جسٹس قاضجی فائز عیسٰی کیخلاف صدر کو خط لکھنے پردائر ریفرنس خارج ، صدارتی ریفرنس پر فیصلہ آناباقی 

  جسٹس قاضجی فائز عیسٰی کیخلاف صدر کو خط لکھنے پردائر ریفرنس خارج ، صدارتی ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں ) سپریم جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف صدر کو خط لکھنے کےخلاف دائر ریفرنس خا ر ج کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف صدر کو خط لکھنے کےخلاف ریفرنس دائر کیا گیا تھا، جس کی سماعت کے بعد کونسل نے ریفرنس خارج کردیا ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف دائر ریفرنس کا فیصلہ دس صفحات پر مشتمل ہے جسے جوڈیشل کونسل کے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تحریر کیا ۔ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے صدر کو لکھا گیا خط ذاتی حیثیت میں تھا جب خط لکھا گیا اس وقت ان کی بیٹی اور سسر بیمار تھے صدر کو لکھا گیا خط مس کنڈکٹ نہیں تھا۔تفصیلات کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کےخلاف دائر 2 میں سے ایک ریفرنس خارج کردیا۔پیر کو سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسی کےخلاف صدر مملکت کو خط لکھنے پر دائر کیا جانےوالا ریفرنس خارج کردیا ۔ یہ جسٹس قاضی عیسٰی فائز کےخلاف دائر دو میں سے ایک ریفرنس تھا جسے نمٹا یا گیا ۔یہ ریفرنس لاہور کے رہائشی وحید ڈوگر کی جانب سے دائر کیاگیا تھا۔ چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دس صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا ۔فیصلے کے مطابق صدر مملکت کو خط لکھنا مس کنڈکٹ نہیں ،صدر کو لکھا گیا خط ذاتی حیثیت سے تھا ،ایک جج کو ہٹانے کےلئے یہ الزامات کافی نہیں ۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے فیصلے میں کہا ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف صدارتی ریفرنس میں ان کے اہلخانہ کا نام استعمال کیا گیا تھا جس کی وجہ سے ممکنہ طور پر انہوں نے جذبات میں آکر صدر مملکت کو خط لکھے ہوں۔ صدر کو خط لکھنے کا معاملہ مس کنڈکٹ نہیں ، اس بات کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ کے جج کو عہدے سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔دوسری جانب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف غیر ملکی اثاثوں کے حوالے سے دائر کیے جانےوالے صدارتی ریفرنس کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔نجی ٹی وی کے مطابق پیر کو سپریم جوڈیشل کونسل کا چوتھا اہم اجلاس تھا۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ سپریم جوڈ یشل کونسل کی ڈیڑھ سے ایک گھنٹے سے زائد وقت تک میٹنگ جاری رہی جس کے بعد صرف پانچ منٹ کےلئے اٹارنی جنرل کو بلایا گیا،پانچ منٹ بعد اٹارنی جنرل واپس اپنے آفس روانہ ہو گئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق ریفرنس میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ پر انکی اہلیہ کے بیرون ملک اثاثے ظاہر نہ کرنے کا الزام ہے۔ حکومتی ریفرنس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف آئین کے آرٹیکل 
209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور دیگر فریقین کو نوٹسز بھی جاری کیے گئے تھے۔جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں جاری سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں اٹارنی جنرل انور منصور خان پیش ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے اٹارنی جنرل ریفرنسز سے متعلق حکومتی موقف سے آگاہ کیا۔جسٹس گلزار احمد اور جسٹس عظمت سعید بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ پشاور سے جسٹس وقار احمد سیٹھ اور سندھ ہائیکورٹ سے جسٹس احمد علی شیخ بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
ریفرنس خارج

مزید :

صفحہ اول -