اپراور لوئر دیر کی پسماندگی دور کی جائے، سمیع اللہ اخون خیل

اپراور لوئر دیر کی پسماندگی دور کی جائے، سمیع اللہ اخون خیل
اپراور لوئر دیر کی پسماندگی دور کی جائے، سمیع اللہ اخون خیل

  

دبئی (طاہر منیر طاہر) دیر اپرلوئر اور قرب و جوار کے متعدد علاقوں کا پاکستان کے ساتھ الحاق 1969 میں ہوا تھا۔ 50 سال گزر گئے اس علاقہ کے لوگوں کی حالت نہیں بدلی بلکہ پاکستان کی تمام سابقہ حکومتوں نے اس علاقہ کا خیال نہیں کیا جس کی وجہ سے دیر اور ملحقہ علاقہ جات دن بدن پسماندگی کی طرف جاتے رہے۔ آج پچاس سال گزر جانے کے بعد یہ حال ہے کہ دیر اور نواحی علاقہ جات میں نہ تو آمد و رفت کے لیے سڑکیں ہیں۔ تعلیم اور علاج معالجہ کی سہولتوں کا شدید فقدان ہے انڈسٹریز نہیں لگائی گئیں جس کی وجہ سے علاقہ میں بے روز گاری عام ہے۔ اور دور جدید کی سہولیات تو سرے سے ناپید ہیں۔ ان خیالات کا اظہار دیر شاہی خاندان کے ترجمان و جنرل سیکریٹری مجلس شوری سمیع اللہ خان اخون خیل نے ایک ملاقات کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقوں کی تاریخ 350 سال پرانی ہے جبکہ 1626 میں اخون الیاس نقشبندی ؒ کی دستار بندی کی گئی اور وہ قبیلہ کے پہلے سربراہ تھے ان کے بعد 14 حکمرانوں کو یکے بعد دیگرے ان علاقوں کی حکمرانی ملی۔ اسی علاقہ کے آخری نواب محمد شاہ جہاں خان تھے ان کے بیٹے کو بریگیڈیئر کا عہدہ دیا تھا اور بعدازاں دھوکے سے محمد شاہ جہاں کو اٹھا کر نظر بند کردیا گیا اور نظر بندی کے دوران ہی زبردستی ان سے اسٹامپ پیپرپر دستخط کروالیے گئے بعدازاں نظر بندی کے دوران ہی ان کا انتقال ہوگیا۔

نواب محمد شاہ جہاں کا دوسرا بیٹا محمد شہاب الدین خاں جنہیں خان آصف چترال بھی کہتے ہیں ساری عمر اپنی ریاست کو آزاد رکھنخے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ 1969 میں پاکستان کے ساتھ الحاق کے وقت اس علاقہ کی تعمیر و ترقی کے لیے وعدے تو بہت کیے گئے لیکن پورے نہیں کئے گئے۔سمیع اللہ خان اخون خیل نے حکومت پاکستان خصوصاً موجودہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اپرلویئر دیر چکدرہ اور باجوڑ روڈ کا سی پی منصوبہ بحال کیا جائے اور ان علاقوں کو بذریعہ روڈ آپس میں ملایا جائے۔ س علاقہ کے لوگوں کی جو حق تلفیاں ہوئی ہیں ان کا ازالہ کیا جائے۔ 350 سالہ تاریخ، کو مسخ ہونے سے بچایا جائے۔

اپرلوئر دیر کے لوگوں کو اس علاقہ کے بارے ہونے والے فیصلوں میں شامل رکھا جائے اور مشاورت کی جائے۔ بزرگوں کے قدیم قبرستان اور تاریخ مقامات کی حفاظت کی جائے اور سابقہ 14 حکمرانوں کے نام پر سڑکیں، اسکول، یونیورسٹیاں، اسپتال اور صنعتیں قائم و منسوب کی جائیں۔ قومی و بین الاقوامی سطح پر شاہی خاندان کی پوزیشن بحال کی جائے اور ہر جگہ مناسب نمائندگی دی جائے۔ پاکستان قومی دنوں کے موقع پر ہمارے علاقہ کے لوگوں کو دعوت و نمائندگی دی جائے۔ حکومت ضروری فیصلے کرتے وقت ہمارے عمائدین کے ساتھ مشاورت کرے اور اس علاقہ کی تعمیر و ترقی کے لیے خصوصی فنڈ و مختص کئے جائیں تاکہ اس علاقہ کے لوگوں محرومیوں اور حق تلفیوں کے چنگل سے باہر نکل سکیں۔

مزید :

تارکین پاکستان -