سینیٹ، محدود شراکت و ذمہ داری، کمپنیز ایکٹ ترمیمی بلز 2020ء منظور، جمیعت علماء اسلام (ف) جماعت اسلامی کی مخالفت

      سینیٹ، محدود شراکت و ذمہ داری، کمپنیز ایکٹ ترمیمی بلز 2020ء منظور، جمیعت ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سینیٹ نے محدود شراکت داری، محدود ذمہ داری ترمیمی بل 2020اور کمپنیز ایکٹ ترمیمی بل 2020کی کثرت رائے سے منظوری دیدی۔ بلوں کی منظوری پر اپوزیشن ایک بار پھر تقسیم ہو گئی۔ جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلوں کی مخالفت کی۔قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا ہماری  حکو مت آنے سے پہلے پاکستان گرے لسٹ میں تھا۔ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی وجوہات منی لانڈرنگ اور دہشت گردی تھیں،ان دونوں وجوہات کا ذمہ دار کون ہے ایوان اس کا فیصلہ کرے۔ بدھ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا۔ وقفہ سوالات کو معطل کرنے کی تحریک کی منظوری کے بعد ایف اے ٹی ایف سے متعلق منظوری کے حوالے سے ضمنی ایجنڈا جاری کیا گیا۔ وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے سینیٹ میں محدود شراکت داری محدود ذمہ داری ترمیمی بل 2020اور کمپنیز ایکٹ ترمیمی بل 2020یکے بعد دیگرے منظوی کیلئے پیش کیے جبکہ دونوں بلوں میں سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی ترمیم شامل کرلی گئیں۔ جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی کی مخالفت کے باوجود سینیٹ نے کثرت رائے سے بلوں کی منظوری دیدی۔ جے یوآئی (ف) کے مولانا عطا الرحمن نے کہا ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلوں کی منظوری سے ہم عالمی قوتوں کے مزید غلام بن جائیں گے۔ معلوم نہیں ان بلز کے حوالے سے حکومت کی کیا مجبوری ہے۔ ہوش کے ناخن لیں اور قوم کو غلامی میں مزید دکھیلنا نجات کا راستہ نہیں۔سینیٹ میں قائد ایوان شہزاد وسیم نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا آپ خود دیکھ لیں کون سی جماعتوں کی قیادت منی لانڈرنگ کے حوا لے سے عدالتوں میں پیش ہورہی ہے۔ قائد ایوان کی تقریر کے دوران سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کی مداخلت پر دونوں میں تکرار بھی ہوئی۔سینیٹر مشاہداللہ خان نے حکومت کو 2سالہ کارکر دگی پر آڑے ہاتھوں لیا اورکہاتحریک انصاف کی حکومت نے عوام کا جینا دوبھر کردیا، بنیادی اشیائے ضروریہ اور تو مل نہیں رہیں،جو میسر ان کی قیمتیں تین گنا ہوچکی۔ ملک میں مہنگائی کا فیصلہ فوارہ چوک نہیں سینیٹ میں کرلیں۔ بعد میں سینیٹ کا اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

مزید :

صفحہ آخر -