خواتین حقوق کی سرگرم امریکی  خاتون کی سزاء مرنے کے 114سال بعد معاف

    خواتین حقوق کی سرگرم امریکی  خاتون کی سزاء مرنے کے 114سال بعد معاف

  

 واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) خواتین کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنیوالی سرگرم خاتون آنجہانی سوزن انتھونی کو غیر قانونی طور پر 1872ء کے صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی سزا صدر ٹرمپ نے معاف کردی۔ گزشتہ روز وائٹ ہاؤس سے جاری ہونیوالے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سوزن کی سزا مکمل طور پر معاف کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردیئے ہیں۔ یہ اعلان آئین میں خواتین کو ووٹ کا حق ملنے کے سوسال مکمل ہونے پر کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے حیرت کا اظہار کیا کہ قبل ازیں سوزن کی سزا کیوں معاف نہیں کی گئی۔ سوزن 1906ء میں وفات پا گئی تھیں۔ سوزن انتھونی امریکہ میں خواتین کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنیوالی صف اول کی رہنما تھیں اور 19ویں صدی میں اس سلسلے میں تحریکیں چلاتی رہی تھیں۔ اس وقت جب آئین میں خواتین کو ووٹ حق استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی وہ میدان میں آ ئیں اور 1872ء کے صدارتی انتخاب میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا اور گرفتار ہوگئیں۔ عدالت نے مقدمہ چلنے کے بعد انہیں سو ڈالر کی سزا سنائی جو اگرچہ اس نے کبھی ادا نہیں کئے۔ اس دور میں سوزن انتھونی کیساتھ ایک اور خاتون رہنما الزبتھ کیڈی بھی خواتین کے حقوق کیلئے جدوجہد میں سرگرم تھیں۔ انہوں نے بہت سی خواتین کی سزائیں معاف کرائیں لیکن خود اپنی سزا معاف کرانے کا کبھی نہیں سوچا۔ یاد رہے امریکی کانگریس نے 1920ء میں آئین میں ایک ترمیم کی جو سوزن انتھونی ترمیم کہلائی،جس کے تحت امریکہ کے ہر شہری کو خواتین سمیت بلا امتیاز ووٹ ڈا لنے کا حق دید یا گیا۔

سزاء معاف

مزید :

صفحہ اول -