بھارتی مسلمانوں کو جبری ہندو بنانے کی مہم

بھارتی مسلمانوں کو جبری ہندو بنانے کی مہم
 بھارتی مسلمانوں کو جبری ہندو بنانے کی مہم

  

جب سے نریندر مودی کی بھارت میں حکومت آئی ہے۔ بھارت میں ایک سیاسی تنظیم گورکشا پیٹھا دھیشور اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر یوگی آدتیہ ناتھ نے مسلمانوں کے جبری تبدیلی مذہب کو ''گھر واپسی'' قرار دے دیا ہے۔گھر واپسی تحریک کے تحت بھارتی مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے کی تحریک شروع ہوئی ہے۔ بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کی سب سے بڑی تنظیم جس کے رکن موجودہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی ہیں،کے سربراہ موہن بھگوت نے مسلمانوں کی جبری تبدیلی مذہب کے معاملے کی حمایت کرتے ہوئے کھل کر کہا ہے کہ جو بھی شخص ہندو دھرم سے بھٹک کر دوسرے دھرم (اسلام) میں چلا گیا ہے وہ اسے گھیر لائیں گے۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں بھارت میں ایک مسلمان کو انتہا پسند ہندوؤں نے بجلی کے کھمبے سے باندھ رکھا ہے۔ اسے جے شری رام، بولنے کیلئے کہہ رہے ہیں اور اس کا مذہب بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کو پکڑ کر ان سے جے شری رام بلوانے یا ان کا مذہب بدلوانے کی یہ واحد ویڈیو نہیں۔ اس سے قبل اور بعد بھی ایسے واقعات پیش آچکے ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر میں بھارت کے معروف شہر آگرہ میں گھر واپسی کے پروگرام میں اسلام سے ہندو مذہب اپنانے والے 17 افراد پر مشتمل خاندان نے جمعے کو ایک بار پھر مذہب اسلام قبول کیا تھا۔ دوبارہ مذہب اسلام میں داخل ہونے والے تمام افراد کا تعلق نٹ برادری سے تھا جنھیں خانہ بدوش یا پھر بنجارہ برادری کے طور پر بھی بعض مقامات پر جانا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے ہندو سخت گیر تنظیموں کی مہم گھر واپسی کے تحت مذہب تبدیل کیا تھا۔اسلام اپنانے کے ساتھ ہی انہیں دوبارہ نکاح بھی کرنا پڑا۔ ایک ہندو رہنما نے انھیں تبدیلی مذہب پر زمین دلانے کی بات کہی تھی۔ وہ گاؤں میں عوامی زمین پر جھونپڑی میں رہتے ہیں، لیکن ان کو زمین نہیں ملی۔ تبدیلی مذہب کے بعد سے مسلم نٹ برادری نے انھیں شادیوں اور دیگر تقریبات میں شامل کرنا بند کر دیا تھا۔

