مقبوضہ کشمیر کی بیٹیوں کی چیخ و پکار ہمیں سنائی کیوں نہیں دیتی؟

مقبوضہ کشمیر کی بیٹیوں کی چیخ و پکار ہمیں سنائی کیوں نہیں دیتی؟
مقبوضہ کشمیر کی بیٹیوں کی چیخ و پکار ہمیں سنائی کیوں نہیں دیتی؟

  


’’آپ ایسا  سمجھیں کہ کشمیر   ایک ’’قبرستان‘‘ ہے  اور   ہماری حیثیت ایک ’’مردے ‘‘ جیسی ہے ،میرا باپ بیمار  ہے اور مجھے پتا نہیں کہ انہیں دوائی مل رہی ہے کہ نہیں؟میں سولہ  دن سے  اپنے ماں باپ سے  بات  نہیں کر پائی ،مجھے پتا نہیں کہ وہ زندہ بھی ہیں کہ نہیں؟میرے گھر میں جوان بہنیں ہیں مجھے علم نہیں کہ وہ ’’محفوظ ‘‘بھی ہیں کہ نہیں؟وہ زندہ ہیں تو کیا ان کے پاس کھانے کو کچھ  ہے کہ نہیں؟میں اتنی پریشان ہوں کہ رات کو  سو بھی نہیں پاتی،وادی  میں تمام کمیونکیشن بند ہے ،میں اپنے گھر میں بات بھی نہیں کر  پا رہی  ، عید کیسی گذری وہ تو ہمیں پتا  ہی نہیں ؟میں چاہتی ہوں کہ  ایک بار اپنی ماں  سے بات کر  پاؤں لیکن بات  نہیں کر  پا رہی ،بہت بے بسی محسوس   ہو  رہی ہے،ساری بھارتی فوج سے کشمیر بھرا  پڑا ہے  ،بندہ اپنے  گھر سے باہر  نہیں نکل سکتا اور نہ ہی بیماری کی صورت میں ڈاکٹر سے مل سکتا ہے،ہم بہت  بے بس ہیں ،مودی سرکار نے کشمیر کو  مردہ گھر بنا  کےرکھدیا ہے ،سمجھ  کیا رکھا ہے کشمیریوں کو ۔۔۔جانور؟جانور  سے بھی بدتر حالت  ہے وہاں پر ۔۔۔ماں باپ کو اپنی بیٹیوں اور بیٹوں سے جدا  کر دیا ہے،ہم بے یار و مدد گار ہو چکے ہیں ،مجھے  سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ ہم کریں بھی تو کیا کریں؟؟؟‘‘

یہ الفاظ ہیں پاکستان کی شہہ رگ مقبوضہ کشمیر کی ایک بیٹی کے جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے،اس کی روتے ہوئے ویڈیو سوشل میڈیا پر جب سےوائرل ہوئی ہے کلیجہ منہ کو آ  رہا ہے ،آنکھوں سے آنسو ہیں کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے ،مقبوضہ وادی کی یہ بے  بس بیٹی تو بھارت میں بے  بسی کی تصویر   بنی ہوئی ہے تاہم جو بیٹیاں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی ہوس کا نشانہ بن رہی ہیں ،اُن کی دلدوز  چیخیں تو کلیجہ ہی پھاڑ دے رہی ہیں ،قابض فوجی ٹارچر سیلوں میں کشمیری نوجوانوں کی آہ پکار بھی کم نہیں ہے ،گذشتہ روز ایک ہندو جرنلسٹ خاتون  نے  بھارتی ٹی وی پر مقبوضہ وادی کی جو منظر  کشی کی وہ انسانی حقوق کے چیمپئن بننے والوں کے  لئے کسی  طمانچے سے کم نہیں ہے جس میں اس نے روتے ہوئے بتایاکہ وادی میں کسی چڑیا کو بھی پر ماننے کی ہمت نہیں ہے ،کشمیریوں کے  تمام حقوق  معطل ہی نہیں چھین لئے گئے ہیں،احتجاج کرنے والوں کی زبانیں وحشی فوجی گدی  سے کھینچ باہر  نکالتے ہیں ،ہمیں وادی میں جانے نہیں دیا گیا ،وہاں منظر کشی کی اجازت نہیں دی گئی ،جان جوکھوں میں ڈال کر  کچھ چیزیں فلمائی گئیں لیکن پتا چلنے پر کیمرے توڑ  دیئے گئے۔انٹرنیٹ ،ٹیلی فون اورمیڈیا کی بندش نے بھارتی فوجیوں کو ’’ شیر ‘‘ بنادیا ہے  ،انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کے وحشی کارندے فوجی وردیوں میں ملبوس مظلوم کشمیری بہنوں کی عصمتوں کے ساتھ کھلواڑ کر  رہے  ہیں اور کوئی  اُنہیں روکنے  والا نہیں ہے۔

حریت  قیادت اور آزادی پسند کشمیری گرفتار ہو  چکے ہیں اور بھارتی جیلیں کشمیریوں سے بھر چکی ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے بھی ہندوستان کی اس وحشت ناکیوں پر اب بول اٹھے ہیں اور  رپورٹس دے رہے ہیں کہ کشمیر میں ’’کچھ بھی اچھا ‘‘ نہیں ہے لیکن  عالمی میڈیا کی چیخ و پکار اور پاکستانی قوم کا واویلا بھی کشمیریوں کے  دکھوں کا مداوانہیں کر سکا ۔وزیر اعظم عمران خان نے مودی سرکار کی جانب سے کشمیر کی  خصوصی حیثیت تبدیل کرنے پر  دنیا بھر میں سفارتی مہم شروع  کر رکھی ہے جبکہ آرمی  چیف جنرل قمر جاوید  باجوہ  جنہیں 3 سال کی مزید توسیع مل چکی ہے وہ کشمیریوں کے لئے آخری  حد تک جانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا سفارتی مہم سے کشمیری بہنوں کی عصمتیں محفوظ ہو چکی ہیں ؟  کیا کشمیر  کے لئے  آخری حد  تک جانے کے اعلانات سے کشمیریوں پر   ظلم وستم بند ہو  چکا ہے؟کیا امریکی  صدر  ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش مودی کے مقبوضہ کشمیر میں بڑھتے قدم روک پائی ہے؟50 سالہ تاریخ  میں پہلی مرتبہ سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر خصوصی  اجلاس نے کشمیریوں کی زندگی  پر کیا اثرات مرتب کئے ہیں؟ان تمام سوالوں کے جواب  یقینا ’’نہیں‘‘ میں ہیں ۔حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہےکہ اس نے مسئلہ  کشمیر عالمی عدالت انصاف میں لیجانے کا فیصلہ  کیا ہے،اس فیصلہ  کے بعد کشمیریوں کی پاکستانی حکومت اور پاک فوج سے رہی سہی امید بھی مدھم ہو گئی ہے اور کشمیریوں کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی سخت  مایوسی ہوئی ہے۔کیا عالمی عدالت  انصاف  میں جانے اور فیصلہ آنے تک کشمیری  مسلسل ظلم  و  ستم کی  چکی میں پستے رہیں گے اور ہم یونہی تماشا دیکھتے رہیں گے ؟وزیر اعظم عمران خان اور پاکستانی فوج کے سپہ سالار کو  مقبوضہ  وادی  کی  مظلوم بیٹیوں  کی چیخیں  چین کیسے  لینے  دیتی ہیں ؟ایل او سی پر  ہر روز بھارت جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے ،ایل او سی کے اِس پار ہندوستانی بربریت اور گولہ  باری سے ہماری عورتیں ،بچے ،بوڑھے اور جوان روز  مر رہے ہیں ،ان  بے گناہوں کے تڑپتے لاشے  دیکھ کر حکمرانوں کی بے  حسی ختم ہونے کا نام کیوں نہیں لے رہی ؟؟؟ہماری فوج اور ہمارا ایٹمی پروگرام  آخر کس مرض کی دوا  ہے؟ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن جب  ہمارا مکار  دشمن بے غیرتی اور  بے شرمی کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے ہماری عزتوں  پر ہاتھ ڈال رہا ہے تو  پھر  ہم پر  بھی بے حسی کیوں طاری ہے؟  اپنی عزتوں کی پامالی پر ہم ’’بے شرمی اور بےغیرتی ‘‘ کا لبادہ اتار کیوں نہیں پھینکتے؟قوم سوال کرتی ہے  کہ اگر ہم  اپنی ’’عزتوں ‘‘ کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے توپھر ہم نے اس فوج اور ایٹمی پروگرام کا اچار  ڈالنا ہے ؟؟قوم سوال کر رہی ہے کہمقبوضہ کشمیر ’’لہو لہو ‘‘ہے،وادی سے  قابض بھارتی فوج کے وحشی  درندوں سےاپنی عصمتوں کے بچاؤ  کے لئے  چیختی چلاتی بہنوں کی پکار اب  بھی بنی گالہ  اور  ہماری فوجی بیرکوں  کے پارکیوں نہیں جا رہی ؟؟؟۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...