آرمی چیف جنر ل باجوہ سے قوم کی توقعات ڈبل ہو گئیں 

آرمی چیف جنر ل باجوہ سے قوم کی توقعات ڈبل ہو گئیں 

 تجزیہ: ایثار رانا

آرمی چیف جنرل جاوید قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع اتنی بریکنگ خبر نہیں،یہ آنیوالے دنوں کے چند متوقع فیصلوں میں سے ایک ہے،اگر موجودہ حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو ایسا ہونا ہی تھا۔پاکستان اکہتر سال میں ایک بار پھر بقا کی جنگ لڑرہاہے۔ بھا ر ت مقبوضہ کشمیر پر پوری طرح پنجے گاڑھ چکا۔امریکہ افغانستان سے بھاگنا چاہ رہا ہے لیکن کمبل اسکی جان نہیں چھوڑ رہا۔ماضی کی مالی لوٹ مار کا نتیجہ معاشی بدحالی کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔آئی ایم ایف کے طاقتور پنجے ہماری رگوں میں اتر چکے،ایف اے ٹی ایف آٹا گوند ھتے ہلنے پہ بھی اعتراض کرتی ہے۔کرپشن کے نام پہ طاقتور سیاستدانوں کی ایک بڑی فوج جیلوں میں ہے،بیروزگاری مہنگائی عروج پر ہے۔غرض پاکستان کو اندرون و بیرون انتہائی سنجیدہ چیلنجز درپیش ہیں اور یقینا اس وقت ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو قوم کی نیّا کو پار لگا سکے۔جنرل بوجوہ اس وقت براہ راست تمام امور میں حکومت کیساتھ ایک پیج پر ہیں سیاسی و عسکری قیادت بڑے فیصلے کرنے جارہی ہے ایسے میں جنرل جاوید قمر باجوہ کی رخصتی سے بہت سے معاملات میں مشکلات پیش آسکتی تھیں۔میں اس فیصلے کو ایک دانشمندانہ فیصلہ اسلئے قرار دونگا کہ ہمارے پاس فی الحال غلطی کی گنجائش موجود نہیں،ایک ایک قدم پھونک پھونک کے رکھنے کی ضرورت ہے،اس میں بھی کوئی شک نہیں انکے بعد آنیوالی عسکری قیادت کا پروفیشنل ازم بھی اتنا ہی بلند ہونا تھا لیکن اس وقت سیاسی قیادت کوئی رسک لینے کے موڈ میں نہیں، جنرل باجوہ تمام چیلنجز کو کئی سال سے ڈیل کررہے ہیں اور اس نفسیاتی جنگ کو بہت اچھی طرح بلکہ دوسروں کی نسبت زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ انکا اس وقت رہنا قومی مفاد میں زیادہ بہتر بھی ہوگا اور وقت کی ضرورت بھی،ہاں یہ کہنے میں کوئی ہرج نہیں اب ان سے قوم کی توقعات ڈبل ہوگئی ہیں۔سرحد کی کشیدگی،مالی دہشت گردی بھارتی جارحیت،افغانستان سے امریکی انخلا ء سیاسی استحکام کوئی ایک چیلنج ہوتو کہوں۔ ہم امید کرتے ہیں وہ سیاسی قیادت سے مل کر قوم کو پرسکون زندگی اور پرامن پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کرینگے۔

تجزیہ ایثار رانا

مزید : تجزیہ


loading...