تاریخی اسٹیم ٹرین سفاری کی منظوری منصوبے کے تحت 2روٹ تعمیر کئے جائیں گے، عابد مجید 

تاریخی اسٹیم ٹرین سفاری کی منظوری منصوبے کے تحت 2روٹ تعمیر کئے جائیں گے، ...

  

پشاور(سٹی رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے اسٹیم ٹرین سفاری منصوبہ دوبارہ شروع کرنے کی منظوری دیدی۔منصوبے کے تحت دو روٹ پر کام کیا جائے گا جسے ٹورازم اتھارٹی مکمل کریگی۔ سیکرٹری محکمہ سیاحت عابد مجید کے مطابق محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا صوبہ میں موجود ہیریٹیج ٹورازم کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھا رہا ہے۔ایک روٹ پشاور تا اٹک خورد جبکہ دوسرا روٹ پشاور تا تخت بھائی شامل ہے۔ منصوبے پر ریلوے حکام کو پہلے سے اعتماد میں لیا جا چکا ہے۔ پشاور سے اٹک خورد 184 کلومیٹر فاصلہ بنتا ہے جس میں دوران سفر ناصر پور،پبی، نوشہرہ، خوشحال کوٹ،اکوڑہ خٹک،جہانگیرہ، خیر آباد اور اٹک خورد کے تاریخی مقامات سے گزر ہوگا اس کے علاوہ اٹک خورد کے مقام پر سیاحوں کیلئے موسیقی،اونٹ سواری،والی بال،فٹبال، پتنگ بازی،رسہ کشی،آرچری، یوگا سمیت مختلف سرگرمیاں منعقد کی جائے گی،اس کے علاوہ پشاور سے تخت بھائی کھنڈرات تک کا سفر162 کلومیٹر پر محیط ہے جس میں تاریخی بدھ مت کی تہذیب، تاریخی مقامات کی سیر و تفریح سمیت روایتی چپل کباب سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کا صدیوں قدیم اسٹیم سفاری ٹرین کا سفر تاریخی ہے۔محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا اٹک خورد اور تخت بھائی کے کھنڈرات کے تاریخی مقامات کے ذریعے وہاں کے تاریخی ریلوے سٹیشن، پل، قلعہ اور دیگر مقامات کو سفاری ٹرین کے سفر کے ذریعے ایک نئی شکل دینے پر غور کر رہا ہے جس سے نہ صرف مذہبی سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی اور سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی نے اسٹیم سفاری ٹرین کی بحالی اور ایک مرتبہ پھر سیاحوں کیلئے چلانے کافیصلہ کیا ہے جس کیلئے مختلف تجاویز پیش کی گئی ہیں جن میں سیاحوں کیلئے آن لائن رجسٹریشن کی سہولت، ٹورگائیڈ،ٹور کے دوران مختلف صحت مند سرگرمیوں کا انعقاد، پروڈکشن سروس، کھانے پینے کی سہولت،ریلوے بگی کی تزہین و آرائش، سیکورٹی کی فراہمی سمیت ایونٹ کی تشہیر شامل ہے۔ان سب کے علاوہ پاکستان ریلوے جس کے باہمی اشتراک سے ایونٹ کا انعقاد کیا جائے گا اس کی جانب سے اسٹیم سفاری انجن کی ہر ٹور سے 15 روز قبل فراہمی یقینی بنانا، اس کی مرمت اور دیگر ضروریات کو مکمل کرنے سمیت اسٹیم انجن کی خرابی پر فوری طور پر ڈیزل انجن کی ایمرجنسی صورت میں فراہمی شامل ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -