اینٹی کرپشن سندھ میں قانونی اصلاحات کے لیے کمیٹی قائم 

اینٹی کرپشن سندھ میں قانونی اصلاحات کے لیے کمیٹی قائم 

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)چیئرمین اینٹی کرپشن سندھ علم الدین بلو کے احکامات پر محکمہ اینٹی کرپشن سندھ میں کیسز کی پیروی اور ملزمان کو عدالتوں سے سزا دلوانے اور دیگر معاملات کے حل کے لیے قانونی اصلاحات کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کمیٹی میں ایڈیشنل ڈائریکٹر لیگل، ڈائریکٹر اسٹیبلشمینٹ اور پراسیکیوٹر کے نمائندے بھی شامل ہونگے، کمیٹی ماہانہ رپورٹ چیئرمین کو پیش کرے گی۔ اصلاحات کے تحت کسی بھی انکوائری کو 90 روز میں مکمل کرنا لازمی ہوگا، جبکہ 90 دن سے زیادہ وقت درکار ہونے کی صورت میں انکوائری افسر کو اس کی اجازت لینا ہوگی۔ قانونی اصلاحات کے سلسلے میں اپنی ایک بیان میں چیئرمین اینٹی کرپشن علم الدین بلو  نے واضح کیا ہے کہ کورٹ مقدمات میں غیر ذمہ داری اور تسلی بخش کارکردگی نہ دکھانے والے افسران کے خلاف کاروائی کی جائے گی جبکہ ملزمان کو عدالتوں میں پیش کرنا، کیسز کی پیروی اور سزائیں دلوانے جیسے عمل میں قانونی پیچیدگیوں کو آسان بنانے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی کے ذریعے افسران کی یہ بھی رہنمائی کی جائے گی کہ وہ کس طرح کیسز کو عدالتوں میں پیش کریں جبکہ کمزور پیروی کی بنیاد پر ملزمان کو ضمانت ملنے کی صورت میں محکمہ متعلقہ انکوائری افسران کے خلاف کارروائی کرے گا۔ چیئرمین اینٹی کرپشن کے مطابق کسی بھی انکوائری افسر یا سرکل آفیسر پر عدالتی عدم اطمینان جیسے رماکس آنے کی صورت میں اس افسر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کامیٹی کے فیصلے کے مطابق محکمہ کی طرف سے اینٹی کرپشن مقدمات میں ملزمان کی ضمانت کے خلاف درخوستیں دائر کی جائیں گی۔ علم الدین بلو نے کہا ہے کہ کرپشن کیسز میں سزائیں دلوانے کے لیے پراسیکیوشن کے عمل کو مزید مثر بنانا ہوگا اور اس طرح کے قانونی اصلاحات کے بعد محکمہ کے تاثر کو تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔

مزید :

صفحہ آخر -