غیر تسلی بخش جواب، لاہور ہائیکورٹ نے آئی پنجاب کی اہلیت کا معاملہ کابینہ کو بھجوا نے کا حکم دیدیا 

غیر تسلی بخش جواب، لاہور ہائیکورٹ نے آئی پنجاب کی اہلیت کا معاملہ کابینہ کو ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے پولیس نظام کی خامیوں کے سدباب کے لئے عدالتی سوالات کے اطمینان بخش جواب نہ دینے پر آئی جی پنجاب پولیس شعیب دستگیرکی اہلیت سے متعلق معاملہ کابینہ کو بھجوانے کا حکم دیدیا، فاضل جج نے آئی جی پنجاب سے متعلق عدالتی فیصلہ تمام محکموں کو بھجوانے کی ہدایت بھی کی ہے۔منشیات کے ملزم فیاض عرف بھولی کی ضمانت کے کیس میں عدالت نے آئی جی پنجاب کو طلب کیا تھا،عدالت کے بار بار اصرار پر آئی جی پنجاب کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے جس پر فاضل جج نے ان کی اہلیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے معاملہ کابینہ کو بھجوادیا،فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ آئی جی کو سی آر پی سی (ضابطہ فوجداری)پڑھائیں کہ انہیں پتہ چلے کہ تفتیش کا طریقہ کار کیاہے۔فاضل جج نے آئی جی سے کہا کہ ناقص تفتیش کے باعث ملزم ضمانتیں کرالیتے ہیں،اکثر ملزمان کا سابقہ ریکارڈ پیش نہیں کیا جاتا، آئی جی صاحب! تفتیشی نظام چیک کرنے کیلئے آپ نے کیا کیا؟۔آئی جی نے کہاکہ میں نے آرپی اوزاوردیگرافسروں کومراسلہ جاری کیا۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مراسلہ نہ بھی لکھیں تو یہ پولیس رولز میں بات درج ہے،آپ سے پوچھا ہے کہ آپ نے نظام چیک کرنے کیلئے کیاکیا؟جو ذمہ داری پوری نہیں کر رہے ان کے خلاف کیا کارروائی کی۔آئی جی نے کہا جتناممکن ہے سسٹم کی بہتری کیلئے اقدامات کر رہے ہیں،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آئی جی کایہ بیان نوٹ کر لیا جائے،کیاجوقانون میں لکھا ہے اس پر عمل درآمد ممکن نہیں؟ناقص تفتیش سے متعلق بارباراستفسار کیاگیا۔فاضل جج نے آئی جی پنجاب کے جواب کوغیر تسلی بخش قراردیتے ہوئے کہا کہ سوری! آپ تسلی بخش جواب نہیں دے رہے،عدالت نے کہا آئی جی صاحب کو سی آر پی سی پڑھائیں۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم 2 مقدمات میں بری ہوچکاہے جبکہ اس کے خلاف 12 مقدمات زیر سماعت ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے آئی جی کو کسی ایک انفرادی مقدمے کے لئے نہیں بلایابلکہ پولیس میں تفتیش کے نظام کے حوالے سے انہیں طلب کیاگیا۔لاء افسرصاحب آپ نے آئی جی کوبتایا نہیں کہ انہیں کیوں بلایا گیاہے؟۔لاء افسر نے کہا جی بتایا ہے، ملزم کا سابقہ ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا،اس ملزم کے خلاف تو 14 مقدمات ہیں، جس پر فاضل جج نے آئی جی کا معاملہ کابینہ کو بھجوانے کی ہدایت کردی۔

اہلیت معاملہ 

مزید :

صفحہ آخر -