شاہ کس اراضی،30 رکنی کمیٹی کو معاوضہ دینے کی بجائے غیر منتخب نمائندوں کو دیا جائے 

شاہ کس اراضی،30 رکنی کمیٹی کو معاوضہ دینے کی بجائے غیر منتخب نمائندوں کو دیا ...

  

پشاور(سٹی رپورٹر)ضلع خیبر شاہ کس قبیلہ کٹھیا خیل کے عمائدین نے آرمی چیف،ہاء کورٹ پشاور،کورکمانڈر اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایف سی کی جانب سے شاہ کس میں 40جربب اراضی کا معاوضہ 30رکنی کمیٹی کو معادضہ دینے کے بجائے غیر منتخب نمائندوں  کو دینے  کا نوٹس لیا جائے اور اس صورت حال کو کشیدہ ہونے سے بچایا جائے بصورت دیگر قلعہ بالا حصار کے سامنے احتجاج پر مجبور ہونگے،پشاور پریس کلب میں قبیلہ کٹھیا خیل کے عمائدین محمد خان،جاوید حسن نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ضلع خیبر شاہ کس کٹھیا خیل قبیلہ کی 40جریب زمین جسکی مالیت 12کروڑ روپے بنتی ہے  جبکہاراضی  کو 2017میں ایف سی نے 30رکنی کمیٹی کے تحت خریدی لیکن ادائیگی غیر منتخب شددہ چھ افرا کو ددی گئی جسکے خلاف ہم نے اعلیٰ حکام کو درخواستیں بھی دی کے رقوم واپس کیے جائے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ 30رکنی کمیٹی صوبائی حکومت کی جانب سے اراضی کے مسائل کیلئے بنائی گئی تھی جسمیں اعلامیہ بھی جاری ہوا تھا  لیکن اسکے باوجود 10اگست 2020کو ایک بار پھر شاہ کس میں 37جریب زمین 11کروڈ 10لاکھ روپے میں ایک تحریری معادے کے ذریعے 2غیر نمائندہ افراد سے سودا طے کیا جسمیں 55لاکھ پیشگی ادا کی گئی جبکہ باقی رقم چار دیواری تعمیر کرنے کے بعد ان دو افرادد کو ادا کی جائے گی جو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی بنائی گئی نمائندہ کمیٹی کی موجودگی میں غیر قانونی ہے اور اس سے مذکورہ اراجی پر تصادم بھی ہوا ہے جسمیں تین افراد جان بحق ہوئت تھے تاہم اسی وجہ سے علاقہ میں مزید تصادم کا خدشہ ہے قوم کٹھیا  خیل نے  وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا،آرمی چیف،کور کمانڈر ایف سی اور ائی جی خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کٹھیا خیل ضلیع شاہ کس میں اراضی تنازعہ کو نوٹس لیا جائے اور ہمیں انصاف سمیت علاقہ میں مزید خونریزی ہونے سے بچایا جائے بصورت دیگر قلعہ بالا حصار کے سامنے دھرنا دینگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -