عثمان بزدار کے لئے کپتان کی پھر کلین چٹ

عثمان بزدار کے لئے کپتان کی پھر کلین چٹ
عثمان بزدار کے لئے کپتان کی پھر کلین چٹ

  

عثمان بزدار کے مخالفین کو یقیناً اس بات پر غصہ آتا ہوگا کہ کپتان ہر بات پر یوٹرن لے چکے ہیں مگر اپنے وسیم اکرم پلس کے بارے میں یوٹرن لینے کو کسی صورت تیار نہیں، ان کا پہلے دن کی طرح آج دو سال بعد بھی یہی مؤقف ہے کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار پنجاب کے بہترین وزیر اعلیٰ ہیں ایک نجی چینل کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں عمران خان نے جہاں اپنی دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے مختلف سوالوں کے جواب دیئے ہیں،اس سوال کا بھی کھل کر جواب دیا کہ عثمان بزدار کی وجہ سے کیا تحریک انصاف کی ساکھ خراب نہیں ہوئی؟ انہوں نے اس سوال کو    اس طرح رد کر دیا جیسے کوئی محبوب اپنے عاشق کے بارے میں پوچھے گئے منفی سوال  کو رد کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں میں پنجاب آگے جا رہا ہے اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار بڑی محنت کر رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں کرپشن بڑھنے کے الزام کو بھی رد کر دیا اور بتایا کہ انہوں نے تمام انٹیلی جنس ذرائع سے معلوم کیا ہے عثمان بزدار پر کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا حتیٰ کہ لاہور رنگ روڈ منصوبے میں کرپشن کا الزام بھی بے بنیاد ہے، انہوں نے نیب کی طرف سے شراب کا لائسنس دینے پر عثمان بزدار کی طلبی کو بھی غلط قرار دیا، کیونکہ یہ اختیار ان کا ہے ہی نہیں کہ شراب کا لائسنس جاری کریں، ساتھ وزیر اعظم عمران خان نے یہ بھی کہہ دیا کہ کسی نے اگر کرپشن کی تو سب سے پہلے میں اس کا محاسبہ کروں گا۔

ابھی چند ہی روز پہلے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اسی وقت تک وزیر اعلیٰ رہوں گا جب تک مجھے اپنے قائد عمران خان کا اعتماد حاصل ہے۔ اب وزیر اعظم کی باتوں سے واضح ہو گیا ہے کہ عثمان بزدار پر ان کا اعتماد بڑھا ہے کم نہیں ہوا۔ بلکہ اب وہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے وکیل بن چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ عثمان بزدار چونکہ میڈیا پر آ کر اپنے پر لگنے والے الزامات کا جواب نہیں دیتے، اس لئے ان پر جس کا جی چاہتا ہے کوئی الزام لگا دیتا ہے اس حوالے سے اگر عثمان بزدار کو دیکھا جائے تو ان پر رشک آتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان ان کی پشت ہی نہیں تھپتھپاتے بلکہ ان کی ڈھال بھی بن جاتے ہیں پنجاب جیسے بڑے صوبے پر عثمان بزدار کو بٹھا کے وزیر اعظم عمران خان نے جو رسک لیا تھا، ان کی باتوں سے لگتا ہے کہ اس کا انہیں کوئی پچھتاوا نہیں بلکہ وہ اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ بڑا صوبہ احسن طریقے سے چلایا جا رہا ہے۔ مجھے پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات راجہ جہانگیر روزانہ پنجاب حکومت کی اپ ڈیٹس بھیجتے ہیں انہیں دیکھ کر تو واقعی لگتا ہے کہ پنجاب میں بہت کام ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے یہ سب باتیں وزیر اعظم عمران خان کے بھی علم میں ہوں گی۔ مثلاً کل مجھے راجہ جہانگیر نے جو اپ ڈیٹس بھجوائیں ان کے چیدہ چیدہ نکات یہ تھے کہ صوبے میں 12 سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتالوں کے منصوبے پر کام جاری ہے، ڈی جی خان میں کارڈیالوجی ہسپتال اور تقریباً ستر سال بعد ملتان میں نشتر ٹو ہسپتال کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔ لاہور کے گنگا رام ہسپتال میں چار ارب روپے کی لاگت سے مدر افئیرز  چائلڈ ہسپتال تعمیر کیا جا رہا ہے، جس میں تین ارب روپے کی لاگت سے جدید مشینری نصب کی جائے گی۔ اسی طرح ہسپتال میں میڈیکل ٹاور، چکوال میں 5 سو بستروں کا ہسپتال، رحیم یار خان میں نئے ہسپتال کا قیام، راولپنڈی کے انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ میں نئے وارڈز کی تعمیر، راجن پور، مظفر گڑھ اور دیگر پسماندہ شہروں میں دو سو بستروں پر مشتمل ہسپتالوں کا قیام جیسے منصوبے جاری ہیں، جن سے پنجاب میں صحت کا شعبہ اعلیٰ سہولتوں کا حامل ہو جائے گا۔

اسی اپ ڈیٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے پنجاب میں ستر برسوں کے دوران صرف تین اکنامک زونز بنائے گئے، جبکہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے 13 نئے اسپیشل اکنامک زونز پر کام کا آغاز کر دیا ہے جن سے صنعتی شعبہ ترقی کرے گا اور روز گار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ شیخوپورہ اور فیصل آباد میں دو بڑے اکنامک زون بنائے گئے ہیں، صرف فیصل آباد کا اکنامک زون 3217 ایکڑز پر محیط ہے، جو چار سو ارب روپے کی سرمایہ کاری کا ذریعہ بنے گا یہ اکنامک زون تین لاکھ ڈائریکٹ اور دس لاکھ بلواسطہ ملازمین پیدا کرے گا۔ ایک بڑا اکنامک زون بہاولپور میں بھی قائم کیا جا رہا ہے، جس سے جنوبی پنجاب میں بھی صنعتی ترقی کے دروازے کھلیں گے۔ شاید یہی وہ اقدامات ہیں، جو کپتان کی نظر میں ہیں اور جن کی وجہ سے وہ عثمان بزدار کو کھل کر سپورٹ کرتے ہیں وگرنہ تو عثمان بزدار کی جتنی مخالفت پارٹی کے اندر سے اور اپوزیشن نے کی ہے، کوئی بھی حمایتی پیچھے ہٹ سکتا ہے مگر وزیر اعظم عمران خان اپنے وسیم اکرم پلس کے ساتھ جم کر کھڑے ہیں، سو اس حوالے سے تو اب سب کو یقین آ جانا چاہئے کہ عمران خان کا وہ کہا درست ہے کہ جب تک ملک میں تحریک انصاف کی حکومت ہے، عثمان بزدار پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہیں گے۔ شاید اسی لئے جب نیب نے عثمان بزدار کو شراب لائسنس کیس میں طلب کیا تو ان کے مخالفین کی امیدیں پھر جاگ اٹھیں، پھر یہ خبریں بھی آئیں کہ نیب نے عثمان بزدار سے ان کے اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں، ان سے اپنے عزیز و اقارب کی جائیدادوں کے بارے میں بھی پوچھا گیا ہے۔

کسی کے بارے میں کوئی دو ٹوک صفائی تو نہیں دی جا سکتی لیکن عثمان بزدار کی خوش قسمتی دیکھئے کہ کپتان ان کی دو ٹوک صفائی دے گئے اور کہا کہ انہوں نے انٹیلی جنس اداروں سے معلومات اکٹھی کروائیں، جن میں عثمان بزدار کرپشن کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ نیب سے تو وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو ابھی کلین چٹ نہیں ملی تاہم وزیر اعظم عمران خان نے انہیں کلین چٹ ضرور دے دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جس نیب کی کارکردگی کو تحریک انصاف نے اپنی دو سالہ حکومتی کارکردگی کا حصہ بنایا ہے، وہ اس بارے میں وزیر اعظم عمران خان کے کہے کی لاج رکھتی ہے یا کچھ ایسے شواہد ڈھونڈ نکالتی ہے جو عثمان بزدار کے لئے مشکلات کا باعث بن سکتے ہوں۔ فی الوقت تو عثمان بزدار بھی اپنے کپتان کی طرح پنجاب کی کریز پر ڈٹ کر کھڑے ہیں تاہم حکومت اور کرکٹ میں آنے والی بال کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا کہ کب وکٹ اڑا دے۔

مزید :

رائے -کالم -