اجازت ہو تو تھوڑا گھبرا لیں؟

اجازت ہو تو تھوڑا گھبرا لیں؟
اجازت ہو تو تھوڑا گھبرا لیں؟

  

تحریر: ثوبیہ عباس

وزیر اعظم صاحب کا ایک فقرہ ،گھبرانا نہیں ہے آفاقی حثیت حاصل کر چکا ہے ،پہلے پہل عوام کی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ اس جملے کا مفہوم کیا ہے اس لیے لوگ سمجھتے کہ خیر ہے ریاست تو ماں ہے اس لیے تشفی کے لیے کہتی ہے کہ گھبرانا نہیں ہے کوئی بات نہیں یہ مشکلات کا دور بھی گزر جاے گا ۔آخر ستر سال سے ملک مشکلات سے گزر رہا ہے ایک آدھ سال خان صاحب کو بھی دینے چاہیں ،پھر گھبرانا ہوا تو گھبرا لیں گے ،اب صورت یہ ہے کہ حکومت نے اپنے دو سال کی مدت پوری کر لی ہے لیکن عوام کنفیوژ ہے اور سمجھ نہیں پا رہی کہ مزید وقت دیں یا گھبرانے لگیں ،عوام تو خیر عادی ہے مگر شاید ارباب اختیار جوکہ حقیقی طور پر اختیارات کے مالک ہیں وہ کچھ گھبرانے لگے ہیں ۔لیکن عملی طور پر وہ بھی ابھی صم بکم کی تصویر ہیں ادھر عوام کی مشکلات کا زکر کریں تو انکے بنیادی مسایل بیروزگاری ،منہگائی ،بجلی کی عدم دستیابی جیسی مشکلات میں اضافہ ہی ہوا ہے اور ان سے نمٹنے کی کوی صورت نظر نہیں آتی نہ ہی حکومت کی طرف سے کوی اقدامات نظر آ رہے ہیں ۔

سندھ اور خصوصاً کراچی میں حالات نہایت دگرگوں ہیں جگہ جگہ گٹر ابل رہے ہیں اور بکروں ،گایوں کی باقیات سے مشام و جان معطر ہیں جبکہ عید گزرے بہت دن ہوے لیکن کراچی کے پسماندہ علاقوں میں قربان ہونے والے بکروں اور گایوں کی سریاں،بے نور آنکھوں سے اپنے ذبح کرنے والے کی جانب تک رہی ہیں کہ بندہ خدا ،ہر کام حکومت پر چھوڑنے کی بجاے کچھ خود کر لیا ہوتا تو آج ہمیں کسی گڑھے کی تنہائی تو مل جاتی مگر کیا کہیے کہ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ۔

عید کے بعد پنجاب جانا ہوا چھوٹے قصبوں اور دیہات میں بھی حالات بہت بہتر تھے کہیں کسی گاے یا بکرے کی باقیات نظر نہیں آئی نہ کوئی سڑے ہوئے ماس کی بساند نے دل متلایا ،اسکا کریڈٹ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو جاتا ہے جنہوں نے پنجاب کو اور پنجاب کے دیہات کو شہروں کے مقابلے پر کھڑا کیا ہے یہ الگ بات کہ لوگ انہیں شو بازی کے طعنے دیتے نہیں تھکتے ، ایسے لوگوں کو ہم کہیں گے کہ ذرا آپ کراچی کے پسماندہ علاقوں میں رہایش اختیار کر کے دیکھ لیجیے فرق پتہ چل جاے گا ۔

موجودہ حکومت کو ایک تیار نظام ملا ہے اگر چاہیں تو اس میں مزید بہتری لا سکتے ہیں "اگر چاہیں تو " ورنہ ہچکیاں لیتا نظام چل رہا ہے ،یہ چلتا رہے گا لیکن نئے پاکستان کے جو خواب عوام کو دکھائے گئے وہ پورے نہیں ہونگے ۔ہم پاکستانی بڑی ہی جذباتی قوم ہیں اور خصوصاٌ بہت جلد اپنے لیڈران پر ایمان کی حد تک یقین کر لیتے ہیں جبکہ وہ بھی ہم میں سے ہیں ہماری طرح خیر و شر کے پتلے ہیں ان سے بھی کوتاہیاں ہو سکتی ہیں اس لیے تھوڑا مارجن دینا چاہیے ،لیکن چونکہ ہم دو انتہاؤں کی سطح پر ہوتے ہیں لہذا کچھ خان صاحب کو وقت دینے کو تیار نہیں اور کچھ میاں صاحب کو ابلیس کا چیلا ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں ۔

عوام کی مشکلات تو اپنی جگہ ہیں لیکن یہ اچھی بات ہوئی ہے کہ مریم نواز نے اس جمود کو توڑا ہے جو اپوزیشن پر کافی عرصے سے چھایا ہوا تھا ملکی سیاست میں اس بہانے سے کچھ ہلچل تو ہو گی اگرچہ حکومت کی حرکت میں برکت ہے کیونکہ ملک کی باگ ڈور انکے ہاتھوں میں ہے ،حکومتی صفوں میں کشیدگی نظر آتی ہے خاص طور پر وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اور وزیر خارجہ کے مابین ہونے والی تلخی سے اسکا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

ہمارے درویش وزیر اعلیٰ جو کہ کم دکھائی دیتے اور کم ہی سنائی دیتے ہیں حسب روایت خود میں مگن ہیں ادھر پنجاب کی عوام طویل دورانیے کی لوڈ شیڈنگ سے بلبلا اٹھی ہے مگر اسکا سدباب تو دور کی بات ارباب بست و کشاد یہ ماننے کو بھی تیار نہیں کہ پنجاب میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ،وہ بھی اپنی جگہ بر حق ہیں کہ سدباب کس کا کریں جب لوڈ شیڈنگ ہو ہی نہیں رہی ،ایسے میں عوام کو ہمارا مشورہ ہے کہ ابھی سے مت گھبرائیے کہ بہت وقت پڑا ہے گھبرانے کو ،ابھی تو دو سال ہی گزرے ہیں ،اب یہ عوام کی صوابدید پر ہے کہ وہ ایسے مفت مشورے پر عمل کرتے ہیں یا نہیں ویسے تو ہم پاکستانیوں کا پسندیدہ کام ہی مشورہ دینا ہے کیونکہ اس پر کونسا خرچہ آتا ہے ،کیا خیال ہے؟

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -