اللہ تعالیٰ نے خواتین ججز کو تحمل مزاجی، بردباری کی صفت بخوبی دے رکھی ہے: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ 

  اللہ تعالیٰ نے خواتین ججز کو تحمل مزاجی، بردباری کی صفت بخوبی دے رکھی ہے: ...

  

 لاہور(نامہ نگار خصوصی)انصاف کی فراہمی میں خواتین ججز کے کردار کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی محمد قاسم خان نے کہاکہ جج کی خوبی ہوتی ہے وہ تحمل مزاج، بردبار ہوتا ہے. یہ خوبیاں خواتین ججز میں اللہ نے بخوبی رکھی ہیں. انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں مشکل چیزوں کو اپنانا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے. ایک مردانہ معاشرے میں آگے بڑھنے اور حق حاصل کرنے کے لئے خواتین کو بہت جدوجہد کرنی پڑتی ہے. مختلف مظالم کا شکار خواتین جب عدالت میں آتی ہے تو سامنے خاتون جج کو دیکھ کر اطمینان محسوس کرتی ہیں۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ خاتون جج کو عدالتوں میں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے. بلاشبہ اب معاملات بہت تبدیل ہورہے ہیں، عدالتو ں میں خواتین سٹاف کی بھرتی سے خواتین ججز کو سہولت ہورہی ہے. خواتین ججز کو احساس ہونا چاہیے کہ وہ میرٹ پر یہاں آئی ہیں۔ مرد امیدواروں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے بعد اس پوزیشن پر پہنچی ہیں۔خواتین جج اس معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کو انصاف فراہم کرکے دعائیں لے رہی ہیں۔ خواتین ججز کو دوہری ذمہ داری پوری کرنا ہوتی ہے کیونکہ انہیں اپنی عملی زندگی کے ساتھ ساتھ گھریلو زندگی کو بھی چلانا ایک مشکل کام ہوتا ہے۔خواتین ججز نوجوان خواتین وکلاء کے لئے مثال بنیں۔ خواتین وکلاء کو جوڈیشل سروسز جوائن کرنے کی ترغیب دیں. یاد رکھیں میل ججز اور فی میل ججز کے درمیان تناسب کی شرح کو کم کرنا وقت کا تقاضا ہے۔

چیف جسٹس

مزید :

صفحہ اول -