حکومتی دو سالہ کارکردگی اور ”ہم عوام“

حکومتی دو سالہ کارکردگی اور ”ہم عوام“
حکومتی دو سالہ کارکردگی اور ”ہم عوام“

  

یہ ان کا آئینی حق ہے حکمران اپنی کارکردگی سے عوام کو آگاہ کر سکتے ہیں۔ اسی آئین نے حزبِ اختلاف کی طرف سے اعتراض اور سوال کو بھی جائز قرار دیا اور ایسا ہی ہوا ہے، منگل کو وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق حکومت کی دو سالہ کارکردگی سے پاکستانیوں کو آگاہی کے لئے سلسلہ شروع کر دیا گیا اور ابتدا میں پانچ وزرا کی ایک ٹیم نے اپنے اپنے شعبہ یا محکموں کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات سے قوم کو آگاہ کیا اور یہ سب ایک طویل پریس کانفرنس ہی کے ذریعے کیا گیا، حزبِ اختلاف نے اپنی طرف سے روایت نبھائی اور شدید تنقید کا عمل جاری رکھا، جمہوریت اور جمہوری عمل کا تقاضہ تو یہ ہے کہ اپنی اپنی بات کریں۔ دوسرے کی آنکھ میں شہتیر تلاش کرنے کی کوشش نہ کریں، اچھی جمہوریت تو وہ ہے جس میں بات دلیل سے ہو، حزبِ اقتدار اپنی صفات بتائیں تو حزبِ اختلاف اس میں سے نقائص تلاش کر کے نشاندہی کرے اور اصلاح کے لئے تجاویز بھی دے، لیکن گذشتہ دو سال کا ریکارڈ تو یہ ہے کہ حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار  دشنام طرازی کے ریکارڈ بناتی چلی آ رہی ہیں، حتیٰ کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں جیسے اہم ایوانوں میں ذومعنی گفتگو سے الزام تراشی اور ایک دوسرے کے خلاف نازیبا گفتگو ہوئی، قومی اسمبلی کے ایوان میں تو اراکین کی ڈیوٹیاں ہیں کہ کس نے کیا کہنا ہے اور دلچسپ امر ہے کہ ایوان کے صدر محترم(سپیکر) نے بھی فرائض تقسیم کر لئے، جب حزبِ اقتدار کو موقع دینا اور حزبِ اختلاف کے جواب کو نظر انداز کرنا ہو تو یہ فرائض ان کے نائب انجام دیتے ہیں اور جب کبھی کسی مفاہمت کی ضرورت ہو تو وہ خود کرسی  صدارت سنبھال لیتے ہیں اس کا اندازہ حال ہی میں ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے ہونے والی قانون سازی کا عمل ملاحظہ کریں تو بخوبی یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ سپیکر محترم اسد قیصر ایسے معاملات میں کارکردگی کا بہتر ریکارڈ رکھتے ہیں، ہم نے اپنی طویل پارلیمانی رپورٹنگ کے دوران ہمیشہ محسوس کیا کہ ہر روز ابتدائی ایک گھنٹے کی کارروائی بڑی اہم ہوتی ہے، اسے وقفہ سوالات کہا جاتا ہے اور یہ وقت اراکین کی طرف سے پوچھے جانے والے تحریری سوالات کے جواب دینے کا ہوتا ہے، اور اراکین اسمبلی اس کے لئے سوالات جمع کراتے اور پھر ایوان میں جواب آتا، اس پر ضمنی سوالات بھی ہوتے اور اکثر بحث بھی ہو جاتی کہ اراکین نہ صرف اپنے اپنے حلقہ میں درپیش مسائل کا ذکرکرتے،بلکہ قومی امور کے حوالے سے بھی سوالات  ہوتے ہیں،ہمارے لئے یہ وقفہ خبروں کے حوالے سے اہم ہوتا تھا اور ہم نے تو یہ سرنگ کھود رکھی تھی کہ صبح کے وقفہ سوالات والے تحریری جواب ایک دو روز پہلے مل جاتے اور پھر مزید تھوڑی تحقیق کے بعد بڑی خبر بن جاتی تھی، تاہم حالیہ اسمبلیوں کے وقفہ سوالات کے حوالے سے ہم خبر کی تلاش کرتے اور ناکام رہتے ہیں۔

