چین اور اسرائیل کے بارے میں دو ٹوک اعلان

چین اور اسرائیل کے بارے میں دو ٹوک اعلان

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارا مستقبل چین کے ساتھ ہے، کسی نے چین کی طرح ہمارا ساتھ نہیں دیا، چین کو بھی پاکستان کی ضرورت ہے،ہمارا جتنا تعلق بڑھے گا، اتنا ہی اہم ہے، اسرائیل کو جو چاہے تسلیم کرے، ہم نہیں کریں گے، سعودی عرب ہمارا اہم اتحادی ہے، مگر اس کی اپنی خارجہ پالیسی ہے، سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی خرابی کی خبریں بالکل غلط ہیں، اس نے ہر مشکل وقت میں ہماری مدد کی ہے۔، اسرائیل کو تسلیم کرنے پر میرا ضمیر کبھی نہیں مانے گا ،انہوں نے یہ بھی کہا کہ بانی پاکستان نے بھی فلسطینیوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کی تھی۔اُن کا کہنا تھا کہ لاہور میں راوی پراجیکٹ شروع کر رہے ہیں، یہاں جدید شہر بنے گا، لوگوں کو روزگار ملے گا، تعمیراتی انڈسٹری میں تمام رکاوٹیں دور کر دیں، کراچی میں بھی نیا شہر بسائیں گے، یہ جدید شہر ہوں گے۔ تعمیراتی انڈسٹری اکیلی پاکستان کو اُٹھا دے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں گیس کا بھی مسئلہ ہے، درآمدی گیس سے گزارا کر رہے ہیں، آئی پی پیز سے جو پیسے ملیں گے وہ گیس پر خرچ کریں گے، انفراسٹرکچر بہتر کریں گے،میری حکومت کا پہلا سال بہت مشکل تھا، پہلے سال آئی ایم ایف پروگرام میں چلے گئے، مشکل وقت سے نکل گئے ہیں، اس برس سب کو فرق نظر آئے گا، آنے والا وقت پاکستان کے لئے بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں کچھ چیزیں جلد ٹھیک ہوں گی، کچھ کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا۔وزیراعظم نے اِن خیالات کا اظہار اپنی حکومت کے دوسال مکمل ہونے پر ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا۔اس موقع پر وزیر اطلاعات شبلی فراز نے دوسرے کئی وزراء کے ساتھ مل کر حکومت کی دو سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالی اور اِس امید کا اظہار کیا کہ وزیراعظم جم گئے ہیں اب لمبی اننگز کھیلیں گے، اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی دو سالہ کارکردگی کا جائزہ اپنے نقطہ نظر سے لیا ہے اور اسے ناکامی کی منہ بولتی تصویر قرار دیا ہے۔قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ خارجہ محاذ پر ناکامیاں عیاں ہیں، سی پیک پر ایک سال تک کام سست رکھا گیا، قومی معاملات میں بدانتظامی بڑھ گئی، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ملکی تاریخ کی بدترین معیشت دی،خارجہ پالیسی ناکام ہے، کرپشن پہلے سے زیادہ ہوئی۔ اسفند یار ولی کا کہنا ہے کہ پارلیمینٹ بے توقیر ہے، جمہوریت کے خلاف سازشیں ہوئیں۔

وزیراعظم نے اسرائیل کو  تسلیم نہ کرنے کے بارے میں دو ٹوک اعلان کر کے اچھا کیا، کیونکہ یو اے ای اسرائیل کو تسلیم کر کے نئے تعلقات استوار کر رہا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے کئی عرب ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ پر گامزن ہیں، ایسے میں پاکستان نے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے اور یہ درست موقف اپنایا ہے، یہی بہترین پالیسی ہے اور اسے ہی جاری رہنا چاہئے، تاہم یہ ضروری ہے کہ قائداعظمؒ نے زندگی کے دوسرے شعبوں کے متعلق بھی جو ہدایات دی تھیں اُن پر بھی اُن کی روح کے مطابق عمل کیا جائے۔ قائداعظمؒ نے یہ ملک جمہوری جدوجہد سے حاصل کیا، اُن کی تمام تر تگ و دو قانون کے دائرے میں ہوئی، انہوں نے ایک سیاسی جماعت کی جدوجہد کو اس حد تک منظم و مربوط کر دیا تھا اور اسے اتنا طاقتور بنا دیا تھا کہ تمام تر مخالفتوں کے باوجود یہ جدوجہد کامیاب ہوئی، آج بھی سیاسی جماعتیں، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر، اگر اپنی جدوجہد کو قائداعظمؒ کے رہنما اصولوں کی روشنی میں آگے بڑھاتی ہیں تو اس سے جمہوریت بھی مستحکم ہو گی اور ملک بھی مضبوط ہو گا۔ وقتی مصلحتوں اور شارٹ کٹس سے جو کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں، اُن کی عمر بھی زیادہ نہیں ہوتی اور تاریخ میں ایسی کامیابیاں حاصل کرنے والوں کو عزت بھی نہیں ملتی، وزیراعظم نے جس طرح اسرائیل کے متعلق قائداعظمؒ کی پالیسی کو مشعل ِ راہ بنایا ہے، اسی طرح وہ سیاست و معیشت اور سیاسی مخالفین سے سلوک کے بارے میں بھی اُن کی تعلیمات کو پیش نظر رکھیں تو اُن کا سفر بھی خوشگوار ہو گا اور ملک بھی سیاسی استحکام کی جانب بڑھے گا۔

وزیراعظم نے چین کے بارے میں بھی واضح کر دیا کہ اگر ترقی کے سفر پر آگے بڑھنا ہے تو اس سلسلے میں چین کا تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے دو سال پہلے جب حکومت سنبھالی تھی تو اُن کی حکومت میں شامل بعض حلقے چین کے بارے میں ایسے تحفظات کا اظہار کر رہے تھے جن کی بنیاد تو ٹھوس نہیں تھی، لیکن ان سے امریکہ نوازی کی بو ضرور آتی تھی،کیونکہ خود امریکی حکومت اور اس کے بعض عہدیدار چینی منصوبوں کے بارے میں منفی رائے رکھتے تھے،چین کی حکومت کے قرضوں کے بارے میں بھی ان کی رائے مثبت نہیں تھی اور ان کا یہ خیال تھا کہ قرضوں پر شرح سود بہت زیادہ ہے، یہاں تک کہا گیا کہ پاکستان آئی ایم ایف سے جو قرض لے رہا ہے، اسے چینی قرضے واپس کرنے کے لئے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا، اسی طرح سی پیک کے دیگر منصوبوں کے بارے میں بھی منفی ردعمل دیا گیا۔ وزیراعظم نے بروقت وضاحت کر دی ہے کہ چین کے ساتھ مستقبل میں پاکستان کے تعلقات کی نوعیت کیا ہو گی۔ چین نہ صرف عالمی سیاسی منظر پر ایک بڑی سیاسی و معاشی قوت کے طور پر موجود ہے، بلکہ ابھی حال ہی میں اس نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی وسعت دی ہے، اس طرح وہ خطے میں اپنا سیاسی اثرو رسوخ بھی بڑھا رہا ہے، اس لئے مستقبل  میں چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی جہت اور بھی نمایاں ہو جائے گی۔ سی پیک کے زیر تکمیل منصوبوں کے بعد ترقی نظر بھی آئے گی اور لوگ اس سے مستفید بھی ہوں گے۔

وزیراعظم نے اپنے انٹرویو میں، لاہور میں راوی کے کنارے جو نیا شہر آباد کیا جا رہا ہے، اس کا خصوصی طور پر ذکر کیا، یہ منصوبہ اگرچہ نیا نہیں ہے اور مختلف حکومتیں اس پر سوچ بچار کرتی رہیں، تاہم عملاً کوئی کام نہیں ہو سکا تھا،اب اگر حکومت اس منصوبے میں سنجیدہ ہے تو اس کا اندازہ اسی وقت ہو گا جب عملی کام کا آغاز ہو گا،جس زمین پر یہ شہر نمودار ہونا ہے وہ  لوگوں کی نجی ملکیت ہے اور ابھی اس زمین کا کوئی ایک ٹکڑا بھی حاصل نہیں کیا گیا۔ زمینوں کے معاملات اتنے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ ان کی خریداری اور پھر منتقلی میں سالہا سال، بلکہ عشرے لگ جاتے ہیں۔اس کی ایک مثال لاہور  میں ایل ڈی اے کے دو منصوبے ہیں،یعنی ایل ڈی اے سٹی اور ایونیو وَن،ان پر کام سست روی سے ہوتا رہا، اب بھی بڑی تعداد میں مقدمات عدالتوں میں ہیں۔راوی پراجیکٹ کے لئے جو زمین خریدی جائے گی وہاں بھی مقدمے بازی ہو گی،اِس لئے تمام امور کو پیش ِ نظر رکھ کر ہی آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے ایسے کئی منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا،لیکن پھر اُن پر کوئی کام نہ ہو سکا، کوشش ہونی چاہئے کہ راوی پراجیکٹ کا حشر وہ نہ ہو، البتہ بعض بلڈرز اس راوی  میں جو صرف برسات کے دِنوں میں چلتا ہے،ضرور ہاتھ دھونا چاہیں گے، اگر ان لوگوں کو موقع مل گیا تو غریب لوگ اُن کے بنائے ہوئے پراجیکٹ سے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔انہوں نے جو منصوبے پہلے بنائے ہیں،غریب تو کجا اچھے خاصے متمول لوگ ان کے قریب سے گذر بھی نہیں سکتے، چہ جائیکہ کوئی ان منصوبوں میں آباد ہونے کا سوچے۔ حکومت اگر غریبوں کی ہمدردی کا دم بھرتی ہے تو اِس پہلو کو بھی پیش نظر رکھنا ہو گا، دو سالہ کارکردگی کے دعوے اپنی جگہ،لیکن اس عرصے میں کامیابیاں اور  ناکامیاں ساتھ ساتھ چلتی رہیں، یہ فیصلہ ابھی ہونا ہے کہ پلڑا کامیابیوں کا بھاری رہا یا ناکامیوں کا، کیونکہ اگر کامیابیاں ہوئیں تو ناکامیاں بھی کچھ کم نہیں، گورننس میں بھی زیادہ بہتری نہیں آئی،قرضے واپس کرنے  کا ذکر تو بڑے طمطراق سے کیا جاتا ہے،لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ کتنے نئے قرضے لئے گئے، واپس کئے گئے اور نئے لئے گئے قرضوں کا تناسب کیا ہے اور وہ کہاں خرچ ہوئے؟ مہنگائی کا جن تاحال بے قابو ہے اور بہت کچھ نگلتا جا رہا ہے، اس کو بوتل میں بند کرنا ضروری ہے ورنہ یہ ساری کامیابیوں کو بھی چٹ کر جائے گا اور ترقی کے سارے خوشنما اعداد و شمار دھرے رہ جائیں گے۔

مزید :

رائے -اداریہ -