یوٹرن کرپٹ حکمران نے عوام کا استحصال کیا ہے: مرتضی وہاب 

یوٹرن کرپٹ حکمران نے عوام کا استحصال کیا ہے: مرتضی وہاب 

  

 کراچی(اسٹاف رپورٹر)ترجمان سندھ حکومت اور مشیر قانون و ماحولیات بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے جو  تباہی برپا کی ہے اس حوالے سے عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ وعدہ خلافی اور یوٹرن سے مالامال کرپٹ حکمرانوں نے  عوام کا استحصال کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو سندھ اسمبلی آڈیٹوریم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے آس پاس بیٹھنے والی مافیاز  کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ وزیر اعظم نے چیخیں نکالنے کا وعدہ پورا کردیا ہے۔ ابھی دو سال مکمل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کے سامنے اگست 2018 اور اگست 2020 کی قیمتوں کا موازنہ کرنا چاہتا ہوں۔ پہلے پاکستان کی آٹے کی قیمت 778 روپے تھے اب آٹے کا تھیلا 1028 روپے کا ہوگیا ہے۔ 29 فیصد فرشتوں کی حکومت میں اضافہ ہوا ہے۔ پہلے 55 روپے تھی اور اب چینی کی قیمت میں 78 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 70 فیصد مرغی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 35 فیصد اضافہ کھانا پکانے کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ دال 237 روپے کلو اضافہ ہوا  ہے۔ انہوں نے کہا کہ گردشی قرضوں میں  ایک اعشاریہ دو کھرب روپے کا اضافہ کیا ہے۔ عمران خان نے کہا تھا کہ میں خودکشی کر لوں گا مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاں گا۔ 24 اعشاریہ کھرب سے  بڑھ کر 34 کھرب کا اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دوسال میں مافیا کو فادہ اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ 2018 اگست سے آج دو سال میں مہنگای میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ 778 کا آٹا آج 1010 روپے29 فیصد اضافہ ہوا۔ اگست 2018 میں چینی 55 روپے اور آج 102 روپے78 فیصد اضافہ ہے۔ مرغی 114 اور آج 194  روپے 90 فیصد مہنگی  ہوگئی ہے۔ 941 روپے کا پانچ کلو کا پیکٹ 1269 روپے اور دال 112 روپے کلو سے 247 روپے کلو مہنگی ہے اس میں  112 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ یہ نااہل حکمران چاہتے ہیں کہ عوام بس سانس لے سکے ان کی غلط پالیسیوں نے  عوام کا تیل نکال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکمران کہتے تھے ہم آیں گیسرکلر ڈیٹ ختم کریں گے تب 1.04 کھرب آج 2.2 کھرب 400 ارب اب 1.2 کھرب سرکلر ڈیٹ ہوچکا ہے۔ پہلے قرض نہ لینے کی باتیں کی گئیں اور خودکشی کرنے کی بات کی گئی تھی۔ تب قرض 24.2 کھرب قرض 34.4 کھرب قرض پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دو سال میں کوی میگا منصوبہ شروع اور مکمل نہیں کیا گیا۔  162 ارب روپے کراچی پر خرچ کرنے کا اعلان کیا گیا مگر اتنا قرض لیا کراچی پر ایک روپیا خرچ نہیں کیا گیا۔ آج 5.58 فیصد جی ڈی پی ملک کی نیگیٹو میں ہے اور 1652 ڈالر اوسط سالانہ آمدنی تھی سالانہ 1355 پر آگئی ہے۔  58 فیصد لوگوں کی انکم میں کمی آی ہے۔ فسکل ڈیفیسٹ 6.6 تھا جو اب بڑھ گیا ہے۔  براہ راست 2.7 بلین فارن انویسٹمنٹ تھی آج گر کر 2.5 بلین ڈالر آچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسال میں تاجر سے لے کر غریب آدمی کا برا حال ہوا ان دو سالوں میں صرف مافیاز مالا مال ہیں۔وزیر اعظم نے صحیح کہا تھا کہ چیخیں نکالیں گے، تو چیخیں نکال دی ہیں۔  وزیر اعظم نے کوئی ایک وعدہ وفا نہیں کیا۔ جی ڈی پی گروتھ منفی ہوگئی ہے۔ نوکریاں دینے کے وعدے کئے گئے مگر ان کے دور میں لوگ بے روزگار ہوگئے اب جو نوکریوں کیلئے اشتہار آئے اس میں کراچی کیلئے کچھ نہیں ہے۔

مزید :

صفحہ اول -