صوبے کے بڑے ہسپتال کو عمران خان کے کزن نوشیروان برکی نے تباہ کیا، ثمربلور 

صوبے کے بڑے ہسپتال کو عمران خان کے کزن نوشیروان برکی نے تباہ کیا، ثمربلور 

  

پشاور(سٹی رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی ترجمان ثمرہارون بلور نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں ناروا لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، عوام احتجاج پہ احتجاج کررہے ہیں لیکن حکومتی اراکین الطاف حسین طرز کے آڈیو پیغامات کے ذریعے حکومت چلارہے ہیں۔ پشار پریس کلب میں صوبائی انفارمیشن کمیٹی کے اراکین تیمورباز خان، صلاح الدین مومند اور حامد طوفان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی ترجمان ثمرہارون بلور نے کہا کہ حکومتی نمائندے منظرنامے سے غائب ہوچکے ہیں، یہ صوبہ 6000میگاواٹ بجلی پیدا کررہی ہے جبکہ ضرورت 3000سے 3500میگاواٹ تک ہے اور اپنی بجلی بھی خیبرپختونخوا کو نہیں دی جارہی۔ ڈیڑھ روپے پر بجلی پیدا کرنیوالے صوبے کو 18 سے 22روپے تک فی یونٹ بجلی فروخت کی جارہی ہے لیکن آج بھی صوبہ بھر میں 16سے 18گھنٹے تک لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پریس کانفرنس میں حکومت سے اس مسئلے کے حل کا مطالبہ کررہے ہیں تو کل عوام کے ساتھ سڑکوں پر بھی نکل سکتے ہیں۔صوبے کو بجلی کا خالص منافع نہیں دیا جارہا، حکومت اپنی جماعت سے بھی حق نہیں مانگ سکتی۔لوگ گرمی سے بلبلا اٹھے ہیں لیکن حکومتی اراکین ائرکنڈیشنڈ کمروں سے نہیں نکل رہے۔ رکن انفارمیشن کمیٹی اور صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری تیمورباز نے کہا کہ صوبے کے بڑے ہسپتال ایل آر ایچ کو عمران خان کے کزن نوشیروان برکی نے تباہ کردیا ہے۔”برکی سکینڈل“ کے ذریعے پی ٹی آئی صوبے میں ہیوی لوڈ کرپشن کرچکی ہے۔ایل آر ایچ آڈٹ رپورٹ میں سب کچھ واضح ہے، ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی۔موجودہ حکومت کورونا وبا میں بھی جیبیں گرم کررہی ہیں، عوام کا پیسہ لوٹا جارہا ہے۔ڈاکٹر برکی کی نااہلی، ناروا سلوک اور بے جا مداخلت سے سینئر ڈاکٹرز استعفے دے چکے ہیں۔ایل آر ایچ میں سینکڑوں ملازمین گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں وصول کررہی ہیں، یہ نااہلی نہیں تو کیا ہے؟۔غیرضروری اشیاء خرید کر لاکھوں کروڑوں کی کرپشن ہوچکی ہے، احتساب کے دعویدار کب جاگیں گے؟ حامد طوفان نے اس موقع پر کہا کہ کورونا اشتہارات میں کرپشن پر حکومت خاموش ہے، ہمارے بار بار مطالبے کے باوجود کوئی جواب نہیں آیا۔خاموشی نیم رضامندی ہوتی ہے، حکومتی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ کرپشن جاری ہے۔ڈائریکٹر آرکیالوجی پر کرپشن کے الزامات ہیں لیکن حکومتی سرپرستی میں اب بھی کرسی پر براجمان ہے۔تیموباز خان نے اس موقع پر مزید کہا کہ پاک افغان سرحد بند ہونے سے سینکڑوں گاڑیاں رک گئی، عوام کے آمد و رفت مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔24گھنٹے بارڈر کھولنے کے اعلانات کرنے والے وزیراعظم کہاں ہیں؟ تجارت بند اور گاڑیوں میں پڑا مال خراب ہوچکا ہے۔ کئی دن گزر گئے لیکن کسی حکومتی نمائندے کو توفیق نصیب نہیں ہوئی کہ وہ وہاں جا کر اس مسئلے کا حل تلاش کریں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -