانوں اور ملک کو مقروض بنائے رکھنے والے استیصالی طبقہ کی بدمعاشیوں کے باوجود پاکستان کو ختم نہیں ہونے دیا ،انتشار اور دہشت گردی کی فضا کے باوجود انفرادی کردار سے اجتماعی کردار کی ترغیب پیدا کی ہے ۔این جی اوز کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں جنہوں نے ملک میں صحت اور تعلیم کے میدان میں غریب پاکستانیوں کے لئے نہریں کھودیں ہیں اور ان کے لئے کھاد بنے ہیں ۔پاکستانیوں کے دل میں عزم و استقال ہمشہ موجود رہا ہے ۔اگر انہیں کسی نے کم ہمتی کی طرف دھکیلا ہے تو وہ کم ظرف سیاستدان ا ور قیادت رہی ہے جس نے قوم کے اعتماد سے کھلواڑ کیا ،خدمت کے نام پر ووٹ لیکر نوٹ کو عزت دی اور بے نامی بزنس سے اپنی نسلوں کے پیٹوں کا ایندھن بھرا ہے ۔

وزیر اعظم عمران خان نے عملاً پاکستان کے مجنون اور فر ہادین طبقہ کے دلوں کو شعلہ تمنا دے دیا ہے ۔اپنی سادگی کا عملی اظہار کردیا ہے ،پہلی فاتحانہ تقریر سے اب تک انہوں نے کسی کروفر کے بغیر جاگنگ ٹریک میں بھی اپنی قومی خدمات کو جاری و ساری رکھنے کا اعلان کردیا ہے ۔یہ ایسا اعتماد ہے جو قوم کو دیکر انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کے دلوں کو لبھا لیا ہے ۔امریکہ سے ڈاکٹر عمران کی اپنی اہلیہ کے ساتھ سب کچھ بیچ باچ کر پاکستان آنے کا اعلان اسکی غیر معمولی مثال ہے ۔ یہ محبانہ جذبات سے سینچا ہوا قطرہ خون ہے جو حالت کرب میں ہر تارکین پاکستانی کے دل سے رستا تھا مگر اب جذبہ صادق سے گرم ہو کر آنکھ سے ٹپک آیا ہے کیونکہ ان پاکستانیوں کو عمران خان کے روپ میں ایک ایسے صادق و امین وزیر اعظم میں نظر آگیا ہے جو صرف عمل سے زندگی بدلنے کی قوت رکھتا ہے ۔ڈاکٹر عمران سے پہلے سپین سے بھی ایک پاکستانی اس ارادہ سے پاکستان چلا آیا ہے کہ اب اسے پاکستان میں حقیقی قیادت کا وجود مل گیا ہے ۔اس لئے جس سکون کی تلاش میں وہ یورپ میں مکین تھے اب ایسا اطمینان انہیں اپنی زمین پر مل جائے گا تو وہ کیوں ہجرت کے زخم سہتے رہیں اور اپنے ہنر سے غیروں کے ملک کو ترقی دیتے رہیں اور ملک کے لئے آہیں بھرتے رہیں ۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے پہلے بھی ایک خان نے پاکستان میں جوہر قابل کو اپنے ملک میں واپس آنے کا راستہ دکھایا تھا ۔یہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہیں جنہوں نے ایٹمی پاکستان کی بنیاد رکھنے کے بعد سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان کو آگے بڑھانے کے لئے دنیا بھر میں پھیلے پاکستانی سائنسدانوں اور انجینرز کو اپنے وطن کی خدمت پر مجبور کردیا تھااور وہ سب ہنر مند اور عالی ذہن لوگ پاکستان کی تعمیرو ترقی میں گمان سپاہی بن کر جیتے رہے ہیں ۔موجود پاکستان میں ان تارکین پاکستانی انجینروں اور سائنسدانوں کا خون جگر شامل ہے جنہوں نے محض ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی یقین دہانیوں پر اپنا سب کچھ بیچ باچ کر یورپ اور امریکہ کی شاہانہ زندگی ترک کردی تھی اور خدمت سے معمور ہوکر پاکستان چلے آئے لیکن بعد ازاں انہیں نااہل اور کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے اس کی قیمت بھی چکانا پڑی تھی لیکن اس وقت تک پاکستان سائنس ٹیکنالوجی کے میدان میں قدم جماچکا تھا اور ہزاروں سائنسدانوں اور انجینئرز کی کھیپ تیار ہوگئی تھی ۔قوم ان محسنوں کے نام نہیں جانتی جو امریکہ و یورپ سے آئے ،لیکن کہوٹہ لیبارٹری سے غلام اسحق خان   انسٹیٹیوٹ سمیت کئی اداروں میں انجنئرنگ کو کمال عروج تک پہنچانے میں انہیں مجنون و فرہادین کا کردار تھا ۔انہوں نے اپنے حصے کے چراغ جلائے تھے اب نسل نو کو وطن واپس آکر پورے اعتماد سے اپنے حصہ کے کام کرنے ہوں گے۔پس یہ امید رکھی جانی چاہئے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے قوم کی دکھتی رگ پر مسیحا بن کر ہاتھ ہی نہیں رکھابلکہ اپنی مسیحائی کی تاثیر سے وطن عزیز کے ہر ناسور کا خاتمہ بھی کریں گے اور پاکستانی جوق در جوق ان کے نئے پاکستان کی بنیاد بنتے جائیں گے ۔ 

۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