بات شروع کی تھی حکومتی دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے تو ہم وفاقی وزیر اسد عمر کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتے،جنہوں نے تسلیم کیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اور خود تحریک انصاف والوں نے پریس(میڈیا) سے تعلقات اچھے نہیں رکھے(بلکہ خراب تر کئے) اس لئے حکومتی کارکردگی نمایاں نہ ہو سکی، تاہم وہ یہ تسلیم کرنے کے باوجود یہ یقین نہ دِلا سکے کہ اب حکومت اور میڈیا کے تعلقات کی نوعیت کیا ہو گی،(شاید یہ ان کے د ائرہ اختیار کی بات نہیں) بہرحال یہ تسلیم کرنا ہی حقیقت کی  نشاندہی ہے، تازہ ترین عمل یہ ہے کہ پیمرا کی طرف سے ملک کے دو ٹیلی ویژن اداروں کو نوٹس جاری کئے  گئے ہیں، ان کی طرف سے وزیر خارجہ اور پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعظم کے حوالے سے خبر نشر کی گئی (اس کے بعد تردید بھی نشر ہوئی) اس سے محترم اسد عمر کی بات کو تقویت ملتی ہے، کہ میڈیا کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے؟حالانکہ یہ ضرب المثل مشہور ہے کہ ”بیل گھاس نہیں کھائے گا تو کیا بھوکا مرے گا“ یہ درست کہ میڈیا کو ذمہ دار ہونا چاہئے،لیکن اگر میڈیا خبر نہیں دے گا تو پھر ”خبر نامہ“ کا فائدہ کیا۔ آخر کچھ تو ہوتا ہے جس کی پردہ داری کی جاتی ہے اور اکثر ایسی خبریں بعد میں ثابت بھی ہو جاتی ہیں۔ اب اگر بات کریں کہ خود محترم مخدوم شاہ محمود قریشی نے او آئی سی کے حوالے سے برادر ملک سعودی عرب پر تنقید کی تو اس خبر میں غلطی کہاں تھی۔ یہ تو انہوں نے خود ”آن دی ریکارڈ“ بات کی اور پھر تنقید کا جہاں تک تعلق ہے تو یہ خود وفاقی کابینہ ہی کی رکن کی طرف سے  بھی ”آن ریکارڈ“ ہی کی گئی، اس پر بھی پیمرا کو نوٹس لینا چاہئے۔بہرحال ہم تو جناب اسد عمر کی تعریف کرتے ہوئے اس بات کو یہیں ختم کرتے ہیں۔

بات شروع کی تھی حکومت کی دوسالہ کارکردگی سے اور یہ بھی عرض کیا تھا کہ یہ برسر اقتدار حضرات کا حق ہے اور درست ہے، حکومتی وزرا اور مشیروں کی طرف سے معیشت کے استحکام، قومی سلامتی اور ترقی کے دعوے کئے گئے،ان کے ان دعوؤں پر ہم  تنقید نہیں کرتے اور نہ ہی ہم محترم مخدوم شاہ محمود  قریشی کی طرف سے تنازعہ کشمیر والی کارکردگی کے ذکر پر اعتراض کرتے ہیں۔یہ فریضہ خود اپوزیشن اور متعلقہ کشمیری تنظیمیں ادا کریں گی، ان کو  تو سعودی عرب سے تعلقات کے حوالے سے تفصیلی وضاحت اور بات کرنا چاہئے تھی کہ ”ہاتھوں سے دی گئی گانٹھ اب دانتوں سے کھولنا پڑ رہی ہے“۔

ہم تو آج کی اس تحریر کے ذریعے یہ گذارش کرنا چاہتے ہیں کہ آپ نے دو سال میں یہ کر لیا اور بزعم خود ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔معیشت مستحکم کر لی، ہمارا سوال تو یہ ہے کہ اس سے ہم عوام کو کیا فائدہ پہنچا، آج ہی کے اخبار میں خود حکومتی محکمہ شماریات نے دو سال میں اشیائے ضرورت اور خور دو نوش کے نرخوں میں اضافے کی بات کی ہے۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار بھی زمینی حقائق کے مطابق نہیں،اس کے باوجود چینی40روپے، آٹا 12 روپے دالیں 115 روپے اور گوشت184 روپے فی کلو تک مہنگا ہوا، جبکہ آلو کی قیمت دو سو فیصد بڑھی۔ یوں عوامی ریلیف کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ حقیقت میں مہنگائی اس سے کہیں زیادہ بڑھی کہ کوئی سبزی (ماسوا آلو) سو روپے فی کلو سے کم نہیں ملتی اور روٹی تک دو گنا مہنگی ہو گئی ہے۔پٹرولیم، بجلی اور گیس کے نرخ اب ایک نیم متوسط طبقے کی پہنچ سے بھی باہر ہو چکے ہیں۔آپ سلامت رہیں، ہمیں دُکھ نہیں، لیکن اللہ کا نام لیں اور ہم ”فکس انکم گروپ“ کا بھی تو دھیان کریں،جو اب غربت کی لکیر کی طرف رواں دواں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -