پرنٹ میڈیا مالکان: تصویر کا دوسرا رخ!

پرنٹ میڈیا مالکان: تصویر کا دوسرا رخ!
پرنٹ میڈیا مالکان: تصویر کا دوسرا رخ!

  


مجھے کوچہ ء صحافت کے بام و در نزدیک سے دیکھتے دیکھتے دو عشرے گزر گئے۔ جب یہ دریچہ نہیں دیکھا تھا تو پرنٹ میڈیا مالکان کے بارے میں طرح طرح کے جو تعصبات بالعموم فوج میں موضوعِ گفتگو رہتے تھے وہ زیادہ تر منفی تصورات و رجحانات کی ذیل میں شمار کئے جا سکتے تھے۔ آج تو سپاہی سے لے کر جرنیل تک ٹیلی ویژن کے علاوہ اخبارات بھی دیکھتے اور پڑھتے ہیں۔ سیکنڈ لیفٹنی سے لے کر کرنیلی تک کے 30سالہ دور میں اول اول میرے دفتر میں صرف ایک انگریزی اخبار آتا تھا۔ یونٹ یا فارمیشن میں نوکری کے دوران جب بھی کوئی غیر رسمی کانفرنس ہوتی یا ٹی بریک کا اجتماعی وقفہ آتا تو کمانڈنگ آفیسر اور فارمیشن کمانڈر سے لے کر جونیئر ترین آفیسر کی شمولیت ان وقفوں میں ایک پریڈ شمار ہوتی تھی۔ یعنی آپ اگر یونٹ میں حاضر ہیں تو آپ کی شمولیت اس ”پریڈ“ میں ناگزیر ہوتی تھی۔ چونکہ ہم سب نے اخبارات کا مطالعہ کیا ہوتا تھا اس لئے کسی بھی داخلی، علاقائی یا بین الاقوامی موضوع پر ڈسکشن کے لئے آفیسرز کلاس کی تیاری تقریباً اپ ٹو ڈیٹ اور مکمل ہوتی تھی۔

علاوہ ازیں کمانڈنگ آفیسر کا یہ فرضِ منصبی بھی ہوتا تھا کہ وہ حالاتِ حاضرہ سے اپنی ٹیم کو باخبر رکھے اور ساتھ ہی اس کے لئے ایک مشکل چیلنج یہ بھی ہوتا تھا کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کی طرفداری کرنے کی بجائے پاکستان کی طرفداری کرے کہ پاکستان ہی فوج کی واحد ”سیاسی پارٹی“ ہوا کرتی تھی۔ اس طرح آفیسرز کلاس کو شروع ہی سے سیاسیات کی دلدل سے باہر رکھنے کی ڈرل ایک معمول تھی۔اس کے علاوہ کسی آفیسر کا آفیسرز میس میں ملکی سیاسیات پر بحث و تکرار کرنا سختی سے منع تھا اور ٹروپس کے لئے تو اس کوچے کے بام و در پر کوئی طائرانہ نظر ڈالنا بھی Tabooتھا……میرے خیال میں یہ پریکٹس اور ڈرل آج بھی جاری ہے اور اس موضوع پر احکامات و ہدایات آج بھی وہی ہیں جو ہمارے دور میں ربع صدی پہلے تھے۔ ہر چند کہ آج یونٹ سے باہر کی زندگی اور اندر کی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں پھر بھی قدیم پریکٹس اس لئے جاری ہے کہ یونٹ کے اندر کا انسلاک (Cohesion) اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ یونٹ کے باہر کی زندگی کے نشیب و فراز، بیرونِ در ہی رکھے جائیں، درونِ خانہ نہ آئیں۔

یادش بخیر ٹائم اور نیوز ویک دو ایسے ہفتہ واری میگزین تھے جو ہر آفیسر کی پیشہ ورانہ ضرورت سمجھے جاتے تھے۔ لیفٹن سے کپتان اور کپتان سے میجر رینک کی پروموشن کے امتحانوں کے پیشِ نظر یہ دونوں انگریزی جریدے ہر آفیسر کے دفتر میں دیکھے یا بریف کیس میں پائے جاتے تھے۔ (اردو اخبارات جو ہمارے دور میں آفیسرز میس (Mess) میں نہیں دیکھے جاتے تھے آج نہ صرف آفیسرز کلاس بلکہ ٹروپس (سپاہی سے صوبیدار میجر تک) کے لئے ہر یونٹ کے انفرمیشن روم میں پائے جاتے ہیں۔) میں اس وقت بھی سمجھتا تھاکہ پاک آرمی کی ہائی کمانڈ کے لئے یہ امر فوج کی پروفیشنل فکر کے لئے پُرخطر ہے کہ اس کے سولجرز تو اردو پرنٹ میڈیا کی طرف جانے پر مجبور ہوں اور آفیسرز کلاس صرف انگریزی زبان کے اخبارات و جرائد پر تکیہ کرنے کی پابند ہو۔ میرا خیال ہے 1971ء کے مشرقی پاکستان کے سانحے کے بعد فوج نے اس طرف دھیان دیا اور آفیسرز کو اردو پرنٹ میڈیا تک سرکاری سطح پر بھی رسائی حاصل ہو گئی۔

یہ شائد اردو پرنٹ میڈیا کے مطالعہ کی دین تھی یا کچھ اور کہ آفیسرز کلاس کو بھی رفتہ رفتہ اردو اخبارات کا ”چسکا“ پڑ گیا۔ فوج میں کمیشن پانے سے پہلے ایف۔ اے تک ہر آفیسر نے اردو زبان بطور لازمی مضمون پڑھی ہوتی تھی اس لئے اگر اس کے سامنے اردو اخبار آتا تھا تو وہ اس سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا تھا۔البتہ آفیسرز کی پیشہ ورانہ سطح پر اردو زبان سے اس بے اعتنائی نے فوج کو جو نقصان پہنچایا اس کا مکمل ادراک اب تک نہیں کیا جا سکا۔ تاہم برف کچھ نہ کچھ پگھلی ضرور ہے لیکن ’چوٹیاں‘ ہنوز برف پوش ہیں!

میں نے کالم کے شروع میں عرض کیا تھا کہ پرنٹ میڈیا مالکان کے بارے میں فوج میں طرح طرح کے تعصبات پائے جاتے تھے۔ مثلاً یہ تاثر عام تھا کہ عوام کی نبض پر اردو پرنٹ میڈیا کا جو ہاتھ ہے، اس کا سہارا لے کر اخبارات کے کرتا دھرتا اپنی من مانیاں کرنے پر قادر ہو جاتے ہیں،سیاست کے ایوانوں میں ان کی پذیرائی، سیاسی رہنماؤں کی مجبوری بن جاتی ہے، یہ لوگ جس پارٹی کو چاہیں عروج پر لے جائیں اور جسے چاہیں، پاتال میں پھینک دیں، ان میڈیا مالکان کی صفوں میں دائمی ستائشِ باہمی کا ایک کلچر پایا جاتا ہے، یہ طبقہ چونکہ مین سٹریم ملکی آبادی کے مقابلے میں زیادہ ”صاحبِ نظر“، ”صاحبِ فن“ اور ”صاحبِ رائے“ ہوتا ہے اس لئے ”فنکاری“ کے تمام گُر اس کو از بر ہو جاتے ہیں، اس کی موجودہ نسل اپنی آنے والی نسلوں کی خوشحالی کا ایک ایسا پلازہ بھی تعمیر کر دیتی ہے جس کے اندر کی رونقیں اور باہر کے جلوے کم کم ہی ماند ہوتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

لیکن جب میں نے اس کوچے میں قدم رکھا تو اگرچہ اندر کی خبریں تو میرے مفوضّہ پروفیشن (کالم نگاری) کا حصہ نہیں تھیں لیکن فوج کی ملازمت نے یہ سکھا دیا تھا کہ آپ اگر کسی حویلی کے کسی ایک کمرے میں بطور کرایہ دار رہائش اختیار کریں تو اس ساری حویلی کی خبریں خواہ آپ کی دلچسپی کا سامان ہوں نہ ہوں، آپ کی شعوری دسترس میں ہونی چاہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ حویلی کا حدود اربعہ کیا ہے، کس کمرے / منزل میں کون رہتا ہے، کیا کرتا ہے، کیا معمولاتِ زندگی ہیں، کس طبقہ ء فکر سے اس کا تعلق ہے، حویلی کا اصل مالک کون ہے، کل کتنا کرایہ بن جاتا ہے، حویلی کے داخل اور خارج کے راستے کون کون سے ہیں اور شہر میں اس عمارت کی شہرت، توقیر یا بے توقیری کیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔

فوج بھی ایک حویلی کی مانند ہے اور اس کا ہر آفیسر ایک خاص عرصے کے لئے مالک یا مالکانِ حویلی کا کرایہ دار ہے۔ اس کی ٹریننگ ایسی ہوتی ہے کہ وہ درج بالا سارے کوائف کا اگر صد در صد شناسا نہ بھی ہو تو ناشناسا بھی نہیں ہو سکتا۔ اس پسِ منظر میں ریٹائرمنٹ کے بعد اخبار کی اس حویلی میں آکر مجھے معلوم ہوا کہ یہاں کرایہ دنیا نہیں، لینا پڑتا ہے…… رفتہ رفتہ جب زیادہ ایام گزرے تو پتہ چلا کہ فوج میں رہ کر پرنت میڈیا کے بارے میں جن تعصبات کا شہرہ سن رکھا تھا اس کی حیثیت وہی تھی جو کسی شاعر نے اس مصرعے میں بیان کی ہے:

”جھوٹ“ تھا جو کچھ کہ سوچا جو سنا افسانہ تھا

میرے قارئین جانتے ہیں کہ میری فطرت ستائشِ بے جا سے کوسوں دور بھاگتی ہے۔ مجھے کسی اخبار کے مالک کی تعریف و توصیف ہرگز مقصود نہیں لیکن درج ذیل تجزیہ میرے گزشتہ 20برس کی صحافتی رفاقت کا خلاصہ سمجھ لیجئے:

1۔اخبار کا چیف ایڈیٹر یا مالک، غیر معمولی خوبیوں (اور خامیوں) کا مالک ہوتا ہے۔ وہ نارمل کردار کا حامل انسان نہیں ہوتا۔ یہ دونوں صفاتِ نیک و بد اگر اس میں یکجا نہ ہوں تو وہ زیادہ دیر تک اخبار کا مالک نہیں رہ سکتا۔ خوبی و خامی کے اشتراک کا جو نقشہ غالب نے اس شعر میں کھینچا ہے وہ عین مین ایک بڑے صحافی کے کردار پر صادق آتا ہے:

لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی

چمن زنگار ہے آئینہء بادِ بہاری کا

یہاں آکر معلوم ہوا کہ میرے زمانے میں فوج میں صحافتی کردار پر جو تہمتیں لگائی جاتی تھیں اور جو تنقید کی جاتی تھی وہ ایسی کثافت تھی کہ اس کے بغیر لطافت پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ جس طرح باغ کے گل بوٹے اور اشجار و سبزہ زار بادِ بہاری(جو چمن میں ہر وقت چلتی رہتی ہے) کے لئے ایک فطری ضرورت ہیں اسی طرح صحافت کے چمن زار میں جو کثافت اگر کسی کو باہر سے نظر آتی بھی ہے تو وہ درحقیقت اس کی لطافت و نظافت کی آئینہ دار ہے۔