بھارت میں سنگ پریوار کی ذیلی تنظیموں آر ایس ایس اور شیو سینا کی مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کو ہندو بنانے کی مہم جاری ہے۔ آرایس ایس نے ریاست جھاڑکھنڈ میں گھر واپسی مہم کے تحت پانچ قصبوں کے تریپن عیسائی خاندانوں کو ہندو بنادیا۔ آر ایس ایس کے مقامی رہنما کا کہنا تھا کہ جھاڑکھنڈ سے عیسائیوں کا صفایا کردیا ہے گھر واپسی مہم پورا مہینہ چلے گی۔ ریاست اترپردیش میں بھی شیوسینا نے مسلمانوں کو ہندو بنا دیا ہے۔ مذہب کی تبدیلی سے انکار پر شیو سینا کے غنڈے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر تشدد کرتے ہیں اور ان کی املاک جلادیتے ہیں۔ مودی حکومت نے سنگ پریوار کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے۔ بھارتی حکومت اقلیتوں کے ساتھ ظلم کررہی ہے۔ کئی مسلم خاندانوں کی طرف سے بی جے پی کی رہنما اور سابق میئر شکنتلا دیوی پر مسلمان لڑکیوں کو جھانسا دیکر مذہب تبدیل اور ہندو لڑکوں سے شادی کرانے کے الزامات تواتر کے ساتھ عائد کئے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں علی گڑھ سے لاپتہ ہونے والی ایک مسلمان لڑکی ہندو لڑکے کے ساتھ منظر عام پر آئی اوراپنی مرضی سے شادی کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔ تاہم مذکورہ لڑکی کے بہنوئی کے مطابق ان کی سالی 7 اگست کو لاپتہ ہوئی تھی اور گھر سے زیور بھی غائب تھا۔ مسلمان لڑکی کی بہن نے شکنتلا دیوی پر بہن کے اغوا کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ میری بہن میڈیا کے سامنے جس کار پر بیٹھ کر آئی تھی وہ شکنتلا کی کار ہے۔ اور یہ پہلی بار نہیں ہوا اس سے قبل بھی شکنتلا دیوی مسلمان لڑکیوں کے مذہب تبدیل کرانے اور شادی کرانے میں پیش پیش رہی ہے۔ 

''بھارتیہ ہندو شدھی مہا سبھا'' نامی تنظیم کا بنیادی مقصد صاف اور واضح طور پر بتایا گیا کہ اس کا مقصد ہندو مذہب چھوڑ کر مسلمان ہونے والے لوگوں کو شدھی یعنی ''پاکیزہ'' کرنا اور انہیں دوبارہ ہندو مذہب میں داخل کرنا ہے۔ کہا گیا کہ مسلمان اور ان سے پہلے عیسائی اس خطے میں بعد میں آئے۔ اس سے قبل سارے لوگ تو ہندو تھے لہٰذا ان سب کو دوبارہ ہندو بنانا ضروری ہے۔ اس تحریک کو ہندو اکثریت کے خطے ہندو رہنماؤں کی بھرپور تائید حاصل ہوئی تو ہندوؤں نے غریب اور لاچار مسلمانوں کو دھونس اور دباؤ کے ساتھ پیسے کا لالچ دے کر ہندو بنانا شروع کر دیا۔ میو آبادی کا علاقہ میوات شدھی تحریک کا خاص نشانہ بنا۔

آر ایس ایس سربراہ نے گزشتہ دنوں کھل کر کہا ہے کہ جو لوگ بھی ''دھرم ''سے بھٹک گئے ہیں ہم انہیں واپس لائیں گے۔ اگر کسی شخص کو یہ پسند نہیں تو اسے روکنے کے لئے کوئی قانون بنائیں۔ ہم کسی کا مذہب تبدیل کرنے کے لئے باہر نہیں نکلے ہیں لیکن اگر ہندو تبدیلی نہیں لائیں گے تو ہندو دھرم کبھی نہیں بدلے گا۔جس وقت آر ایس ایس کے سربراہ نے یہ بیان دیا اسی وقت بھارتی ہندو تنظیم دھرم جاگرن سمیتی کے علاقائی صدر راجیشور سنگھ نے کہا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہمارے ملک میں رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ ہندوستان ہندوؤں کیلئے اور پاکستان مسلمانوں کیلئے ہے۔

 جب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی بائیں بازو کی اعتدال پسند جماعت کانگریس پارٹی کے دَس سالہ اقتدار کو ختم کرتے ہوئے اس سال مئی کے انتخابات کے نتیجے میں برسرِ اقتدار آئی ہے، بنسال جیسے کارکنوں کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔نئی دہلی کا ایک خوش و خرم جوڑا، روہنی کا تعلق ایک ہندو گھرانے سے ہے جبکہ طارق ایک مسلمان ہے، وہ دونوں ’لَوّ جہاد‘ کے بارے میں خبروں کو مبالغہ آمیز قرار دیتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -