تیسرا سال حکومت کیلئے پل صراط، عمران کے ہر طرف فوج کھڑ ی ہے: شیخ رشید 

  تیسرا سال حکومت کیلئے پل صراط، عمران کے ہر طرف فوج کھڑ ی ہے: شیخ رشید 

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ تیسرا سال حکومت کیلئے امتحان کا سال ہوگا، اگر پچھلے سالوں کی طرح تیسرا سال بھی ایسے گزرگیا تو پھر بہت بڑے مسائل پیدا ہوجائیں گے، خارجہ پالیسی بھی ٹھیک چل رہی ہے کچھ گڑ بڑ شاہ محمود کے بیان سے ہوئی مگر متعلقہ لوگوں نے معاملات ٹھیک کر دئیے، عمران خان مافیاز کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہے، کبھی کسی کو این آر او نہیں دے گا، بزدار کے پاس کوئی بڑا تعویز ہے وہ کہیں نہیں جا رہا، عمران خان اس کے ساتھ کھڑے ہیں، پاک فوج اور سویلین حکومت یک جان دو قالب ہیں، فوج سے جلنے والوں کو ہم جلائیں گے۔ ایک انٹرویو میں شیخ رشید نے کہا کہ عمران خان حکومت میں آئے تو معیشت تباہ تھی اس لئے دو سالوں میں حکومت تمام وعدے پورے نہیں کر سکی تاہم تیسرا سال حکومت کے لئے امتحان کا سال ہے اگر ہمارا موجودہ سال بھی پچھلے سال جیسا رہا تو پھر حکومت کے لئے مسائل پیدا ہونگے جبکہ تیسرا سال حکومت کے لئے پل صراط ہوگا۔پاک سعودی عرب تعلقات اب بھی ویسے ہیں جو وزیرخارجہ کے بیانات سے پہل چل رہے تھے۔ حکومت اور ادارے اگر ایک ساتھ نہ چلیں تو بڑے مسائل پیدا ہوتے ہیں،اس وقت جنرل باجوہ سمیت تمام فوجی قیادت عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔ سامنے، دائیں بائیں اور آگے پیچھے سب جگہوں پر افواج پاکستان عمران خان کے ساتھ ایک پیج پر کھڑے ہیں۔ نواز شریف کو مریم نواز نے خراب کیا۔ عمران خان کے ساتھ کوئی مریم نہیں کھڑی جو حالات فوج کیساتھ خراب کرے کیونکہ یہاں فیصلہ عمران خان نے کرنا ہوتا ہے کوئی وزیر، مشیر بھی اتنا طاقتور نہیں ہے جو عمران خان اور فوج کے تعلقات پر اثر انداز ہوسکے۔ شیخ رشید نے کہا کہ مریم نواز کے سیاست کے میدان میں اترنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نیب زدہ سب لوگ میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ ایک آدمی کانام لیں جو نیب زدہ نہ ہو اور وہ حکومت کے خلاف میدان میں اترا ہوا ہو۔ مریم نواز نے شہباز شریف کا کام بھی خراب کیا۔ مریم نواز شہباز شریف کے ساتھ نہ کھیلوں گی نہ کھیلنے دوں گی والا کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن تک ہو سکتا ہے کئی اور لوگ بھی نااہل ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف،نواز شریف کو بچا کر سعودی عرب والے لے گئے تھے اب بھی وہی نواز شریف کو بچا کر لندن لے گئے ہیں۔ 2018کے الیکشن سے پہلے نواز شریف شہباز کو وزیراعظم بنانا چاہتے تھے جس پر شہباز شریف نے کہا کہ پنجاب میں مجھے حمزہ شہباز وزیراعلیٰ چاہیے جہاں پر مریم نواز کی وجہ سے حالات خراب ہوگئے اور پارٹی میں دو دھڑے بن گئے تاہم شہباز شریف کے بغیر نواز شریف کا گزارہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے کیسز آصف زرداری سے زیادہ سخت دکھائی دیتے ہیں جہاں تک مریم کا سوال ہے وہ پہلے بھی نااہل ہوچکی ہیں اور زمین والے کیس میں پھر نااہل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک پر نااہل، بے ایمان اور لٹیروں نے ہی حکمرانی کرنی ہے تو اس ملک پر فاتحہ پڑھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف ایک انڈرسٹینڈنگ کے ساتھ ملک سے باہر گیا ہے جس کی عمران خان کو آج تک سمجھ نہیں آئی۔ مافیا سے ٹکر لینا آسان نہیں ہے ابھی چینی چوروں اور آٹا چوروں نے اتحاد کر رکھا ہے وہ عمران خان حکومت کو گرانا چاہتا ہے مگر عمران خان حکومت چھوڑ دے گا مگر مافیا کے سامنے سرینڈر نہیں کر ے گا اور نہ ہی مافیاز کو این آر او دے گا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے پھر ہاتھ ہو گیا ہے کوئی بھی سیاستدان مولوی کے جلسے یا دھرنے پر خطاب نہیں کر سکتا بلکہ ہمیشہ مولویوں نے سیاستدانوں کے دھرنوں میں خطاب کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے پچھلے دھرنے میں کسی نے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا کہ حکومت کو چلتا کرینگے، جہانگیر ترین کے ساتھ جو ہوا ہے وہ تقریبا رل گیا ہے۔ کورونا کے علاج کیلئے میرے پاس پیسے تو تھے مگر علاج کیلئے مجھے یہاں سے ٹیکہ نہیں ملا اور فوج نے مجھے ٹیکہ لے کر دیا۔ 

شیخ رشید

مزید :

صفحہ اول -