2۔ اخبار کوئی فلاحی، اصلاحی یا معلوماتی ادارہ نہیں بلکہ ایک کاروباری ادارہ ہے۔ اس کے چلانے کے لئے صحافی حضرات کی ایک فوج ظفر موج دن رات اس ادارے میں موجود رہتی ہے اور اپنے حصے کے تفویض کردہ فرائض انجام دیتی ہے۔ہر صحافی کا ایک مخصوص شعبہ ہے۔ وہ اگر چاہے تو اس شعبے سے اپنے لئے ’اضافی آمدنی‘ بھی Generateکر سکتا ہے۔ اس اضافی ’پیداوار‘ کے نمونے مجھے جابجا دیکھنے کو ملے۔ ان حضرات و خواتین کا ماضی بھی سامنے رہااور حال بھی جو مرفع الحالی اور مفلوک الحالی دونوں کا شاہد عادل تھا (اور ہے۔) میں نے دیکھا کہ کئی صحافی حضرات اپنے زورِ قلم سے ایک شاندار اور عظیم قلمرو کے مالک بن گئے اور کئی اپنی میز پر دھرے چوبی قلمدان کو شیشے کے قلمدان میں بھی تبدیل نہ کر سکے۔ یہ سارا کھیل اخبار کے مالک کی آنکھوں کے سامنے کھیلا جاتا ہے اور اس کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کس نے کیا کھویا اور کیا پایا۔

3۔ کوئی بھی چیف ایڈیٹر یا مالکِ اخبار، غیر جانبدار، غیر سیاسی یا کسی غیر وابستہ تحریک کا مستقل رکن نہیں رہ سکتا۔ یہ محدودیت اس کی پیشہ ورانہ ضرورت ہے۔ اگر وہ گزرے کل میں ہینڈ ٹو ماؤتھ (Hand to Mouth) تھا اور آج ماؤتھ فُل (Mouthful) ہے تو یہ اس کی محنتِ شاقہ اور پروفیشنل بصیرت کا ثمر ہے۔ ہر ہما شما یہ مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ اس کے لئے جان مارنی پڑتی ہے، بعض روائتی اور نمائشی اخلاقی صفات کو تیاگ دینا پڑتا ہے، حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا پڑتی ہیں، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں، کرپشن، ایمانداری، انصاف، بے انصافی، اقربا پروری اور غیرجانبداری کے مروجہ لغوی مفاہیم سے لاتعلقی اختیار کرنا پڑتی ہے، ضرورت پڑے تو ریاکاری کا لبادہ تک اوڑھنا پڑتا ہے اور اس طرح ایک بڑے ادارے کو چلانے کے لئے چند در چند پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ اس کمرشل ادارے کو انٹرنیشنل کمرشل اصول و ضوابط کا پابند بنانا پڑتا ہے۔ کوئی بھی ابلاغی ادارہ ہو اس کی SOPs، مسجد یا مدرسے کی SOPs سے مختلف اور بعض اوقات متضاد ہوتی ہیں۔

4۔ جہاں تک میں نے دیکھا ہے ہر معروف اور قومی سطح کے اردو پرنٹ میڈیا کا مالک ہمیشہ نیچے سے اوپر جاتا ہے۔ وہ خود ساز (Self-made) شخصیت ہوتی ہے۔ کس کس کو یاد کروں …… حمید نظامی صاحب، خلیل الرحمن صاحب، مجیب الرحمن شامی صاحب، ضیاء شاہد صاحب سب کے سب بتدریج نیچے سے اوپر چڑھے ہیں۔ اگر کوئی منہ میں چاندی کا چمچہ لے کر پیدا ہوا تو اس کو بھی سونے کا چمچہ بنانے کے لئے مسلسل اور جان توڑ محنت کرنا پڑی۔ہارون فیملی کی مثال ہمارے سامنے ہے!

5۔کامیاب صحافتی ادارے کا مالک ایک ایسا ثمردار درخت بھی ہوتا ہے جس کو ہر طرف سے پتھروں اور کنکریوں کا سامنا ہوتا ہے۔ ایسے میں اپنے پھل کو بچانا، شاخوں اور کونپلوں کو زخمی نہ ہونے دینا اور پھل کو مارکیٹ تک لانا ایک بڑا چیلنج ہے جو ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ لوگ اس مالکِ ادارہ کی بھری تجوریوں کو تو دیکھتے ہیں اور شائد حسد بھی کرتے ہیں لیکن غالب کو یاد نہیں کرتے کہ اس مالکِ ادارہ (Owner of the Newspaper) کی کثافتیں ہی چمن کی لطافتوں کی آئینہ دار ہوتی ہیں!

مزید : رائے /کالم


loading...