کوفی نہ بنیں ، کشمیر کے لئے آواز بلند کریں

کوفی نہ بنیں ، کشمیر کے لئے آواز بلند کریں
کوفی نہ بنیں ، کشمیر کے لئے آواز بلند کریں

  


۱۹۸۹ سے رواں سال اگست تک مقبوضہ وادی میں بانوے ہزار سے زائد مظلوم کشمیریوں کی شہادت ،ہزار ہا گمنام قبروں کی موجودگی ، بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی ، مودی حکومت کی اسلام دشمنی ، بھارت کی پاکستان کے خلاف آبی جارحیت ، لائن آف کنڑول کی خلاف ورزی ، سرحد پار انسانی جانوں کا ضیاع اور جنگی جنون یہاں تک ہی بات ختم نہیں ہوئی ۔۔بلکہ اب بھی اس کہانی کے مکروہ بھارتی کردار کھل کر سامنے آرہے ہیں ۔

آج ایک جانب انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے تو دوسری جانب طاقت کے نشے میں اندھی ہوئی بھارتی قیادت اور افواج اپنے ہوش و ہواس کھو چکی ہیں ، ہر طرف گویا جنگ کے طبل بجانے کی کوشش ہو رہی ہے تاہم یہ یاد رہے کہ عام بھارتی شہری جو واقعی بھارت کو حقیقی معنوں میں سیکولر اور ترقی یافتہ قوم دیکھنا چاہتا ہے بالکل جنگ نہیں چاہتا ، پاکستانی قوم ، فوج اور حکومت بھی یہ جانتی ہے کہ اب کی ہونے والی جنگ خدانخواستہ پورے خطے تو کیا دنیا بھر کی تباہی لے کر آئے گی ، اب صرف دو ملک ہی تباہ نہیں ہوں گے بلکہ اردگرد کے دیگر ممالک بھی متاثر ہوں گے ۔

کیونکہ اب جنگ ٹینکوں یا بندوقوں کی نہیں ، میزائلوں اور بھاری ہتھیاروں کی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہے ، چار ہزار سے زیادہ کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں سے اکثریت کشمیری جوانوں کی ہے ، وادی میں غذائی قلت کا بھی خطرہ ہے ، بیمار اور معمر افراد کے لئے ادویات کی کمی بھی ہے ۔ ایک طرف مواصلات کا نظام بند ہے تو دوسری طرف کوئی اخبار شائع نہیں ہو رہا نہ ہی کوئی ٹی وی چینل خبر نشر کر رہا ہے ، فورسز کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں بہت سے افراد زخمی بھی ہو چکے ہیں ۔ آزاد کشمیر اور پاکستان میں رہنے والے کشمیری باشندے مقبوضہ وادی میں اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کرنے کے لئے بے چین ہیں لیکن ان کی تشویش میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔

بھارتی فوج بھی کشمیریوں کے حوصلے اور ہمت کو پست نہیں کر سکی ، لیکن بھارت بھی اپنے مکروہ عزائم سے باز نہیں آرہا ، اب پاکستان کے صبر کا امتحان لینے کے لئے آبی جارحیت کر کے لداخ کے تین سپل ویز کھول دئیے گئے ہیں ۔بھارتی جارحیت کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے ، دوسری طرف پاکستان کا موقف بہت واضح ہے ، ہم بہتر سال سے کشمیری عوام کی اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھے ہوئے ہیں ، ہم نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے ذریعے بین الاقوامی رائے عامہ کو بیدار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ، کشمیریوں کے دل بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔۔

مسئلہ کشمیر صرف انسانی حقوق کی پامالی کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ یہ تو پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے مابین ایک متنازعہ مسئلہ ہے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی بھی دو ممالک کے مابین مسئلہ ہو تو کوئی ایک ملک اسکو اپنا داخلی مسئلہ قرار دے کر اس مسئلے کو دبا نہیں سکتا ۔ اور مسئلہ کشمیر تو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے ۔

کہا جاتا ہے کہ ظلم کے مددگار اور ظالم کو تقویت دینے والے ظالم کے ساتھی تو ہوتے ہیں لیکن ظلم کے خلاف نہ بولنے والے مظلوم بھی ظلم میں شریک ہیں ۔ مجھے یہاں امام زین العابدین کا ایک قول یاد آرہا ہے کہ آپ نے کہا تھا ’’ مجھے دکھ کوفیوں کے مظالم پرنہیں ہوا ، مجھے رنج ہوا تو ان کی خاموشی پر کہ وہ ظلم کے خلاف نہیں بولے ، جس معاشرے میں کوئی ظلم کے خلاف خاموش رہے جان لو کہ وہاں کے لوگ کوفی ہیں اور وہ معاشرہ کوفہ ہے ۔‘‘

آئیے کشمیر کے لئے آواز بلند کریں ، اپنی تحریروں میں، اپنی باتوں میں کشمیر کا تذکرہ کریں ، مظلوم کی مدد نہیں کر سکتے توکم ازکم اسکے حق میں اپنے طور سے اپنی بساط کے مطابق کچھ حصہ ڈالنے کی کوشش ضرور کیجئیے ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...